Book Name:Kia Qabar Par Phool Dalnay Say Murday Ki Naikiyan Barhti Hain

سُوال: پىارے آقا  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حُضور کىوں کہتے ہىں؟(SMSکے ذَریعے سُوال)

جواب:لفظِ ”حُضور“حضرت اور  قبلہ و کعبہ کی طرح ایک اِحترام کا لفظ ہے ۔ ہمارےیہاں اُردو زبان میں  پیارے آقا  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے لیے لفظِ ”حُضور“بکثرت اِستعمال ہوتا ہے اور یہ عام مسلمانوں اور عُلَما دونوں میں رائج ہے جبکہ  فارسی بولنے والے  غالباً لفظ”آنحضور یاآنحضرت“اِستعمال کرتے ہیں  ۔ عربی زبان بولنے والے لفظ”حُضور“اِستعمال نہیں کرتے ان کے یہاں دِیگر اَلفاظ رائج ہیں ۔  

اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے پاک ہیں

سُوال:کیااَنبىائے  کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام ہر گناہ سے پاک ہىں؟نیز ان کے دُنىا سے تشریف لے جانے کے بعد اب ہم ان کا اَدب و اِحترام کس طرح کر سکتے ہیں؟  

جواب:بے شک اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام معصوم اور  گناہوں سے پاک ہىں ۔ ([1])نیز اَنبىائے  کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام  دُنىا مىں تشریف فرما ہو ں ىا نہ ہوں ان کا اَدب و اِحترام تو کیا جا سکتا ہے([2])جیسا کہ ہم  پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا اَدب و اِحترام کرتے ہىں اور آپ  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مُبارَک نام  سُن کر انگوٹھے چومتے ہىں تو یہ انگوٹھے چومنا بھی اَدب و اِحترام ہی کی صورت ہے ۔  اَنبىائے  کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی شان تو بلند وبالا ہے اگر  کوئى عام مسلمان بھى دُنىا سے چلا جائے  تو اس کا  بھى اَدب و اِحترام کیا جاتا ہے مثلاً جن لوگوں کے   ماں باپ دُنىا سے چلے گئے ہوں  وہ بھی  ان  کا اَدب و اِحترام  کرتے ہىں ۔  ہمارے یہاں اُردو زبان میں یہ بولنا کہ ”میرا باپ مَر گیا “اَدب و اِحترام کی صورت  نہیں ہے اس لیے لوگ بطورِ اِحترام ”میرے والد  کا اِنتقال ہو گیا ہے  ۔ “بولتے ہیں ۔ اگر بلی یا کتا مَر جائے تو لوگ  کہتے ہیں کہ بلی مَر گئی یا کتا مَر گیا مگر اپنے والدین کے لیے اَدب و اِحترام کے اَلفاظ اِستعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ والد صاحب فوت ہو گئے یا امی کا اِنتقال ہو گیا ہے ۔   

اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قبور میں زندہ ہیں

سُوال:اَنبىائے  کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی حیات سے متعلق ہمارا جو عقیدہ ہے اس کى بھی  وضاحت فرما دىجئے ۔  (مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب کا سُوال)

جواب:اَنبىائے  کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام حىات یعنی زندہ  ہىں اور یہ دُنىوى حیثیت  سے بھى زندہ ہیں، ان کے جسم سَلامت ہىں ۔ ([3])اپنى اپنى قبروں مىں نمازىں بھى پڑھتے ہىں ۔ ([4])اَنبىائے  کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے اِن معنوں  پر دُنىا سے پَردہ فرماىا کہ وہ ہمىں نظر نہىں آتے مگر وہ  جب چاہیں اپنے  رَبّ کے حکم سے نظر بھى آ سکتے  ہىں ۔ ([5])

تین بار سے زائد کھانے کے لیے کہنے سے کھانا مکروہ نہیں ہو جاتا

سُوال: اگر کسى کو  تىن بار سے زىادہ کھانا کھانے کا کہا جائے تو کیاوہ کھانا مکروہ ہوجاتا ہے؟ (SMS کے ذَریعے سُوال)

