Book Name:Kia Qabar Par Phool Dalnay Say Murday Ki Naikiyan Barhti Hain

جگہ سے ٹوٹا ہوا ہےاور  اس مىں مال کچىل بھرا ہوا ہے ىا مٹی کے بَرتن میں  دراڑ پڑی ہوئی  ہے جس مىں مىل بھرا ہوا ہے اور اس مىں کھا پى رہے ہىں تو اس طرح مٹی کے برتن میں کھانے کی ا  فضىلت کیسے حاصل ہو گى؟ کیونکہ  ٹوٹى ہوئى جگہ سے پانی  پینا مکروہ ہے ۔ ([1]) ایسے ٹوئے ہوئے  برتن مىں کھانا پینا طبی طور پر  بھی نقصان دہ ہےکہ جَراثىم مىل مىں جمع ہوں گے اور پىٹ مىں چلے جائىں گے ۔   صفائى اِسلام کو پسند اور  مطلوب ہے اور ىہ سنَّت بھی  ہے ۔    

اَنس بِن مالِکرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُاور مالِک بِن دِینار رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کون تھے؟

سُوال:حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بِن مالِکرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اور حضرتِ سَیِّدُنا  مالِک بِن دِینار رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کون تھے؟

جواب:حضرتِ سَیِّدُنااَنس بِن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ صحابیٔ رَسُول ہیں ۔ ([2])اور حضرتِ سَیِّدُنا مالِک بِن دِینار رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ صحابی نہیں ہیں بلکہ اَولیائے کِرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ میں سے ہیں ۔  ([3])

بُرائی کے داخِل ہونے کی وجہ سے اچھائی کو ترک نہ کیجیے

سُوال:اَولیا ئے کِرامرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ کے مزارات یقیناً رَحمتیں اور بَرکتیں پانے کا ایک ذَریعہ ہیں، وہاں پر حاضری دینا باعثِ سعادت ہے  لیکن ان مزارات پر بعض باتیں خلافِ شرع بھی دیکھی جاتی ہیں تو اِس  حوالے سے ہمارا کیا تصور ہونا چاہیے؟

جواب:ظاہر ہے غَلَط چیز جہاں بھی ہو غَلَط ہی ہوتی ہے ۔ کَعْبَۂ مُعَظَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے طواف کے  دَوران بیلٹ کاٹ کر پیسے نکال لیے جاتے ہیں،مَساجد سے جوتے  چوری ہوجاتے ہیں جو کہ غَلَط فعل ہے لیکن اس کی وجہ سے طواف کرنے اور  مسجد جانے کو ترک نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی طواف کرنے اور مسجد جانے کو غَلَط کہا جائے گا ۔  اِسی طرح مزارات پر کوئی خرافات کرتا ہے تو وہ خرافات اور وہ خرافات کرنے والا غَلَط ہے لیکن اس کی وجہ سے مزارات کی حاضِری کو ترک نہیں کیا جائے گا، مزارات کا تَقَدُّس اپنی جگہ برقرار رہے گا ۔ جیسے فی زمانہ شادیوں میں بہت سے گناہ کیے جاتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ آج کل بغیر گناہ کے شادیاں نہیں ہوتیں تو غَلَط نہیں ہو گا لیکن اس کی وجہ سے کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ ”چونکہ شادیوں میں بہت سی خرافات ہوتی ہیں تو شادیاں  کرنا ہی  چھوڑ دو“بلکہ ان بُرائیوں کو ختم کرنے کا کہا جائے گا ۔  یوں ہی مزارات پر بھی جو بُرائیاں پیدا کر دی گئی ہیں انہیں ختم کیا جانا چاہیے،جو بااثر لوگ ہیں انہیں چاہیے کہ  وہ ان بُرائیوں کو ختم کریں ۔  مزارات کی اِنتظامیہ کو چاہیے وہ اس کا کوئی حل نکالیں ورنہ علاقے کا جو بھی بااثر شخص ہو وہ اپنا  اثر و رُسوخ اِستعمال کرکے ان بُرائیوں کو کنٹرول کرے اور جو اچھائیاں ہوں انہیں  فروغ دے ۔ ([4])

                             اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی کی مجلس مزاراتِ اَولیا کے اسلامی بھائی مختلف مزارات پر جاتے ہیں اور عُرس وغیرہ کے موقع پر مَدَنی قافلے بھی ان مزارات کا رُخ کرتے ہیں اور وہاں دَرس و بیان کا سلسلہ ہوتاہے جس میں سُنَّتیں اور مزارات  کی حاضِری کے آداب بیان کیے جاتے ہیں ۔  جس سے ہو سکے وہ ان  مَدَنی قافلوں میں سفر کرے تاکہ اچھائیوں میں اِضافہ ہو اور بُرائیاں ختم  ہوں ۔

مچھر اور مکھیاں بھگانےکے لیے مسجد میں بدبودار اسپرے کرنا کیسا؟

سُوال:بعض مَساجد میں مچھر اور مکھیاں آتی ہیں کیا ان کو بھگانے کے لیے مسجد میں بَد بو دار اسپرے کا اِستعمال کیا جاسکتا ہے؟ (یوٹیوب کے ذَریعے سُوال)

