Book Name:Kia Qabar Par Phool Dalnay Say Murday Ki Naikiyan Barhti Hain

تَرغىب دىں کہ وہ بھى ہر نماز میں اپنے ساتھ کم از کم اىک نمازى لىتے آئىں ۔ مسجد آباد کرنے کے لیے روزانہ  فىضانِ سُنَّت کا دَرس جارى کرىں ۔ اگر مَدَنى قافلے مىسر ہوں تو مَدَنى قافلوں کا وہاں آنا جانا رہے ۔ نیز ہر ہفتے مَدَنى دورہ اس کے طرىقۂ  کار کے مُطابق کىا جائے ۔ بہرحال اگر مسلسل کوششیں کی جائیں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہمسجد آباد ہو جائے گی ۔ یاد رہے کہ خالى چاہنے یا کُڑھنے سے کچھ بھى نہىں ہوتا ،کام کرنے سے ہوتا  ہے ۔ اللہپاک  بَرکت عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   

یہ کیسے معلوم ہو کہ ہماری نماز قبول ہوئی یا نہیں؟

سُوال:ہم جو نماز پڑھتے ہیں کیا وہ قبول ہو جاتی ہے؟ نیز نماز قبول ہونے یا نہ ہونے کا ہمیں کیسے علم ہو بیان فرمادیجیے؟

جواب:اللہ پاک کی رَحمت سے اُمّید رکھی جائے کہ وہ ہماری نمازوں کو قبول فرمالے گا ۔   بزرگانِ دِینرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ تو ڈرتے تھے کہ ہماری نمازغفلت کے ساتھ ادا ہوئی ہے کہیں نماز ہمارے مُنہ پر ہی نہ مار دی جائے، بس اللہ پاک قبول فرمالے ۔  ”اللہ والوں کی باتیں“ نامی کتاب میں ایک عالِم دِین کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ہر نماز کے بعد یوں دُعا کرتے: یَا اللہ!اس میں جو بھی کوتاہی ہوئی ہو اسے مُعاف فرما دے ۔  ([1]) صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں نماز پڑھنا ہی نہیں آتی جو حضرات نماز پڑھنا جانتے تھے وہ خشوع و خضوع کے ساتھ تڑپ کر نماز پڑھنے کے با وجود اپنی نماز کو ناقص تصور کرتے تھے ۔  ہماری نمازیں تو ہیں ہی ناقص لہٰذا ہر ایکاللہ پاک سے ڈرتا رہے اور اس کی رَحمت سے مایوس  بھی نہ ہو بلکہ یہ اُمّید رکھے کہ اللہ  پاک ان نمازیوں کے صَدقے میں کہ جن کی نمازیں مقبول ہوئیں ہماری نمازوں کو بھی قبول فرمالے گا ۔

کیا نکاح کا خطبہ مسجد میں ضَروری ہے؟

سُوال: کىا نکاح کا خطبہ مسجد مىں پڑھنا ضَرورى ہے؟(بابُ المدینہ کراچی سے سُوال)

جواب:نکاح کہىں بھى ہو سکتا ہے، مسجد مىں کرنا ہى ضَرورى نہىں ہے ۔ البتہ جب مسجد مىں نکاح کىا تو خطبہ بھى مسجد مىں ہى پڑھ لىا جائے  کہ نکاح سے پہلے خطبہ دىا جاتا ہے ۔ ([2])

کالی زبان والے کی بَددُعا

سُوال: کچھ لوگ کہتے ہىں کہ کالى زبان والے کى بَددُعا بہت لگتى ہے  کىا ىہ بات دُرُست ہے؟

جواب:مىں نے ابھى تک کسی کی کالى زبان دىکھى نہىں ہے زبان تو لال ہوتى ہے ۔ جہاں تک بَددُعا لگنے کا تعلق ہے تو مظلوم کى دُعا اور بددُعا دونوں قبول ہوتى ہیں،اب مظلوم چاہے جانور ہو یا غىر مسلم،بددُعا تو ان کى بھى لگتی ہے ۔ ([3])اس مىں کالى اور  لال زبان کا  کوئى تذکرہ ہی نہىں ہے ۔ لوگ اِس قسم کی باتیں اپنى طرف سے کرتے رہتے ہىں حالانکہ کسى مرد یا  عورت کو کہنا کہ تىرى زبان کالى ہے،تىرى بددُعا لگتی ہے ىا تو نے مجھے بددُعا دی ہے جبھی تو  میرا نقصان ہوا ہےتو ىہاں دِل آزارى کى صورتىں ہوسکتى ہىں ۔  ىہ بھى ہوسکتا ہے کہ  کوئى اپنى طرف سے  ہوشىارى کرتے ہوئے  کہے کہ  مىں نے فُلاں کو  بددُعا دى تو اس کا نقصان ہو گىا ، فُلاں نے مجھے ستاىا تو اس کو ىوں ہوگىا ۔  اىسے بڑے بول بولنا بھی بہت خطرناک ہے لہٰذا اِس قسم کی باتوں  سے بچنا چاہیے ۔   

