Book Name:Namaz-e-Jumma Na Milay To Kon Si Namaz Parheen

کرتے تو فطرہ کیوں ادا کرتے ہیں؟(ریکارڈ شدہ سُوال)

جواب:صَدقۂ فطر نہ رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں واجب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے آخری عشرے میں واجب ہوتا ہے بلکہ صدقۂ فطر عیدُ الفطر کی صبحِ صادق کے وقت مالکِ نصاب پر دِیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اَولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہوتا ہے اس کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ہے ۔ ([1])

(امیرِ اہل سنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب تشریف فرما  مفتی صاحب نے فرمایا:) زکوٰۃ اور صَدقۂ فطر کے نصاب میں فرق ہے ، صدقۂ فطر کے لیے مالِ نامی جیسے سونا، چاندی یا مالِ تجارت ہونا شرط نہیں ہے بلکہ کسی کے پاس اس کے علاوہ بھی ضَرورت سے زیادہ سامان ہو جو ساڑھے باون تولے چاندی کی رَقم کو پہنچ جائے تو اس پر اگرچہ زکوٰۃ  فرض نہیں ہے مگر صدقۂ فطر واجب ہے ۔ ([2]) جیسے کسی کے پاس فالتو کپڑے ہوں یا ضَرورت سے زیادہ موبائل فون یا گھڑیاں ہوں یوں ہی جوتوں کے ڈھیر پڑے ہوں جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر کی رقم کے ہوں تو اس پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہوگا ان چیزوں کی وجہ سے زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی جبکہ اس کے علاوہ مالِ نامی نصاب کے برابر اور حاجتِ اصلیہ سے زائد نہ ہو ۔

(امیرِ اہل سنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)اگر کسی کے پاس اس طرح کا سامان ضرورت سے زیادہ ہو کہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی اور وہ نصاب کے برابر ہوجائے تو یہ شخص زکوٰۃ لینے کا بھی مستحق نہیں ہو گا یعنی اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی ۔ ([3]) بعض اوقات لوگ خود کو فقیر کہہ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کے گھر میں ایک سے ایک ڈیکوریشن کی چیزیں ہوتی ہیں جو بالکل بھی ان کی ضَرورت کی نہیں ہوتیں اور وہ فقیر شرعی کی تعریف پر پورا نہیں اُتر رہے ہوتے ۔ یوں ہی بیوہ عورت ہوتی ہے اس کے پاس نصاب کے برابر سونا ہوتا ہے اس کے باوجود وہ یہ کہہ کر زکوٰۃ لے رہی ہوتی ہے کہ میں کماتی نہیں ہوں حالانکہ ایسی عورت کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ  لینے کے بجائے اپنی زکوٰۃ  ادا کرے ۔ نیز زکوٰۃ  دینے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی عورت کو ہرگز زکوٰۃ  نہ دیں کیونکہ بیوہ ہونا مستحق ہونے کی دَلیل نہیں ہے ، کئی شادی شُدہ خواتین مستحقِ زکوٰۃ  ہوتی ہیں ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ۔

مُسافر جان بوجھ کر روزہ توڑ دے تو کیا حکم ہے ؟

سُوال:اگر کوئی مُسافر دَورانِ سفر ویسے ہی یا پیاس کی شِدَّت کی وجہ سے روزہ توڑ دے تو اس پر صرف قضا ہوگی یا کفارہ بھی لازم آئے گا؟(ریکارڈ شدہ سُوال)

جواب:شرعی مُسافر ہے تو صِرف قضا لازم ہو گی ۔ ([4])

کیا امام صاحب کے مصلے پر پاؤں رکھنے سے اَعمال بَرباد ہو جاتے ہیں؟

سُوال:سنا ہے امام صاحب کے مصلے پر بِلاضَرورت پاؤں رکھنے سے ساری زندگی کے اَعمال بَرباد ہو جاتے ہیں کیا اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے ؟(SMSکے ذَریعے سُوال)

جواب:اِس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ ایسی باتیں نہ کی جائیں اور نہ ایسا عقیدہ رکھا جائے کیونکہ یہ سب عوامی باتیں ہیں ۔ امام صاحب کی غیر موجود گی میں مؤذن صاحب جو نائب امام ہوتے ہیں وہ نماز پڑھائیں گے تو مصلے پر پاؤں تو رکھیں گے ۔

