Book Name:Namaz-e-Jumma Na Milay To Kon Si Namaz Parheen

جواب:حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے رِواىت ہے کہ جب نبىٔ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مَکَّۂ مُکَرَّمَہ مىں فتح کے دِن داخل ہوئے تو کعبۂ مُقَدَّسہ کے گِرد 360 بُت نصب کىے ہوئے تھے ان بتوں کو لوہے اور رانگ  سے جوڑ کر مضبوط کىا گىا تھا ۔ سىدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک ہاتھ مىں اىک لکڑى (Stick)تھى، حضورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ىہ مُبارَک آىت)وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱)((پ۱۵، بنٓی اسرآئیل:۸۱) ترجمۂ کنز الایمان: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مِٹ گیا بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا ۔ پڑھ کر اس لکڑى سے جس بُت کى طرف اِشارہ فرماتے جاتے وہ گِرتا جاتا تھا ۔ ([1])پھر رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان بتوں کو جو عىن کعبے کے اندر تھے سب کو نکالنے کا حکم فرماىا ۔ جب تمام بتوں سے کعبۂ مُشَرَّفہ پاک ہو گىا تو رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرتِ سَیِّدُنا اُسامہ بِن زىد، حضرتِ سَیِّدُنا بلال اور حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم کو ساتھ لے کر خانۂ  کعبہ کے اندر تشرىف لے گئے اور تمام گوشوں ىعنى کعبہ شریف کے تمام کونوں پر تکبىر پڑھى اور دو  رَکعت نمازبھى ادا فرمائى ۔ ([2])

تم سے کعبے کی کنجی لینے والا ظالم ہو گا

جب آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کعبۂ مُعَظَّمہ سے باہر تشرىف لائے تو حضرتِ سَیِّدُنا عثمان بن طلحہرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو بُلا کر کعبے کى کنجى ان کے ہاتھ مىں عطا فرمائى اور اِرشاد فرماىا:ىہ چابى لو، اب ىہ ہمىشہ تمہارے پاس ہى رہے گى ۔ جو اسے تم سے چھىنے گا وہ ظالم ہو گا ۔ ([3])مِراةُ المناجىح مىں ہے : اب تک کعبہ شرىف کى چابى انہى کى اَولاد مىں ہے اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ  نہ کبھى ان کى نسل ختم ہو گى نہ کوئى ظالم بادشاہ ان سے چھىن سکے گا ۔ ىزىد اور حجاج بن ىوسف جىسے ظالمو ں نے بھى اس چابى کو ہاتھ نہ لگاىا ۔ ([4])

فتحِ مکہ پر عام مُعافی کا اِعلان

سُوال:فتحِ مکہ کے موقع پر عام مُعافی کے اِعلان کا اِیمان افروز منظر بیان فرما دیجئے ۔ ([5])

جواب:سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حَرمِ اِلٰہى مىں سب سے پہلا دَربارِ عام منعقد فرماىا جس مىں اَفواجِ اِسلام کے عِلاوہ کفار و مشرکىن کے عوام و خواص کا اىک ہجوم تھا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خطبہ دىا اور پھر اہلِ مکہ کو مخاطب کر کے اِرشاد فرماىا:کیا  تم کو معلوم ہے کہ آج مىں تمہارے ساتھ کىا مُعاملہ کرنے والا ہوں؟اِس سُوال سے تمام مجرم و خطاکار جنہوں نے بَرسوں تک آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر طرح طرح کے ظلم کىے تھے ، حواس باختہ ہو کر کانپ اُٹھے لىکن اُمىدوں مىں ڈوبے ہوئے لہجے مىں عرض کى: اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ ”یعنی آپ کَرم والے بھائی اور کَرم والے باپ کے بیٹے ہیں ۔ “ىہ سُن کر فاتحِ مکہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے کرىمانہ لہجے مىں اِرشاد فرماىا:لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَآءُ یعنی آج  تم پر کوئى ملامت نہىں ، جاؤ تم سب آزاد ہو ۔ ([6]) عَفْو و دَرگُزر اور مُعافى دىنے کا جو بے مثال مُظاہرہ رَسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرماىا اِنسانى تارىخ اس کى مثال پىش کرنے سے قاصر ہے ۔ کفار ِ مکہ اِس شانِ رَحمت کو دىکھ کر جُوق در جُوق بڑھ بڑھ کر حضور پُر نور رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مُبارَک ہاتھ پر اِسلام قبول کرنے لگے ۔ ([7])مِراٰةُ المناجىح مىں ہے : دو ہزار صحابہ ٔکرامرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم فتحِ  مکہ کے دِن اِسلام کى دولت سے مالا مال ہوئے ۔ ([8])

