Book Name:Namaz-e-Jumma Na Milay To Kon Si Namaz Parheen

اىک علاج ہے ۔ مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کا رِسالہ ”وَسوسے اور ان کا علاج“ کا مُطالعہ کیجئے ۔

فتحِ مکہ کے متعلق اِیمان افروز معلومات

سُوال:فتحِ مکہ کب اور کیسے ہوا، اس کے اَسباب کیا بنے ؟اس کے بارے میں مَدَنی پھول عطا  فرما دیجئے ۔ ([1])

جواب:فتحِ مکہ کب ہوا اس کے متعلق مختلف تارىخیں منقول  ہىں مگر 20 رَمَضَانُ الْمُبَارَک کو اس کا واقع ہونا مضبوط قول سے ثابت ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 20 رَمَضَانُ الْمُبَارَک فاتح کى حىثىت سے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً مىں داخل ہوئے ۔ ([2])ہجرت کی رات حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے ىارِ غار صِدِّىقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ کو ساتھ لے کر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے مدىنہ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً روانہ ہوئے اور اپنے وطنِ عزىز کو خىر باد کہہ دىا ۔ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے نکلتے وقت فرماىا :اے مکہ! خُدا کى قسم تو مىرى نگاہ مىں تمام دُنىا کے شہروں سے زىادہ پىارا ہے ۔ اگر مىرى قوم مجھے نہ نکالتى تو مىں ہر گز تجھے نہ چھوڑتا ۔ ([3])اس وقت ىہ خىال بھى کسى کو نہىں ہو سکتا تھا کہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کو اس حالت مىں چھوڑنے والے رَسولِ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فقط آٹھ بَرس کے بعد ایک فاتحِ اعظم کى شان و شوکت کے ساتھ اس شہر مکہ مىں تشرىف لائىں گے ۔

فتحِ مکہ کا سبب

صلحِ حدیبىہ مىں ىہ بات بھى طے پائی تھی کہ دونوں فرىقوں (یعنی مسلمانوں اور کفارِ قریش)کے دَرمىان  10 سال تک کوئى جنگ نہىں ہو گى لىکن کفارِ قرىش نے حُدىبیہ کے مُعاہدے کو عملى طور پر توڑ ڈالا ۔ وہ اِس طرح کہ قبىلہ بنو خزاعہ والے رَسُوْلُ اللہ  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مُعاہدہ کر کے آپ کے حلىف بن چکے تھے لیکن ان پر  قبیلہ بنو بکر نے اپنے حلیف کفار قریش کے ساتھ مل کر حملہ کردیا اور انہیں بے دردى کے ساتھ قتل کرنا شروع کىا ۔ بنو خزاعہ والے حرمِ کعبہ مىں پناہ لىنے کے لىے بھاگے تو ان دَرندہ صفت حملہ آوروں نے حَرمِ اِلٰہى کے اِحترام کو بھى بالائے طاق رکھا اور حَرمِ کعبہ مىں بھى ظالمانہ طور پر بنو خزاعہ کا خون بہاىا ۔ اس حملے مىں بنو خزاعہ کے 23 آدمى قتل ہو گئے ۔  بنو خزاعہ پر حملہ کرنا ىہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر حملہ کرنے کے مترادف تھا چنانچہ اس حادثے کے بعد قبىلہ بنو خزاعہ کے سردار عمرو بن سَالم خزاعى نے 40 آدمىوں کا وَفد لے کر مدىنے شرىف مىں بارگاہِ رِسالت مىں حاضرى دى اور اپنے قبىلے پر ہونے والے ظلم کى فرىاد کرنے کے بعد اِمداد چاہى ۔ ىہى واقعہ فتحِ مکہ کا سبب بنا ۔ ([4])چنانچہ صلحِ حدیبىہ کے کم و بىش دو سال بعد 10رَمَضَانُ الْمُبَارَک آٹھ سنِ ہجرى کو رَسُولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے تقرىباً 10 ہزار اَفراد کا لشکر ساتھ لے کر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کى طرف روانہ ہوئے ۔ ([5])  مکۂ پاک سے اىک منزل کے فاصلے پر مقامِ ”مَرُّ الظُّہْران“مىں پہنچ کر اِسلامى لشکر نے پڑاؤ  ڈالا اور حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمْ کو حکم دیا کہ ہر صحابی اپنی الگ الگ آگ جلائے ۔

اَبُو سفیان کا قبولِ اِسلام

ابو سفىان جو اس وقت تک مسلمان نہىں ہوئے تھے اپنے کچھ ساتھىوں کے ساتھ ”مَرُّ الظُّہْران“ آپہنچے اور دىکھا کہ مىلوں تک آگ ہى آگ جَل رہى ہے ۔ ىہاں پر انہىں حضرتِ سَیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ ملے اور انہیں سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى بارگاہ مىں لے آئے ۔ رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دَربارِ کَرم بار مىں پہنچ کر ابوسفىان اور ان کے ساتھى کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ۔ ([6])

فاتحِ اعظمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بے مثال عاجزی

رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا حلم و کَرم دىکھئے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کى سر زمىن پر قدم رکھتے ہى جو پہلا حکم جارى فرماىا اس کے ہر لفظ مىں رَحمتوں کے سمندر موجىں مار رہے تھے چنانچہ فرماىا : جو شخص ہتھىار ڈال دے اس کے لىے امان ہے ۔ جو اپنا دَروازہ بند کر لے اس کے لىے بھى امان ہے جو کعبے مىں داخل ہو جائے اس کے لىے بھى امان ہے ىعنى ان کو بھى مارا نہىں جائے گا ۔ ([7]) مکۂ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً مىں داخل ہوتے وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنى اونٹنى قصوىٰ پر سوار تھے ، سىاہ رنگ کا عمامہ سرِ انور سے برکتىں لے رہاتھا  چاروں طرف مسلح  لشکر حاضر تھا مگر اس قدر جاہ و جلال کے باوجود شہنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکى شانِ تواضع ىعنى عاجزى اور انکسارى کا عالَم ىہ تھا کہ آپ سر جھکائے سورۂ فتح کى تلاوت فرما رہے تھے اور آپ کا سرِ انور اونٹنى کے پالان سے لگ جاتا تھا ۔ ([8])

کعبہ شریف کو بتوں سے پاک فرمانا

سُوال:کعبہ شریف کو بتوں سے پاک کرنے کا اِیمان افروز منظر بیان فرما دیجئے ۔ ([9])

 



[1]   یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ) 

[2]    سیرۃ سید الانبیاء  ، ص ۱۷۱ مظہر علم مرکز الاولیا لاہور

[3]    ترمذی، کتاب المناقب عن رسول اللّٰہ، فضل فی مكة، ۵ / ۴۸۶، حدیث: ۳۹۵۱  دار الفکر بیروت

[4]    مدارج النبوة، قسم سوم، باب ھفتم، ۲ / ۲۸۱-۲۸۲ مرکز اھل سنت برکات رضا ھند-سیرتِ مصطفے ٰ، ص۴۱۲مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[5]    سیرۃ سید الانبیاء ، ص ۱۷۱ 

[6]    مواھب اللدنية، المقصد الاول، غزوة  موتة، ۱ / ۳۱۱ 

[7]    مواھب اللدنية، المقصد الاول، غزوة  موتة، ۱ / ۳۱۴ -