Book Name:Namaz-e-Jumma Na Milay To Kon Si Namaz Parheen

یہاں بھی عطر لگاتے ہوئے دیکھا ہے جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اکثریت عطر لگواتی ہے تو جس کو عطر موافق نہ ہو یا وہ نہ لگوانا چاہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لے ۔

نئے نوٹ زیادہ رَقم دے کر خریدنا کیسا؟

سُوال:نئے نوٹ پرانے نوٹوں کے بدلے میں کمی زیادتی کے ساتھ خریدنے کا کیا حکم ہے کیا یہ سود ہے ؟

جواب:ایک نشست میں لین دین ہو تو جائز ہے جیسے 100 کا نوٹ چمکتا ہوا لیا اور اس کے عوض 101 روپے اسی مجلس میں دے دئیے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ قانوناً جُرم نہ ہو، اگر قانوناً جُرم ہے تو بچنا چاہیے ۔

کیا مُردوں کو اِیصالِ ثواب پہنچتا ہے ؟

سُوال:اگر ہم کسی بزرگ کی وفات کے بعد انہیں اِیصالِ ثواب کریں تو کیا ان کو معلوم ہوتا ہے اور وہ ہمارے لیے دُعا کرتے ہیں جیسے دُنیا میں ہمارے لیے دُعا کرتے تھے ؟(سوشل میڈیا  کے ذَریعے سُوال)

جواب:بزرگ ہو یا غیر بزرگ مسلمان کو جب بھی اس کا کوئی عزیز وغیرہ اِیصالِ ثواب کرتا ہے تو اس کو پتا چل جاتا ہے  کہ فلاں کی طرف سے مجھے یہ تحفہ بھیجا گیا ہے اور یوں اس کو خوشی ہوتی ہے ۔ البتہ دُعا کرتے ہیں یا نہیں اس کا مجھے یاد نہیں اور اس حوالے سے کہیں کچھ پڑھا بھی نہیں ۔

فوت شُدہ کی ایک نماز کا فدیہ کتنا ہوتا ہے ؟

سُوال: کسی فوت شُدہ مسلمان کے روزے رہ جائیں تو اس کے ایک روزے کا فدیہ 100روپے یعنی  ایک صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے اگر کسی کی نمازیں رہ جائیں تو اس کی نمازوں کا بھی یہی فدیہ ہو گا؟ (ریکارڈ شدہ سُوال)

جواب:100روپے یہ صرف اس سال یعنی ۱۴۴۰ سن ہجری کے رَمَضَانُ الْمُبَارَککے لیے ہے بلکہ اس میں بھی اِحتیاطاًتاریخ بتانی چاہیے کہ آج کی تاریخ کا فدیہ 100روپے ہے کیونکہ کل گندم کی قیمت میں اِضافہ ہو گیا تو صدقۂ فطر کی رقم بھی بڑھ جائے گی جیسے 125 یا 110روپے ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں اسی وجہ سے عُلَمائے کِرام ایک مَخْصُوْص رقم بیان  کر دیتے ہیں ۔ ورنہ اصل صدقۂ فطر دو کلو میں 80 گرام کم گندم یا اس کی قیمت ہے ۔ ([1]) یوں ہی(چار کلو میں 160 گرام کم ) کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت سے بھی صَدقۂ فطر دیا جا سکتا ہے ۔  

       بہرحال فوت شُدہ شخص کے ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے اس کی اَدائیگی کے بعد اللہ پاک کی رَحمت سے اُمید کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک کرم فرمائے گا ۔ نیز فوت شُدہ کی ایک فرض نماز کا فدیہ بھی صدقۂ فطر کے برابر ہوتا ہے ۔ یاد رَکھیے ! نمازِ عشا کے دو فدیے ادا کیے جائیں گے ایک فرض نماز کااور ایک وتر کا ۔ ([2])