جواب:مسجد میں بد بو دار اسپرے کرنا جائز نہیں ہے ۔  مسجد میں مچھر مکھیاں ہوں تو اس کا حل مشکل ہے ۔ بعض گھروں میں بھی یہ چیزیں آتی ہیں لیکن وہاں بھی کوئی مستقل حل نہیں ہوتا ۔  جہاں مچھروں کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے ان علاقے والوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،وہ  بے چارےکچھ نہ کچھ ترکیبیں کرتے رہتے ہیں، سونے کے لیے اپنے اوپر مچھر دانی لگانے کا اِہتمام کرتے ہیں ۔ اب نمازیوں کے لیے مچھر دانی لگانا بھی ممکن نہیں ہے کہ ایک ایک نمازی پر کس طرح یہ مچھر دانی لگائی جائے گی لہٰذا برداشت کریں اور صبر کریں ۔

 



[1]    حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن اسماعيلالصنعانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینا مکروہ ہے ۔ (سبل السلام شرح  بلوغ المرام، کتاب النکاح، باب الولیمة، ۳ / ۲۵۳، تحت الحدیث : ۱۰۸۲ دار المعرفة بیروت)مشہور مفسر مفتی احمد یار خان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتے ہیں :  کنارہ کچھ ٹوٹا ہوا ہو یا پیالہ کے وسط میں سوراخ ہو اس سے پانی وغیرہ مطلقًا منع ہے کہ یہ جگہ منہ سے اچھی طرح نہیں لگتی جس سے پانی وغیرہ بہ کر کپڑوں پر گِرتا ہے کچھ منہ میں جاتا ہے کچھ کپڑے تر کرتا ہے ۔  نیز یہ جگہ پھر اچھی طرح صاف بھی نہ ہوسکے گی اور ممکن ہے کہ ٹوٹا ہوا کنارہ ہونٹ کو زخمی کر دے اور زخم کا خون پانی اور برتن کو ناپاک کر دے بہرحال اس حکم میں بھی بہت حکمتیں ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۷۸)

[2]    آپرَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ كا پورا نام اَنس بِن مالِک ابنِ نضر اَنصاری خزرجی ہے، آپرَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُحضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے خادمِ خاص ہیں ۔  10سال صحبتِ پاک میں رہے، 100 بَرس سے زیادہ عمر پائی، عہدِ فاروقی میں بصرہ چلے گئے تھے، ۹۳ھ؁ میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ کا اِنتقال ہوا ۔ بصرہ میں فوت ہونے والے صحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم میں سے آپرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ آخری صحابی ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُکی قبرِ انور زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔  (مراٰۃ المناجیح، ۱ / ۲۹  بتغیر قلیل ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)

[3]    حضرتِ سَیِّدُنامالِک بِن دِیناررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ثِقہ تابعین میں سے ہیں ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہحضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُمَا کے دور میں پیدا ہوئے اور حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بِن مالِک، حضرتِ سَیِّدُنا اَحنف بِن قیس، حضرتِ سَیِّدُنا سعید بِن جبیر، حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری وغیرہ کثیر صحابہ و تابعین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن سے اَحادیثِ مُبارَکہ سنیں ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ قرآنِ کریم کی کتابت فرماتے اور اس سے حاصِل ہونے والی رقم سے گزر بسر فرماتے تھے ۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا وِصال ۱۲۷ھ؁ یا ۱۳۰ھ؁ میں ہوا ۔ (سیر اعلام النبلاء، مالک بن دینار، ۵ / ۳۶۲-۳۶۴  ماخوذاً مؤسسة الرسالة بیروت)

[4]   شیخ الحدیث حضرتِ علّامہ مولانا عبدُ المصطفٰے اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  اَولیائے کِرام کے مزارات پر حاضِری مسلمانوں کے لئے باعثِ سعادت و بَرکت ہے اور ان کی نیاز وفاتحہ اور اِیصالِ ثواب مستحب اور خیر و برکت کا بہت بڑا ذَریعہ ہے ۔  اَولیائے کِرام کا عُرس کرنا یعنی لوگوں کا ان کے مزاروں پر جمع ہو کر قرآن خوانی و فاتحہ خوانی و نعت خوانی و وعظ و اِیصالِ ثواب یہ سب اچھے اور ثواب کے کام ہیں ۔  ہاں البتہ عرسوں میں جو خلافِ شریعت کام ہونے لگے ہیں مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا، عورتوں کا بے پردہ ہو کر مَردوں کے مجمع میں گھومتے پھرنا، عورتوں کاننگے سر مزاروں کے پاس جھومنا، چلانا اور سر پٹک پٹک کر کھیلنا کودنا اور مَردوں کا تماشا دیکھنا، باجا بجانا، ناچ کرانا یہ سب خُرافات ہر حالت میں مَذموم و ممنوع ہیں اور ہر جگہ ممنوع ہیں اور بزرگوں کے مزاروں کے پاس اور زیادہ مذموم ہیں لیکن ان خرافات و ممنوعات کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بزرگوں کا عُرس حرام ہے جو حرام اور ممنوع کام ہیں ان کو روکنا لازم ہے ۔  ناک پر اگر مکھی بیٹھ گئی ہے تو مکھی کو اُڑا دینا چاہیے ناک کاٹ کر نہیں پھینک دینا چاہیے ۔  اسی طرح اگر جاہلوں اور فاسقوں نے عرس میں کچھ حرام کام اور ممنوع کاموں کو شامل کردیا ہے تو ان حرام و ممنوع کاموں کو روکا جائے عرس ہی کو حرام نہیں کہہ دیا جائے گا ۔  (جنتی زیور، ص ۲۰۶ تا ۲۰۷ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)



Total Pages: 7

Go To