کَدُّو کو” کَدُّو شریف“کیوں کہاجاتا ہے؟

سُوال: کَدُّو کو”  کَدُّو شرىف“ کىوں کہا جاتا ہے؟

جواب: شرىف کا معنیٰ ہے :شَرافت والا،کَدُّو کو  کَدُّو شرىف کہنے میں کوئى حَرج نہىں بلکہ اچھا ہے ۔ کَدُّو شرىف پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو پسند تھا([4])اس لىے ہم اسے  کَدُّو شرىف کہتے ہىں ۔  ہمارے ىہاں کراچى لاہور وغیرہ شہروں کے ناموں  کے ساتھ شرىف کا لفظ نہىں بولا جاتا مگر جن شہروں  کو  عام طور پر عزت و شرافت حاصِل ہوتى ہے تو ان کے ساتھ بھی شرىف بولا جاتا ہے مثلاً مکہ شرىف،مِنىٰ شرىف،عَرفات شرىف،مزدلفہ شرىف،زَم زَم شرىف، بغداد شرىف، اجمىر شرىف، ملتان شرىف کہ یہ  مَدِیْنَۃُ الْاَوْلِیَا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

       مجھے اپنا اىک پُرانا واقعہ ىاد آگىا ہے کہ ایک بار میں مَسْجِدُ الْحَرَام شرىف مىں حاضِر تھا ۔ خُدَّام میں سے ایک پاکستانی خادِم سے میں نے پوچھا: زَم زَم شرىف کس طرف ہے؟ اِس پر وہ بپھر گیا  اور غصے میں بولا:”شرىف نہىں بولواور پھر اِشارہ کر کے بتایا کہ زَم زَم  اُدھر ہے  ۔ “اگر زَم زَم کا پانی ،شرىف (یعنی شرافت والا)نہىں ہے تو کىا ہمارے گھر کا پانى شرىف ہو گا؟ہمارے ىہاں اِس کا عُرف ہے  کہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں:مزاج شرىف کیسا ہے؟ طبىعت شرىف کیسی ہے؟اور اس پر کوئی بھی غصہ نہىں کرتا ۔  (تو جب عام بندے کی طبیعت اور مزاج ،شریف ہو سکتا ہے تو پھر مُقَدَّس مقامات اور چیزیں شریف کیوں نہیں ہو سکتیں؟)  

گناہوں سے کیسے بچا جائے؟

سُوال:ہمىں معلوم ہے کہ ہم ىہ گناہ کر رہے ہىں اور اس کى سزا بھى بَرداشت  نہىں کرسکىں گے مگر پھر بھى گناہوں سے باز نہىں آتے ،اِس کے متعلق راہ نمائی فرما دیجئے ۔

جواب:گناہوں سے سچى توبہ کرتے رہنا چاہیے نیز اگر عاشقانِ رَسُول کى صحبت مىں رہىں گے، مَدَنى اِنعامات کے مُطابق عمل کریں گے اور مَدَنى قافلوں کے مُسافر بنىں گے نیز دعوتِ اسلامى کے سُنَّتوں بھرے اِجتماعات  مىں شرکت کریں گے  تو گناہوں سے بچنے کا ذہن بنتا جائے گا اور پھر اِنْ شَآءَ اللّٰہ گناہوں سے چھٹکارا بھى مل ہی جائے گا ۔ صحبت اچھى ہو گى تو گناہوں سے بچنا آسان ہو گا،اگر صحبت بُرى ہوئى تو گناہوں سے بچنا بہت مشکل ہے ۔ آج کل عموماً .9 99صحبتیں اچھى نہىں ہیں ۔ شاید کسی کو ىہ مُبالغہ لگ رہا ہو مگر اکثر دیکھا جاتا ہے کہ دوستوں کی بیٹھک میں بےدھڑک غىبت ہو رہی ہوتی ہے  ۔ کبھی اِس کى بُرائى کبھی اُس کى بُرائى ،کبھی کسی کا مذاق اُڑایا،کبھی کسی پر پھبتى کسی اور نہ جانے کىا کچھ دوستوں مىں ہو رہا ہوتا ہے ۔ عاشقانِ



[1]    حلية الاولیاء، سفیان بن عیینہ، ۷ / ۳۳۲، رقم : ۱۰۷۳۵ دار الکتب العلمية بیروت-اللہ والوں کی باتیں(مترجم)، ۷ / ۲۹۰ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[2]    اسلامی زندگی، ص۵۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[3]    مرقاة المفاتیح، کتاب الدعوات، الفصل الثانی، ۵ / ۲۴، تحت الحدیث : ۲۲۴۹  دار الفکر بیروت-مراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۳۰۰  ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور

[4]    ابنِ ماجه، کتاب الاطعمة، باب الدبّاء، ۴ / ۲۷، حدیث :  ۳۳۰۲  دار المعرفة بيروت 



Total Pages: 7

Go To