کیا زکوٰۃ صِرف رقم سے ہی ادا ہوتی ہے ؟

سُوال:میرے پاس گھر میں زیورات ہیں جن کی زکوٰۃ کی رقم 9925 روپے بن رہی ہے حالانکہ میری کل تنخواہ ہی 14000 روپے ہے میں اِس حوالے سے کیا کروں میری اتنی تنخواہ نہیں ہے اگر یہ زکوٰۃ میں دے دی تو میرے پاس کوئی خاص رقم نہیں بچے گی؟(ریکارڈ شُدہ سُوال) جواب: زکوٰۃ دینا فرض ہے اگر سونے کی مقدار زیادہ ہے تو سونا بھی زکوٰۃ  میں دیا جا سکتا ہے یوں ہی کپڑے اور اناج بھی زکوٰۃ  میں دیئے جا سکتے ہیں ۔ یاد رَکھیے ! زکوٰۃ  فرض ہے اور ادا کرنا لازم ہے ، نہیں دیں گے تو گناہ گار ہوں گا ۔ جب اللہ پاک کی راہ میں یہ مال خرچ کریں گے تو وہ اس میں بَرکت دے گا اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ  تنخواہ بڑھ جائے گی بلکہ اپنا کاروبار ہو جائے گا ۔ اس میں سلامتی کی راہ یہ ہے کہ پیشگی(یعنی ایڈوانس )سارا سال تھوڑی تھوڑی رَقم زکوٰۃ کی مد میں دیتا رہے اس طرح زیادہ رقم بھی ایک ساتھ نہیں دینا پڑے گی اور بآسانی زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی ۔

جماعت میں مقتدی تکبیرِ قنوت کہہ کر رُکوع میں چلا جائے تو؟

سُوال:اگر امام وتر کی نماز پڑھاتے ہوئے تکبیرِ قبوت کہے اور مقتدی رُکوع میں چلے جائیں تو کیا رُکوع سے واپس آکر دُعائے قنوت پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اِنفرادی طور پر وتر پڑھنے میں ایسا ہو تو رُکوع سے واپس آکر قنوت پڑھنے کی اِجازت نہیں ہوتی؟(ریکارڈ شُدہ سُوال)

جواب:امام کی پیروی واجب ہے ([3])لہٰذا مقتدی رُکوع میں چلا گیا ہو تو واپس آجائے اور امام کے ساتھ دُعائے قنوت پڑھے ۔

زکوٰۃکس کو دی جائے ؟

سُوال:زکوٰۃ  کس کو دی جا سکتی ہے ؟ میں نے سنا ہے اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہو تو اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے  حالانکہ میں نے ایسی بیوہ خواتین کو دیکھا ہے جن کی بیٹیاں بھی ہوتی ہیں اور پندرہ بیس ہزار مہینے کا آتا ہے اسی پر بمشکل گزارہ کر رہی ہوتی ہیں ۔ (ریکارڈ شُدہ سُوال)

جواب:زکوٰۃ  اسے دی جاتی ہے جو شرعی طور پر فقیر ہو اور ہاشمی نہ ہو ۔ ([4]) چودہ یا پندرہ ہزار ماہانہ آتا ہے اور ایک تولہ سونا موجود ہے ان چیزوں کا دیکھنا ضَروری نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے ان کے پاس ایک تولہ سونا تو ہو مگر یہ اس سے زیادہ کی مقروض ہو تب بھی وہ شرعی فقیر کے تحت آئے گی ۔



[1]    فتاویٰ رضویہ، ۱۰ / ۲۹۵ ماخوذاً-تحقیقات امام علم و فن، ص۲۱۳ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف

[2]    درمختار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲ / ۶۴۳ ماخوذاً

[3]    جو چیزیں فرض و واجب ہیں مقتدی پر واجب ہے کہ امام کے ساتھ انھيں ادا کرے ۔ (بہارِ شریعت، ۱ / ۵۱۹، حصہ:۳)

[4]    درمختار، کتاب الزکاة، ، ۳ / ۲۰۳-۲۰۶ ماخوذاً



Total Pages: 8

Go To