Book Name:Kia Kawwa Bolay To Musibat Aati Hai

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

کیا کوَّا بولے تو مصیبت آتی ہے ؟  [1]

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۵ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

      فرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم : قىامت کے روز اللہ پاک کے عرش کے سوا کوئى ساىہ نہىں ہوگا تىن شخص اللہ پاک کے عرش کے سائے مىں ہوں گے عرض کى گئى : یَارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!ىہ کون لوگ ہوں گے ؟ ارشاد فرماىا : پہلا  وہ شخص جو مىرے امتى کى پرىشانى دور کرے ، دوسرا  سنت کو زندہ کرنے والا، اور تیسرا مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھنے والا ۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

کیا کوَّا بولے تو مصیبت آتی ہے ؟

سُوال : ہمارے گھر کی گیلری میں روزانہ دو کوے لوہے کے تار لیکر آتے ہیں اور اس سے کچھ بناتے ہیں، اگر کوئی ان کو ہٹانے کی کوشش کرے تو یہ اس پر حملہ کردیتے ہیں اور زور زور سے چیخنے لگتے ہیں ۔  پہلے بھی ایسا ہوا تھا اور میری والدہ بیمار پڑگئیں تھیں اور اب پھر اس طرح ہوا ہے اور میرے والد صاحب بیمار ہوگئے  ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ لوگ کہتے ہیں کوّا شیطانی مخلوق ہے اس کو نہیں ہٹانا چاہیے ، اب ہم کیا کریں آپ اس کا کوئی حل ارشاد  فرمادیجیے ؟(باب المدینہ کراچی سے سُوال)

جواب : کوَّا شیطانی مخلوق نہیں ہے البتہ اس کو شرعی اصطلاح میں فاسق کہا جاتا ہے ۔ ([3]) بہرحال اللہ پاک بہتر جانتا ہے کہ آپ کے والدین واقعی ان کوّوں کی وجہ سے بیمار ہوئے ہیں یا یہ اتفاقی بیماری ہے یا پھر نفسیاتی اثر کی وجہ سے  دل پر یہ بات لے لی کہ اب یہ کوّے آگئے ہیں یقیناً کسی نے جادو کروایا ہوگا جس کی وجہ سے ہم بیمار ہوگئے وغیرہ ۔ آپ دعوتِ اسلامی کی مجلس تعویذاتِ عطاریہ کے تحت لگنے والے بستے سے اس مسئلے کے حل کے لیے تعویذات لیجیے گھر میں لٹکائیے اور امی ابو  بلکہ گھر کے سارے افراد پہن بھی لیں ۔ اللہ پاک اس مصیبت سے آپ  کو نجات عطا فرمائے ۔ ([4])

جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کا مصافحہ فرمانا

سُوال : سناہے جب لَیْلَۃُ الْقَدْر ہوتی ہے تو حضرتِ سَیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامبعض خوش نصیبوں سے مصافحہ فرماتے ہیں، آپ اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں؟

جواب : جی ہاں! جو خوش نصیب اس رات عبادت میں مشغول ہوتا ہے حضرتِ سَیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اس سے مصافحہ فرماتے ہیں مگر مصافحہ کرنے کی کیفیت ایسی نہیں ہوتی جیسے ہم آپس میں ہاتھ ملاتے ہیں ۔ جس خوش نصیب سے یہ مصافحہ ہوتا ہے بعض اوقات اس پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ([5])  لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کو معلوم ہوجائے کہ مجھ سے حضرتِ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے مصافحہ کیا ہے ۔ نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ صرف حضرتِ جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ہی مصافحہ کریں بلکہ دیگر فرشتے بھی مصافحہ کرسکتے ہیں ([6])مثلاً کوئی شخص لَیْلَۃُ الْقَدْر میں نوافل میں مشغول ہو یا دُرودِ پاک پڑھ رہا ہو یا دعا مانگ رہا ہو یا پھر کسی علمِ دین کی مجلس میں موجود ہو کہ یہ بھی ایک عبادت ہی ہے اور اس دوران اس سے یہ مصافحہ ہوجائے بہرحال جس سے بھی یہ مصافحہ ہوتا ہے واقعی اس کے لیے سعادت کی بات ہے البتہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ 27ویں شب ہی لَیْلَۃُ الْقَدْر ہو  یہ بات سو فیصد نہیں کہی جاسکتی ۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو الحسن عراقی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ اگر فلاں دن پہلا روزہ ہوا تو شب قدر فلاں دن ہوگی جیسے فرمایا کہ اگر منگل کو پہلا روزہ ہوا تو لَیْلَۃُ الْقَدْر 27ویں شب ہوگی وغیرہ ۔ ([7])ان کے علاوہ دیگر کئی بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ کے اقوال موجود ہیں کہ 27ویں شب ہی لَیْلَۃُ الْقَدْر ہے ۔

بُزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ کو شبِ قدر کا علم ہوجاتا تھا

 



[1]    یہ رِسالہ ۲۷رَمَضَانُ الْمُبَارَک ۱۴۴۰؁ھ بمطابق01 جون  2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)

[2]   بدور السافرة، باب الاعمال الموجبة لظل العرش و الجلوس... الخ، ص۱۳۳۱، حدیث : ۳۳۶۶ مؤسسة الکتب الثقافیة بیروت

[3]    بخاری، کتاب جزاء الصید، باب ما یقتل المحرم من الدواب، ۱ / ۲۰۴، حدیث : ۱۸۲۹ماخوذاً دار الکتب العلمية بیروت

[4]   حضرتِ سید نا امام محمد آفندی رُومی بِرکلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  لکھتے ہیں  : بَدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مُسْتَحَب ہے ۔ (اَلطَّرِیْقَۃُ الْمُحَمَّدِیَۃ الخلق الخامس والعشرون التطیر والطیرۃ، ۳ / ۱۸۹-۱۷۵ دار الکتب العلمیة بیروت) اگر کسی نے بَدشگونی کا خیال دل میں  آتے ہی اسے جھٹک دیا تو اس پر کچھ اِلزام نہیں  لیکن اگر اس نے بَدشگونی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھا اور اِسی اعتقاد کی بنا پر اس کام سے رُک گیا تو گناہ گار ہوگا مثلاً کسی چیز کو منحوس سمجھ کر سفر یا کاروبار کرنے سے یہ سوچ کر رُک گیا کہ اب مجھے نقصان ہی ہوگاتو اب گنہگار ہوگا ۔ بدشگونی کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے ادارے مکتبۃ المدینہ کی 127 صفحا ت پر مشتمل کتاب ”بدشگونی“  کا مطالعہ کیجئے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[5]    شعب الایمان، باب الصیام، فصل فی لیلة القدر، ۳۳ / ۳۳۴۳۳، حدیث : ۳۳۷۱۷ ماخوذاً  دار الکتب العلمیة بیروت

[6]    شعب الایمان، باب الصیام، فصل فی لیلة القدر، ۳۳ / ۳۳۳۳۵، حدیث : ۳۳۶۹۵ ماخوذاً

[7]    نزهة المجالس، باب فضل رمضان و الترغیب...الخ، فصل فی لیلة القدر و بیان فضلھا، ۱ / ۲۲۳۳ ماخوذاً دار الکتب العلمیة بیروت



Total Pages: 6

Go To