اِجتماع گاہ میں خوشبو کا چِھڑکاؤ کرنا کیسا؟

سُوال:جمعہ اور عیدین کے دِن مَساجد میں بعض لوگ خوشبو کا چِھڑکاؤ کرتے ہیں اور جہاں سے گزرتے ہیں لوگ انہیں رقم دیتے ہیں کوئی 10 روپے  دیتا ہے تو کوئی20 روپے  تو کوئی 50روپے دے دیتا ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟(ریکارڈ شدہ سُوال)

جواب:یہ نئی بات سنی ہے کہ ایسا بھی ہو رہا ہے ۔ بہرحال یہ چھڑکاؤ کرنے والا رَقم لے یا نہ لے اِس طرح سب پر خوشبو چھڑکنا دُرُست نہیں ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کسی کو اس سے الرجی ہو اوروہ اس سے تکلیف محسوس کرے ، پھر اس طرح چھڑکنے میں پرفیوم کا قطرہ کسی کی آنکھ میں چلا گیا تو وہ آزمائش میں آجائے گا ۔ رہی بات رقم دینے کی تو اگر کوئی اس کے مطالبے کے بغیر اپنی خوشی سے رقم دے دے تو کوئی حرج نہیں اور اگر یہ طے ہے کہ خوشبو چھڑکنے والے کو رَقم دینی ہو گی نہ دینے پر یہ بُرا بھلا کہے گایہ دُرُست نہیں اور طعن و تشنیع سے بچنے کے لیے کچھ رَقم دی تو یہ رِشوت ہو گی اس میں اگرچہ دینے والا تو گناہ گار نہیں ہو گا کہ اس نے شر سے بچنے کے لیے رِشوت دی ہے لیکن لینے والا ضَرور گناہ گار ہو گا ۔ یہ چِھڑکاؤکرنے کا رَواج ختم ہونا چاہیے ۔ یاد رَکھیے !کسی بھی اِجتماعِ ذِکر و نعت یا جلسوں میں اس طرح خوشبو کا چِھڑکاؤ لوگوں کی تکلیف کاباعث ہوتا ہے ۔  ہو سکتا ہے جو ایسا کرتے ہیں وہ اس کو ثواب سمجھتے ہوں ۔ پھر فضا میں چھڑکاؤ کرنا الگ ہے اور کسی بندے پر چھڑک دینا الگ، لیکن جب  فضا میں چِھڑکاؤ کریں اس وقت بھی یہی خیال رکھیں کہ لوگوں پہ آ کر نہ گرے ۔ بہرحال بہتر یہی ہے کہ اس کے علاوہ بہت سارے کرنے والے کام ہیں وہ کیے جائیں اس میں وقت ضائع نہ کیا جائے ۔ کرنے والے کام کرو ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں جا پڑو گے ۔

نمازیوں کو عطر لگانے سے متعلق مَدَنی پُھول

سُوال: بعض اسلامی بھائی عین نماز سے پہلے دوسروں کو عطر لگانا شروع کر دیتے ہیں، وہ عطر کبھی موافق ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا، بعض اوقات عطر کی کوالٹی میں بھی فرق ہوتا ہے اِس حوالے سے مَدَنی پُھول عطا فرمادیجیے ۔

جواب:یہ عمل مَشائخ کے یہاں دیکھا ہے لوگ لگا رہے ہوتے ہیں اس میں یہی سمجھ آتا ہے کہ اگر عطر موافق نہ ہو تو خود منع کر دے ۔ میں نے سیدی قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد قادری مدنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے یہاں دیکھا ہے کہ لوگ عطر لگا رہے ہوتے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی وفات کے بعد جانشینِ قطبِ مدینہ حضرت  مولانا حافظ فضل الرحمٰن قادری مَدَنی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کے



[1]    فتاویٰ ھندية، کتاب الزکاة، الباب الثامن فی صدقة الفطر ، ۱ / ۱۹۲ ملتقطاً دار الفکر بیروت

2    درمختار، کتاب الزکاة، باب صدقة الفطر، ۳ / ۳۶۵   ماخوذاً  دار المعرفة بیروت

[3]    ردالمحتار، کتاب الزکاة، مطلب فی زکاة ثمن المبیع وفاء، ۳ / ۲۱۸ ماخوذاً دار المعرفة بیروت

[4]    فتاویٰ ھندية، کتاب الصوم، الباب الخامس فی الاعذار التی تبیح الافطار، ۱ / ۲۰۶ 



Total Pages: 8

Go To