Book Name:Namaz-e-Jumma Na Milay To Kon Si Namaz Parheen

ہر دَوا مىں نہىں ڈالے جاتے اور ہر ڈاکٹر اور ہر حکیم اىسى چىزىں دىتا ہو ىہ ضَرورى نہىں ہے جىسا کہ ابھی مىں نے خوفِ خُدا والے حکىم صاحب کے بارے میں  بتاىا تو اِسی طرح اور بھى خوفِ خُدا والے حکىم اور ڈاکٹر آپ کو  ملىں گے جو مریضوں کو اىسى چىزىں نہىں دىتے ہوں گے ۔

بیماریوں میں تحقیق کر کے دَوا اِستعمال کرنے کا ذہن کیسے بنائیں؟

سُوال: اىک تو اتنى بىمارىاں اور تکلىفىں ہوتی ہیں اور پھر دَوا بھى پئىں تو پہلے  تحقىق کرىں تو یوں تحقیق کرنے کا ذہن کس طرح بنے گا؟ (رُکنِ شُوریٰ کا سُوال )

جواب:مىں نے تو مشورہ دىا ہے کہ دَوا کے بارے میں  کسى خوفِ خُدا والے ڈاکٹر یا حکىم سے پوچھ لىں اور پھر اِستعمال کریں ۔ اچھا مشورہ دىنے والے ڈاکٹر اور حکیم بھى موجود ہىں ورنہ  اگر سب ہی مریضوں کا گلا گھونٹ رہے ہوتے تو دُنىا  پلٹ جاتی اور  عجىب سى ہو جاتی تو یوں اچھے اچھے ڈاکٹر بھی موجود ہیں اگرچہ ان کی تعداد کم ہے مگر ڈھونڈنے سے سب کچھ مل جاتا ہے ۔ ڈاکٹروں کی ایک تعداد ہے جو اچھے مشورے دىتی  ہے اور بعض اوقات آپرىشن کا بھى آپشن ہوتا ہے لىکن اس  کے باوجود ڈاکٹر خود ہى آپریشن کرنے سے منع کر دىتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم آپرىشن کے بجائے   دَواؤں کے ذَرىعے آپ کا  مسئلہ حل کر دیں گے حالانکہ  آپرىشن کا خرچہ  لاکھ (100000)روپىہ ہوتا  ہے جبکہ دَواؤں مىں دس ہزار(10000) تو اِس طرح ڈاکٹر  اپنى فىس 200، 500 یا  1000 روپے لے کر لاکھ(100000)روپے والا آپرىشن چھوڑ دیتے  ہیں ۔ جو ڈاکٹر  لوگوں کى جانوں سے نہىں کھىلتے اور  صحىح مشورہ دىتے ہىں اللہ پاک اىسے ڈاکٹروں  کو اور بَرکت دے ۔ ڈاکٹروں کو یہ سوچنا ہو گا کہ آج ىہ نوجوان علاج کے لے آىا ہے تو اگر کل اس کی جگہ مىرا بىٹا آ گیا تو کىا مىں آپریشن کے لیے  اس پر بھی  چُھرى چلا دوں گا تو یوں انہیں اللہ پاک سے ڈرنا چاہىے ۔

تَراویح کى رَکعتوں کى گنتى کے لیے تسبىح کا اِستعمال کیسا؟

سُوال: کىا تَراوىح کى رَکعتوں کى گنتى کے لىے تسبىح کا اِستعمال جائز ہے ؟

جواب:تَراوىح کى رَکعتوں کى گنتى کے لىے اپنے پاس  تسبیح  رکھ سکتے ہیں ۔ مىں بھى کھجور کے دس بىج اپنے پاس رکھتا ہوں اور دو دو رَکعت پڑھ کر اىک اىک بىج ہٹاتا رہتا ہوں تاکہ گنتى بھول نہ جائے تو یوں اپنے پاس تسبیح رکھنے میں کوئى حَرج نہىں ہے ۔ میں بیج  ہاتھ مىں نہىں رکھتا سائىڈ مىں رکھتا ہوں اور یہ میرا  بَرسوں سے معمول  ہے کیونکہ حفاظتی اُمور کے مَسائل کی وجہ سے میں  عوام مىں تَراوىح نہىں پڑھ  سکتا ۔  

