Book Name:Aaina e Qayamat

میں کچھ کچھ سپیدی ظاہرہوچلی ہے ،اندھیری رات کی تاریکی اپنادامن سمیٹناچاہتی ہے تمام شہر میں سناٹاہے ،نہ کسی بولنے والے کی آوازکان تک پہنچتی ہے ،نہ کسی چلنے والے کی پہچل سنائی دیتی ہے ،شہربھرکے دروازے بند ہیں ،ہاں خاندانِ نبوت کے مکانوں میں اس وقت جاگ ہو رہی ہے اورسامانِ سفر درست کیا جارہا ہے ، ضرورت کی چیزیں باہرنکالی گئی ہیں ،سواریاں دروازوں پرتیارکھڑی ہیں ،محمل کس گئے ہیں ،پردے کا انتظام ہوچکاہے،ادھرامام کے بیٹے،بھائی،بھتیجے،گھروالے سوارہورہے ہیں ادھر امام رضی اللہ تعالٰی عنہمسجدنبوی سے باہرتشریف لائے ہیں ، محرابوں نے سرجھکا کرتسلیم کی،میناروں نے کھڑے ہو کر تعظیم دی،قافلہ سالارکے تشریف لاتے ہی نبی زادوں کاقافلہ روانہ ہو گیاہے ۔

          مدینہ میں اہلِ بیت رضی اللہ تعالٰی عنہمسے حضرت صغریٰ امامِ مظلوم کی صاحبزادی اور جناب محمد بن حنفیہ مولیٰ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے باقی رہ گئے ۔

          اللہ اکبر! ایک وہ دن تھاکہ حضورسرورِعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے کافروں کی ایذا دہی اورتکلیف رسانی کی وجہ سے مکہ معظمہ سے ہجرت فرمائی۔ مدینہ والوں نے جب یہ خبر سنی ،دلوں میں مسرت آمیزاُمنگوں نے جوش مارا اورآنکھوں میں شادیٔ عید کا نقشہ کھنچ گیا ، آمدآمدکاانتظارلوگوں کوآبادی سے نکال کرپہاڑوں پرلے جاتا، منتظر آنکھیں مکہ کی راہ کو جہاں تک ان کی نظر پہنچتی ،ٹکٹکی باندھ کرتکتیں ،اورمشتاق دل ہرآنے والے کودورسے دیکھ کرچونک پڑتے ،جب آفتاب گرم ہوجاتا، گھروں پر واپس آتے ۔ اسی کیفیت میں کئی دن گزرگئے ،ایک دن اَورروز کی طرح وقت بے وقت ہو گیا تھا اورانتظارکرنے والے حسرتوں کو سمجھاتے ،تمناؤں کوتسکین دیتے پلٹ چکے تھے ،کہ ایک یہودی نے بلندی سے آوازدی’’اے راہ دیکھنے والو!پلٹو!تمہارا مقصودبرآیا اورتمہارا مطلب پوراہوا۔‘‘اس صداکے سنتے ہی وہ آنکھیں جن پرابھی حسرت آمیز حیرت چھاگئی تھی ،اشکِ شادی برسا چلیں ،وہ دل جو مایوسی سے مرجھا گئے تھے ،تازگی کے ساتھ جوش مارنے لگے ،بے قرارانہ پیشوائی کوبڑھے ،پروانہ وارقربان ہوتے آبادی تک لائے ،اب کیا تھاخوشی کی گھڑی آئی ،منہ مانگی مرادپائی، گھرگھر سے نغماتِ شادی کی آوازیں بلند ہوئیں،پردہ نشین لڑکیاں دف بجاتی، خوشی کے لہجوں میں مبارک بادکے گیت گاتی نکل آئیں :

طَلَعَ ([1])الْبَدْرُ عَلَیْنَا                                  مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعٖ

وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا                                    مَا دَعَا لِلّٰہِ دَاعٖ

    بنی نجار کی لڑکیاں گلی کوچوں میں اس شعرسے اظہارِ مسرت کرتی ہوئی ظاہر ہوئیں :

نَحْنُ([2]) جَوَارٍ مِنْ بَنِی النَّجَّارِ

یَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَار

غرض مسرت کا جوش تھا، درودیوار سے خوشی ٹپکی پڑتی تھی ،ایک آج کا دن ہے کہ امام مظلوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مدینہ چھوٹتا ہے،مدینہ ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب راحتیں، تمام آسایشیں ،ایک ایک کر کے رخصت ہوتی اور خیرباد کہتی ہیں۔ یہ سب درکنار، ناز اٹھانے والی ماں کاپڑوس،ماں جائے بھائی کاہمسایہ اور سب سے بڑھ کر امام رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اپنا بیٹا قربان کردینے والے جدِکریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کاقرب ،کیا یہ ایسی چیزیں ہیں جن کی طرف سے آسانی کے ساتھ آنکھیں پھیر لی جائیں ؟آسانی سےآنکھیں پھیرنی کیسی!اگرامام رضی اللہ تعالٰی عنہ کومدینہ نہ چھوڑنے پرقتل کردیا جاتا توقتل ہوجانا منظورفرماتے اورمدینہ سے باہر پاؤں نہ نکالتے ،مگر اس مجبوری کا کیا علاج کہ امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ناقہ کوقضا، مہارپکڑے اس میدان کی جانب لئے جاتی ہے، جہاں قسمت نے پردیسیوں کے قتل ہونے،پیاسوں کے شہیدکئے جانے کا سامان جمع کیاہے۔مدینے کی زمین جس پرآپ گھٹنوں چلے جس نے آپ کی بچپن کی بہاریں دیکھیں ،جس پرآپ کی جوانی کی کرامتیں ظاہر ہوئیں ، اپنے سرپر خاکِ حسرت ڈالتی اورپردیس جانے والے کے پیارے پیارے نازک پاؤں سے لپٹ لپٹ کر زبانِ حال سے عرض کر رہی ہے کہ اے فاطمہرضی اللہ عنہاکی گودکے سنگھار!کلیجے کی ٹیک !زندگی کی بہار!کہاں کا ارادہ فرما دیا؟ وہ کون سی سرزمین ہے جسے یہ عزت والے پاؤں جومیری آنکھوں کے تارے ہیں ،شرف بخشنے کاقصد فرماتے ہیں ؟               

 



[1]    یعنی وداع کے ٹیلوں سے ہم پر ایک چاند طلوع ہوا جب تک کوئی بلانے والا اللہ تعالٰی کی طرف بلاتا رہے گا ہم پر اس (چاند)کاشکر واجب ہے۔

[2]    ہم قبیلہ بنی نجار کی بچیاں ہیں حضرت سیدنا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیسے اچھے پڑوسی ہیں۔

کہ ہم ہیں بچیاں نجار کے عالی گھر انے کی                        خوشی ہے آمنہ کے لال کےتشریف لانے کی



Total Pages: 42

Go To