جواب: کسى کو  تىن بار سے زىادہ کھانا کھانے کا کہنے سے کھانا مکروہ نہیں  ہو جاتا،البتہ مہمان کو اپنے ہاتھ سے کھانا پلىٹ مىں ڈال کر  نہىں دینا چاہىے ۔  بعض لوگوں کى یہ  عادت ہوتى ہے کہ وہ مہمان کو پلیٹ میں  کھانا ڈال کر دیتے رہتے ہىں اس سے مہمان بے چارہ مروت مىں کچھ بولتا نہیں ہے ۔  ہو سکتا ہے کہ مہمان نے آلو کھانا ہو اور آپ نےا س کی پلیٹ میں بوٹی ڈال دی یا وہ چھوٹی بوٹی کھانا چاہتا ہو اور آپ نے بڑی  بوٹی  ڈال دی یا وہ چاول کم کھاتا ہے کہ زیادہ کھانے سے اُسے نزلہ ہو جاتا ہے اور آپ نے پلیٹ میں زیادہ چاول ڈال دیئے تو وہ بے چارہ مروت میں آ کر   پھنس جائے گا لہٰذا یہ بات ہمیشہ یاد رَکھیں کہ مہمان سے کہیں کہ کھائیے خود ڈال کر نہ دیجیے ۔  حضرتِ سَیِّدُناامام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے فرماىا ہے کہ مہمان کو تىن بار کھانے کا بولا جائےبار بار کھانے کا اِصرار نہ کیا جائے ۔  ([6])  کہیں ایسا نہ ہو کہ  وہ بے چارہ مروت میں آ کر زیادہ کھا لے اور اس کا پىٹ خراب ہو جائے ۔  

مٹى کے برتن میں کھانا افضل ہے

سُوال:مٹى کے بَرتن مىں کھانا سُنَّت ہے ىا اَفضل ؟  

جواب:مٹى کے بَرتن مىں کھانا ”سنَّت“ہے اِس حوالے سےمیں نے کوئی ایسی رِوایت نہیں پڑھی کہ جس مىں یہ ہو  کہ سرکار  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مٹى کے برتن مىں کھانا تناول فرماتے تھے البتہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے یہاں   مٹى کے برتن موجود تھے، اِحتىاط اِسى مىں ہے یہ کہا جائے کہ مٹى کے بَرتن مىں کھاناافضل ہے ۔ مٹى کابَرتن صاف ستھرا ہونا چاہیے اگر مٹى کا برتن جگہ



[1]    بہارِ شریعت، ۱ / ۳۸، حِصّہ : ۱

[2]    حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے فرمایا :  حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ اقدس کے بعد بھی ہرامتی پر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی اتنی ہی تعظیم وتوقیر لازم ہے جتنی کہ آپ کی ظاہری حیات میں تھی ۔

(شفا، الباب الثالث فی تعظیم امرہ ووجوب توقیرہ وبرہ، ۲  / ۴۰  مرکز اھل سنت  برکات رضا ھند)

[3]    حدیثِ پاک میں ہے : اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ  یُّرْزَقُیعنی بے شک اللہ پاک نے زمین پر حرام کیا ہے کہ وہ  اَنبیا (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام)کے جسموں کو کھائے، اللہ پاک کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں ۔ (ابنِ ماجه، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته...الخ، ۲ / ۲۹۱، حدیث : ۱۶۳۷)

[4]     مسند ابی یعلٰی، مسند انس بن مالک ، ۳  / ۲۱۶، حدیث : ۳۴۱۲   دار الکتب العلمية بیروت

[5]    صَدرُالشَّریعہ حضرتِ علّامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ بہارِ شریعت ، جلد 1صفحہ 1223تا 1224پرفرماتے ہیں : یقین جانو کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سچی حقیقی دُنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے، اُن کی اور تمام اَنبیا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کی موت صِرف وعدۂ خُدا کی تَصدیق کو ایک آن کے لیے تھی، اُن کا اِنتقال صِرف نظرِ عوام سے چُھپ جانا ہے ۔  امام محمد ابنِ حاج مکی(رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ) مدخل اور امام احمد قسطلانی (رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ)مواہبِ لدنیہ میں اور اَئمۂ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم اَجْمَعِیْنفرماتے ہیں : لَا فَرْقَ بَیْنَ مَوْتِہٖ وَحَیَا تِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مُشَاھِدَتِہٖ لِاُمَّتِہٖ وَمَعْرِفَتِہٖ بِاَحْوَالِھِمْ ونِیَاتِہِمْ وَعَزَائِمِھِمْ وَخَوَاطِرِھِمْ وَذٰلِکَ عِنْدَہٗ جَلِیٌّ لَا خِفَاءَ بِہٖحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی اُمَّت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں، اُن کی نیتوں، اُن کے اِرادوں، اُن کے دِلوں کے خیالوں کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)پر ایساروشن ہے جس میں اَصلاً پوشیدگی نہیں ۔ (المدخل  لابن  الحاج ، ۱ / ۱۸۷  دار الکتب  العلمية  بیروت- المواھب  اللدنیة ، المقصد العاشر، الفصل الثانی  فی زیارة قبرہ الشریف ومسجدہ المنیف، ۳ / ۴۱۰  دار الکتب  العلمیة  بیروت) 

1       احیاء العلوم، کتاب آداب الاکل، الباب الثانی فیما یزید بسبب الاجتماع و المشارکة فی الاکل و ھی سبعة، ۲ / ۹ دار صادر بیروت-احیاء العلوم(مترجم)، ۲ / ۲۵مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی



Total Pages: 7

Go To