Book Name:Kia Moseeqi Rooh Ki Ghiza Hai

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

کیا موسیقی روح کی غِذا ہے؟ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۴۱صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُنا اُبَىْ بِنْ کَعْبرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے عرض کى : مىں سارے وِرد وَظىفے چھوڑ کر اپنا سارا وقت دُرُود خوانى( ىعنى دُرُود پڑھنے) مىں صَرف کروں گا ، تو سرکارِ مدىنہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرماىا : ىہ تمہارى فکرىں دُور کرنے کے لىے کافى ہوگا اور تمہارے گناہ مُعاف کر دىئے جائىں گے۔ ([2])      

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

کیا موسیقی رُوح کی غذا ہے؟

سُوال : کہتے ہیں کہ “ موسیقی رُوح کی غذا ہے ، موڈ کے مطابق Music ہو تو یہ ناصِرف آپ کو Relax کرتا ہے بلکہ آپ کا بلڈ پریشر بھی نارمل کردیتا ہے۔ “ کیا یہ بات دُرُست ہے اور ایسا کہنے والوں کو آپ کس طرح سمجھائیں گے؟

جواب : ایسا کہنے والوں کو ہم نے بارہا سمجھایا ہے اور ہم صِرف سمجھا ہی سکتے ہیں ، مگر ایسے لوگ ہمیں سنتے ہی کب ہیں۔ قرآنِ کریم نے جو رُوح کی غِذا بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے :

)اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)( (پ۱۳ ، الرعد : ۲۸)

ترجمۂ کنز الایمان : “ سُن لو اللہکی یاد ہی میں دِلوں کا چین ہے۔ “

اللہ پاک کی یاد اور اس کا ذِکر یقیناً یقیناً یقیناً ہماری رُوح کی غِذا ہے ، نہ صِرف رُوح کی بلکہ  بدن کی بھی غِذا ہے کہ نماز کے بغیر اِنسان کسی کام کا نہیں ہے۔ نماز ہی تو ہے جو مؤمن اور کافر کے دَرمیان فرق کرنے والی ہے ، مگر ان لوگوں کو نماز ایک نہیں پڑھنی بس طبلے کی تھاپ پر رَقص کرنا اور ٹانگیں تھرکاتے رہنا ہے۔ یاد رَکھیے! ایسی حرکتیں کرکے یہ سمجھنا کہ رُوح کی غِذا مل گئی نادانی ہے ، یہ تو مَرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ رُوح کی غِذا کسے  کہتے ہیں؟لہٰذا ابھی توبہ کریں اور ایسی کمزور باتیں کرنا چھوڑ دیں۔ اے مسلمان! موسیقی رُوح کی غِذا نہیں ہے رُوح کی غِذا  تو ذِکْرُ اللہ ہے۔  میں یہ بات مسلمان سے کر رہا ہوں اور مجھے نہیں لگتا ہے کہ کوئی مسلمان مجھ سے اس بارے میں اِختلاف کرے گا کہ ذِکْرُ اللہ   میں رُوح کی غِذا نہیں ہے بلکہ ہر عالِمِ دِین اور مفتی اس مسئلے میں میرے ساتھ اِتفاق کرے گا کہ رُوح کی غِذا طبلے کی تھاپ میں نہیں بلکہ اللہ پاک  کی یاد میں ہے۔

(نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا : ) ماڈرن سے ماڈرن مسلمان شخص بھی مسجد میں میوزک بجتے ہوئے دیکھتا ہے تو نفرت کا اِظہار  کرتا ہے ، چاہے وہ مسجد میں سوئم کے لیے آیا ہو یا اور کوئی موقع ہو مگر کسی کے موبائل میں میوزک بجتا ہے تو وہ اس کو ناپسند ہی کرتا ہے۔ اگر میوزک میں رُوح کی غِذا ہے تو یہ غِذا  مسجد میں بھی ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوتا حتّٰی کہ ایسے کسی بھی شخص کے اپنے موبائل میں یہ میوزک مسجد میں بج جائے تو وہ گھبرا جاتا ہے کہ یہ کہاں بج گیا۔ پھر یہ کہنا کہ موسیقی موڈ ریلیکس یا بلڈ پریشر نارمل کردیتا ہے یہ سب عجیب و غریب قسم کی باتیں ہیں۔ میوزک تو نفاق پیدا کرتا اور اِنسان کا دِل ، دماغ اور پھیپڑے سب خراب کر دیتا ہے کیونکہ میوزک کے Instrument(آلات) اس قدر ایڈوانس ہو چکے ہیں کہ یہ  آپ کے دِل اور آپ کی دِیگر چیزوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یاد رَکھیے!موسیقی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔  (امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے  نگرانِ شُوریٰ سے فرمایا : ) کیا بات کی ہے آپ نے! میوزک کو  رُوح کی غِذا کہنے والے  ڈھول اور طبلے لے کر مسجد میں بیٹھ جائیں کہ رُوح  کی غِذا تقسیم ہورہی ہے ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ  عوام انہیں سمجھا دے گی کہ یہ رُوح کی غِذا ہے یا نہیں بلکہ یہ تو ڈنڈے لے کر دھو ڈالے گی۔ ہاں!کوئی خوش نصیب رُوح کی حقیقی غِذا لے رہا ہو اور اللہ  اللہ کر رہا ہو تو لوگ اس کو بولیں گے کہ میرا بچہ بیمار ہے آپ دعا کردیجیے ، اس کے سامنے گِڑ گِڑائیں گے کیونکہ یہی شخص حقیقتاً رُوح کی غِذا لینے والا ہے۔ میرے نادان دوستو!ڈھول طبلوں میں رُوح کی غِذا نہیں ہے بلکہ رُوح کی غِذا  اللہ پاک کے ذِکر اور اس کی یاد میں ہی ہے۔

میوزک روحانی غِذا نہیں بلکہ شیطانی غِذا ہے

اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنامولا مشکل کشا ، عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی ، شیرِِخُداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کى پندرھوىں رات ىعنى شَبِ بَراءَت مىں اکثر باہر تشرىف لاتے ، اىک بار اسى طرح شَبِ بَراءَت  مىں باہر تشرىف لائے اور آسمان کى طرف نظر اُٹھا کر فرماىا : اىک مَرتبہ اللہ  پاک کے نبى حضرتِ سَیِّدُنا  داود عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کى پندرھوىں رات آسمان کى طرف نگاہ اُٹھائى اور فرماىا : ىہ وہ وقت ہے کہ اس وقت مىں جس شخص نے جو بھى دُعا اللہ پاک سے مانگى اس کى دُعا اللہ  پاک نے قبول فرمائى ،  جس نے مَغْفِرَت طلب کى ىعنى مَغْفِرَت مانگى  اللہ  پاک نے اس کى مَغْفِرَت فرمادى ،  بشرطىکہ دُعا کرنے والا عُشَّار ىعنى ظلماً ٹىکس لىنے والا ، جادو گر ، کاہن اور باجا بجانے والا نہ ہو( کہ باجا بھى اىک مىوزک کا ہى آلہ ہے)۔ پھرىہ دُعا کى : اے اللہ  ، اے



[1]    یہ رِسالہ ۱۵شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ۱۴۴۰ھ بمطابق20اپریل 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]    ترمذی ، کتاب صفة القیامة و الرقائق و الورع ، باب (ت : ۸۸) ، ۴ / ۲۰۷ ، حديث : ۲۴۶۵ ماخوذاً دار الفکر بیروت 



Total Pages: 15

Go To