Book Name:Kia Qabar Par Phool Dalnay Say Murday Ki Naikiyan Barhti Hain

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

کیا قبر پر پُھول ڈالنے سے مُردے کی نیکیاں بڑھتی ہیں؟ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۷ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے:اے لوگو!بےشک بروزِ قىامت اس  کى دہشتوں(ىعنى گھبراہٹوں) اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہو گا جس نے تم مىں سے مجھ پر دُنىا کے اندر بکثرت دُرُود شرىف پڑھے ہوں گے ۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

کیا قبر پر پُھول ڈالنے سے مُردے کی نیکیاں بڑھتی ہیں؟

سُوال: قبر پر جو پُھول پتىاں رکھتے ہىں کىا اِس سے مُردے کے نامۂ اَعمال مىں نىکىوں کا اِضافہ ہوتا ہے؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)    

جواب:قبر پر  پُھول پتیاں ڈالنا ہی ضَروری نہیں ، تَر شاخ یا پتے بھی ڈالے جا سکتے ہیں ، جب تک یہ  تر رہىں گے اس وقت تک تَسْبِیْح یعنی اللہپاک کى پاکى بىان کرىں گے اور ان کی تَسْبِیْح  سے قبر مىں مَیِّت کا دِل بہلتا ہے ۔ ([3])باقی قبر پر پُھول پتىاں رکھنے سے مَیِّت کی  نىکىوں مىں اِضافہ ہونے کا  مىں نے کہىں پڑھا نہىں ہے ۔  مَیِّت کے اپنے نیک اَعمال کا سلسلہ تو منقطع ہوگىا ہے البتہ زندوں کی طرف سے جو اِىصالِ ثواب کىا جائے تو وہ ثواب اسے پہنچتا ہے ۔ ([4])قبر پر پُھول پتیاں وغیرہ ڈالنا یہ مَیِّت کو ثواب پہنچانا نہىں بلکہ اىک طرح کا آپ کی طرف سے گفٹ ہے کہ  آپ نے پُھول رکھ دىئے تو اِن کی  تَسْبِیْح سے اس مَیِّت کا دِل بہلے گا ۔   

عورتوں کا پَردے کے ساتھ قبرستان جانا کیسا؟

سُوال:کىا عورتیں پَردہ کر کے قبرستان جا سکتى ہے؟  

جواب:عورتوں کا قبرستان جانا منع ہے ۔ باقى جہاں جانے کی انہیں  شَرعاً اِجازت ہے  تو وہاں  پَردہ کر کے ہی جانا ہو گا ۔  قبرستان مىں پَردے کے ساتھ بھى نہیں جا سکتیں ۔ ([5])

نومولود بچے کے بال اور ناخن کاٹنا اور دَفن کرنا

سُوال:نومولود بچے کے بال اور  ناخن وِلادت کے چھٹے دِن کٹوانا ضَرورى ہے ىا کسى اور دِن بھی کٹواسکتے ہىں؟ نیز ان بالوں اور ناخنوں کا کىا  کیا جائے ، اگر کسى نے غَلَطی سے پھىنک دىئے تو  شرعى حکم کىا ہو گا؟(ساؤتھ افریقہ سے سُوال)

جواب:ساتوىں دِن عقىقہ ہوتا ہے یعنی ساتوىں یا چودھوىں دِن عقیقہ کیا جائے ۔ ([6])اِدھر عقىقے کے جانور پر چُھرى پھرے تو اُدھر بچے کے سر پر اُسترا چلے ىہ بال کاٹنے کا طرىقہ ہے ۔ جو بال نکلیں ان کے وزن کا سونا ىا چاندى  خىرات کرنا افضل ہے  ۔ ([7])اگر کچھ بھی خیرات نہىں کىا جب بھی حَرج نہىں ہے ۔  بدن سے جو بال کھال اور ناخن جُدا ہوں تو انہیں دَفن کر دینا بہتر ہے ۔ ([8])(مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا:)اگر بال کھال اور  ناخن وغیرہ پھىنک دىئے تو بھی کوئى گناہ نہىں ہے لیکن اَدَب ىہی ہے کہ انہیں  دَفناىا جائے ۔  ([9])    

نمازیوں کی تعداد بڑھانے کا طریقہ

سُوال:مسجد میں نمازىوں کی تعداد بڑھانے کے لىے کىا طریقہ اِختیار کیا جائے؟(سری لنکا سے ایک امام صاحب کا سُوال)

جواب:مسجد میں نمازىوں کی تعداد بڑھانے کے لىے امام صاحب کو چاہیے کہ جب باجماعت نماز پڑھنے کے لىے چلىں  تو راستے میں جو جو مسلمان ملتے جائىں انہیں سَلام کر کے نماز کے لیے چلنے کی دعوت دیں  ۔ یوں اگر پیار و محبت دے کر اپنے ساتھ ایک ایک کو بھی لاتے رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ آہستہ آہستہ نمازىوں کى تعداد بڑھ جائے گى ۔ نیز دوسرے نمازىوں کو بھى



[1]    یہ رِسالہ ۸شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ۱۴۴۰؁ ھ بمطابق 13اپریل 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے ۔  (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]    فردوس الاخبار، باب لام الف، ۵ / ۲۷۷، حدیث : ۸۱۷۵  دار الکتب العلمية بیروت

[3]    ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب صلا ة الجنازة، مطلب فی وضع الجريد و نحو الآس علی القبور، ۳ / ۱۸۴ دار المعرفة بيروت 

[4]    هداية، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، ۱ / ۱۷۸  دار احیاء التراث العربی بیروت

[5]    فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۵۳۷ ماخوذاً  رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور- مزید تفصیلات جاننے کے لیے فتاویٰ رضویہ جلد 9 کے صفحہ 541تا 567 پر موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے رِسالے ”جُمَلُ النُّوْرِ فِیْ  نَـــہْیِ النِّسَآءِ عَنْ زِیَـــارَۃِ الْـــقُبُوْر“ کا مُطالعہ کیجیے ۔ یہ رِسالہ تسہیل  شُدہ بنام ”عورتیں اور مَزارات کی حاضری “دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ سے ہدیۃً حاصِل کیا جا سکتا ہے ۔ ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )

[6]    بہارِ شریعت، ۳ / ۳۵۶، حصہ : ۱۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی - فتاویٰ رضویہ، ۲۰ / ۵۸۶

[7]    بہارِ شریعت، ۳ / ۳۵۶، حصہ : ۱۵

[8]    در مختار مع ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع، ۹ / ۶۶۸ دار المعرفة بيروت

[9]    فتاویٰ ھندية، کتاب الکراھية، الباب التاسع عشر فی الختان و الخضاء... الخ، ۵ / ۳۵۸  ماخوذاً  دار الفکر بیروت-عقیقے کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیےامیرِ اہلسنَّت حضرتِ علّامہ محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے”عقیقے کے بارے میں سُوال جواب “  کا مُطالعہ کیجئے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)



Total Pages: 7

Go To