قرآن ِکریم قبرستان لے جا نے میں حرج نہیں

سُوال:کىا اِىصالِ ثواب کے لىے قرآن ِکرىم قبرستان لے جا کر پڑھ سکتے ہىں؟

جواب:اِىصالِ ثواب کے لىے قرآن ِکرىم قبرستان لے جا کر پڑھنے میں کوئى حَرج نہىں ہے ۔

مکروہ وقت کے عِلاوہ کسى بھى وقت اِحرام کے نفل پڑھے جا سکتے ہیں

سُوال:کىا اِحرام باندھنے کے بعد نفل کسى بھى وقت ادا کىے جا سکتے ہیں ؟

جواب:جب اِحرام والی چادرىں لپیٹ لیں تو اِحرام کی  نىت کرنے سے پہلے دو رَکعت نماز نفل پڑھ لیں اور اگر  کسی نے دو رَکعت نہیں پڑھیں اور اِحرام کی نیت  کر کے لَبَّیْک کہہ لیا تو نیت ہو جائے گی ۔ اِحرام کى چادرىں اوڑھ کر جو دو رَکعت نفل نماز پڑھى جاتى ہے یہ سنَّت ہے ([1]) لہٰذا پڑھنى چاہىے مگر مکروہ وقت میں نفل پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ بعض اوقات اىسا ہوتا  ہے کہ کوئی عمرہ کرنا چاہتا ہے  لیکن مکروہ وقت ہوتا ہے مثلاًصبح صادق ہو گئی اور اب کوئی اِحرام باندھ کر جلدی جلدی عمرہ کرنا چاہتا ہے تو وہ  صبحِ صادق کے بعد نفل نہیں پڑھ سکتا  لہٰذا بغیر نفل پڑھے بھی اِحرام کی نیت کرنے میں کوئی مُضایقہ نہیں ہے ۔ مکہ شریف  میں رہنے والوں کو یہ صورت پیش آتی رہتی ہے ۔  

گھر کو امن کا گہوارہ بنانے کا طریقہ

سُوال: جو خاوند اپنى بىوى سے چھوٹى چھوٹى بات پر ناراض ہو جاتے ہىں ان کے لىے کچھ  مَدَنى پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔  (SMS کے ذَریعے سُوال)

جواب:خدا جانے وہ چھوٹی چھوٹی  باتىں کس طرح کى ہىں مثلا ًشوہر آىا بىوى نے کچھ بھى نہىں کہا اور خالى منہ پھلا لىاتو  اب ىہ چھوٹى بات ہے یا  بڑى بات ؟ وہ تھکا ہارا آىا تو اسے کچھ دلاسے کى ، تسکىن کى اور پانى کا گلاس پىش کرنے کى حاجت ہے جبکہ  بىوى اس کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کے بجائے  منہ پھلا کر بىٹھى ہوئى ہے تو منہ پھلا کر بیٹھ جانا اگرچہ بات چھوٹی ہے لیکن اس سے شوہر کی کھوپڑی گھوم سکتی ہے تو یوں بعض اوقات وہ بات جس  کو ہم چھوٹى سمجھتے ہىں شوہر  کے نزدىک وہ بڑى ہوتى ہے ۔ یاد رَکھیے !بات  بڑى ہو ىا چھوٹى ، ظلم سے سب کو بچنا ہے  اور اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لىے سب کو اپنے اندر  قوتِ بَرداشت کو پىدا کرنا ہے ،  نہ بىوى کو لڑائی جھگڑے کا  موقع دىنا چاہىے اور نہ شوہر کو بات بات پر گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا روپ دھارنا چاہىے ۔

وزن کے حساب سے عطر بیچنا کیسا؟

سُوال:عطر بیچنے والے عطر چیک کروانے کے لیے عطر  کی شیشی سے  کئى کئى لوگوں کے ہاتھوں پر عطر لگاتے ہیں تو  اس طرح اس مىں سے کچھ عطر کم بھى ہو جاتا ہے تو  کیا اس طرح کچھ کم وزن والی  شیشی کو پورا وزن بتا کر بىچنا دُرُست ہے ؟

جواب: اس طرح کا عُرف تو ہے کہ عطر بیچنے والے  وزن کا کہہ کر نہىں دیتے بلکہ اس طرح بیچتے ہیں کہ ىہ بوتل اتنے کى ہے لىکن وزن کا کہہ  کر بھی عطر بیچتے ہىں مثلاً پہلے تولے کے حساب



[1]    فتاویٰ رضویہ، ۱۰ / ۷۸۱



Total Pages: 8

Go To