Book Name:Qabristan ki Churail

امیرِ اہلِسنّت اور قومِ جنات (حصّہ دوم)

 قبرِستان کی چُڑیل

 

 

پیش کش

مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )

(شعبہ اِصلاحی کتب )

ناشر

مکتبۃ المد ینہ باب المدینہ کراچی

پیش لفظ

     شَیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی ، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی ضیائی   دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ  شریعتِ مُطَہَرَّہ اور طریقتِ منوّرہ کی وہ یادگار سَلَف شخصیت ہیں جو کہ کثیرُالکرامات بُزُرگ ہونے کے ساتھ ساتھعِلماً وعَمَلاً، قو لاً و فِعلاً ، ظاہِراً وباطِناً اَحکاماتِ الہٰیہ کی بجاآوری اور سُنَنِ نَبَوِیَّہ کی پَیرَوی کرنے اور کروانے کی بھی روشن نظیر ہیں ۔ آپ اپنے بیانات ، تالیفات، ملفوظات اور مکتوبات کے ذریعے اپنے متعلقین و دیگر مسلمانوں کو اصلاحِ اعمال کی تلقین فرماتے رہتے ہیں ۔

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  آپ کے یکْ رنگ قابلِ تقلید مثالی کردار ، اور تابع شَرِیْعت بے لاگ گُفتار نے ساری دنیا میں لاکھوں مسلمانوں بالخُصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کردیا ہے۔

          چونکہ صالحین کے واقعات میں دلوں کی جِلا، روحوں کی تازگی اور فکرو نظر کی پاکیزگی پِنْہاں ہے۔ لہٰذا امّت کی اصلاح و خیر خواہی کے مقدس جذبے کے تَحت شعبۂ اصلاحی کتب(الْمدینۃُ الْعِلْمِیّۃ)نے امیرِ اَہلسنّت  دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ  کی حیاتِ مبارَکہ کے روشن اَبواب ، مثلاًآپ کی عبادات، مجاہَدات، اخلاقیات و دینی خدمات کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہر ہونے والی بَرَکات و کرامات اور آپ کی تصنیفات و مکتوبات ، بیانات و ملفوظات کے فُیوضات کو بھی شائع کرنے کا قَصْد کیا ہے۔

      اس سلسلے میں رسالہ امیرِ اَہلسنّت اورقومِ جنّات   ( حصّہ دُوُم)بنام’’ قبرِستان کی چڑیل ‘‘  پیشِ خدمت ہے۔ 

        شعبہ اصلاحی کُتُب  مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّۃ (دعوتِ اسلامی)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ  اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

شیطٰن لاکھ سستی دلائے مگر اس رِسالے کا اوّل تا آخِرضَرور مطالعہ فرمائیں

دُرُود شریف کی فضیلت

     عاشقِ اعلیٰ حضرت ، امیرِ اَہلسنّت، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی  دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہ  اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنقْل فرماتے ہیں ، ’’بروزِ قیِامت لوگوں میں سے میرے قریب تَر وہ ہوگا جس نے دنیا میں مجھ پر زیادہ دُرُودِپاک پڑھے ہونگے۔

 (سنن الترمذی، کتاب الوتر ، باب ماجاء فی فضل الصلوٰۃ علی النبی صَلَّی  اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، الحدیث۴۷۴، ج۲ ص۲۷ مطبوعہ ملتان)

صلّوا علَی الْحبیب!               صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد

قَبْرِستان کی چُڑیل

          حیدر آباد (بابُ الا سلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی نے کچھ اس طرح بتایا کہ ہمارا گھر قبرِستان کے اتنا قریب ہے کہ اگر کوئی اس کی چھت سے کوئی قبرِستان میں اترنا چاہے تو اتر سکتا ہے۔میرے چھوٹے بھائی (عمر تقریباً22برس)  کے ساتھ عجیب معاملہ پیش آیا ، اسی کا بیان کچھ اس طرح سے ہے :

          ’’ ایک رات جب گرمی کے باعِث گھر والے چھت پر آرام کررہے تھے۔ میری تقریباً2:00بجے شب آنکھ کھلی۔ اچانک میری نظر قبرِستان کی دیوار کے قریب ایک دَرَخت پر پڑی تو مجھے وہاں کسی کی موجودَگی کا احساس ہوا، میں چونک کر اُٹھ بیٹھا۔ ہر طرف خوفناک سناٹا چھایا ہوا تھا، ہوا کی سرسراہٹ، درختوں کے پتوں کی کھڑ کھڑاہٹ اور کتّوں کے بھونکنے کی آوازیں ماحول کو مزید وحشتناک بنا رہی تھیں ۔ بہرحالمیں نے جب قبرِستان کے درخت کی طرف غور سے دیکھا تو اس پر بیٹھی ہوئی سفید کپڑوں میں ملبوس ایک حسین و جمیل لڑکی میری جانب دیکھ کر مسکرارہی تھی۔میں نے اتنی حسین لڑکی زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔میں اُس کے حُسن میں ایسا گم ہوا کہ مجھے کسی چیز کا ہوش نہ رہا۔ میں اسی کیفیت میں اُٹھا اور چھت پر چلتے ہوئے اس دَرَخت کی طرف بڑھنے لگا۔ جوں ہی میں اس کے قریب پہنچا، یکایک وہ پُر اَسرار لڑکی غائب ہوگئی۔ اُس کے اِس طرح غائب ہوجانے کی وجہ سے مجھ پر شدید خوف طاری ہوگیا، میں ڈر کے مارے تھر تھر کانپنے لگا اور بالآخربے ہوش ہوگیا۔

          صبح گھر والوں نے مجھے سنبھالا۔ اب میری عجیب وغریب حالت ہوگئی۔مجھے اپنے آپ کا ہوش نہ تھا ، میرے گھر والوں کا کہنا ہے:’’ میں گھر سے بھاگنے کی کوشِش کرتا، بہکی بہکی باتیں کرتا، گھنٹوں چھت پربیٹھا رہتا، ڈاکٹر نیند کی دوا دیتے تو سوجاتا پھر جب بیدار ہوتا توپھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی۔ ‘‘ سارے گھر والے پریشان تھے کہ آخِر اچانک مجھے کیا ہوگیا ہے؟ اسی حالت میں کم و بیش 15دن گزر گئے ۔

 



Total Pages: 4

Go To