اِسلام تلوار سے نہیں حُسنِ اخلاق  سے پھیلا ہے

اِس واقعے سے ثابت ہوا کہ اِسلام تلوار کے زور سے نہىں حُسنِ اَخلاق سے پھىلا ہے ۔ مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے خون کے پىاسوں کو مُعافى دے دى، جس کا اتنا زبردست اثر ہوا کہ دو ہزار(2000) کفار مسلمان ہو گئے ۔ بَدقسمتی سے ہمارا ىہ ذہن ہوتا ہے کہ اىنٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے ۔ اب شرافت کا دور نہىں ہے  وغیرہ وغیرہ ۔ میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کو مُعاف کر دیا جو خونخوار لوگ تھے ، بُت پَرست کفار تھے ، خون کے پىاسے تھے جنہوں نے  سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر  بڑے ظلم ڈھائے تھے ۔ آج کل اُن جیسے وحشى لوگ نہیں  ہیں وہ تو اپنى بىٹىاں زندہ دفن کر دىتے تھے لیکن جب مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے عام مُعافى کا اِعلان کىا تو ان کے دِلوں مىں حقىقى مَدَنى اِنقلاب بَرپا ہو گیا ۔ اِس سے ثابت ہوا کہ مُعافى اور دَرگُزر کا بڑا فائدہ ہوتا ہے ، دُشمن کو بھى بندہ مُعاف کر دے تو اس کے دِل مىں محبت پىدا ہو سکتى ہے ۔ کاش! ہم بھى پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى پىارى سنَّت پر عمل کرنے والے بن جائىں کہ جو ہمىں تکلىف دے  دُکھ دے یا ستائے ، ہم اسے  مُعاف کر دىا کرىں ۔ قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو  مُعافی کا حکم دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:) خُذِ الْعَفْوَ ( (پ۹، الاعراف:۱۹۹) ترجمۂ کنزالایمان:اے محبوب !مُعاف کرنا اِختیار کرو ۔ “ مُعاف کرنے سے عزت کم نہىں ہوتى بلکہ عزت بڑھتى ہے ۔ مُعاف کرنے کا فائدہ ہى فائدہ ہے ، نقصان کچھ بھی نہیں ۔

رہے حیات کا گلشن ہرا بھرا یا رَبّ

سُوال: وَسائلِ بخشش کے اِس شعر کی وَضاحت فرما دیجئے :

 



[1]    معجم صغیر، حرف الیاء، من اسمه:یوسف، الجزء:۲، ص۱۳۶، حدیث:۱۱۴۹ دار الکتب العلمية بیروت

[2]    سیرتِ مصطفیٰ، ص ۴۳۶ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[3]    معجمِ اوسط، من اسمه احمد، ۱ / ۱۵۱، حدیث: ۴۸۸ دار الکتب العلمية بیروت

[4]    مراٰۃ المناجیح ، ۱ / ۴۲۹ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور

[5]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ) 

[6]    شرح الزرقانی علی المواھب اللدنية، باب غزوة الفتح الاعظم، ۳ / ۴۳۰

[7]    سیرتِ مصطفیٰ، ص ۴۵۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[8]    مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۴۹۳



Total Pages: 8

Go To