Book Name:Tajiro Kay Liye Kam Ki Batian

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تاجروں کے لئے کام کی باتیں

دُرُود شریف کی فضیلت

شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے : جسے کوئی سَخْت حاجَت دَرپیش ہوتو اُسے چاہیئے کہ مجھ پر کَثْرَت سے دُرُود شریف پڑھے کیونکہ یہ مَصَائِب وآلام کو دُور کرتا اور رِزْق میں اِضافہ کرتا ہے ۔ [1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

رَزّاق کون؟

اللہ رَبُ الْعَالَمِیْن جو تمام مخلوقات کا خالق ومالِک ہے وہی سب کو کِھلاتا پِلاتا ہے ، وہ رَزَّاق ہے ،  چُنَانْچِہ پارہ 27، سُوْرَةُ الذّٰرِیٰت کی آیَت نمبر 58 میں اِرشَاد ہوتا ہے :

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ(۵۸)

ترجمۂ کنز الایمان :  بے شک الله ہی بڑا رِزْق دینے والا قوّت والا قُدْرَت والا ہے ۔

تفسیر صِراطُ الجنان میں ہے :  بے شک اللہ تعالیٰ ہی بڑارِزْق دینے والا ہے ، وہی ہر کسی کو رِزْق دیتا ہے وہ قوّت والا ہے اسی لئے مخلوق تک رِزْق پہنچانے میں اسے کسی کی مَدَد کی ضَرورت نہیں اور رِزْق پیدا کرنے پر قُدْرَت رکھنے والا ہے ، سب کو وہی دیتا اور سب کو وہی پالتا ہے ۔ [2]

پارہ 21 سُوْرَةُ الْعَنْکَبُوْت کی آیَت نمبر 60میں ہے :

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﰮ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ ﳲ

ترجمۂ کنز الایمان : اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے الله روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں ۔

اس آیَت کا شانِ نُزُول یہ ہے  کہ مکۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں اِیمان والوں کو مشرکین دن رات طرح طرح کی اِیذائیں دیتے رہتے تھے ۔  تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے مدینۂ طَیِّبَہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی طرف ہجرت کرنے کو فرمایا تو اُن میں سے بعض نے عَرْض کی : ہم مدینہ شریف کیسے چلے جائیں، نہ وہاں ہمارا گھر ہے نہ مال، وہاں ہمیں کون کھلائے اور پلائے گا؟ اس پر یہ آیَت ِکریمہ نازِل ہوئی اور اِرشَاد فرمایا گیا کہ بہت سے جاندار ایسے ہیں، جو اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اگلے دن کے لئے کوئی ذخیرہ جمع کرتے ہیں جیسا کہ چوپائے اور پرندے ، اللہ تعالیٰ ہی انہیں اور تمہیں روزی دیتا ہے ، لِہٰذا تم جہاں بھی ہو گے وہی تمہیں روزی دے گا[3] تو پھر یہ کیوں پوچھ رہے ہو کہ ہمیں کون کھلائے اور پلائے گا؟ساری مخلوق کو رِزْق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ، کمزور اور طاقتور، مقیم اور مُسَافِر سب کو وہی روزی دیتا ہے ۔ [4]

ایک اور مَقام پر اِرشَادِ خداوندی ہے :

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (پ۱۲، ھُوْد : ۶)

ترجمۂ کنز الایمان :  اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رِزْق الله کے ذمّہ کرم پر نہ ہو ۔

عَلّامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :  اس آیَت سے یہ مُراد نہیں کہ جانداروں کو رِزْق دینا اللہ پاک پر واجِب ہے کیونکہ خدائے ذُوالْجَلال اس سے پاک ہے کہ اس پر کوئی چیز واجِب ہو بلکہ اس سے یہ مُراد ہے کہ جانداروں کو رِزْق دینا اور ان کی کَفَالَت کرنا اللہ کریم نے اپنے ذمۂ کرم پر لازِم فرما لیا ہے اور (یہ اس کی رحمت اور اس کا فَضْل ہے کہ) وہ اس کے خلاف نہیں فرماتا ۔  رِزْق کی ذِمَّہ داری لینے کو’’عَلٰی‘‘کے ساتھ اس لئے بیان فرمایا تاکہ بندے کا اپنے رَبِّ کریم پر تَوَکُّل مضبوط ہو اور اگر وہ (رِزْق حاصِل کرنے کے ) اَسْبَاب اِخْتِیار کرے تو ان پر بھروسا نہ کر بیٹھے بلکہ اللہ رَبُّ الْعِزَّت ہی پر اپنا اِعْتِماد اور بھروسا رکھے ، اَسْبَاب صِرف اس لئے اِخْتِیار کرے کہ اللہ پاک نے اَسْبَاب اِخْتِیار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اللہ کریم فارِغ رہنے والے بندے کو پسند نہیں فرماتا ۔  زمین کے جانداروں کا بطورِ خاص اس لئے ذِکْر فرمایا کہ یہی غذاؤں کے محتاج ہیں جبکہ آسمانی جاندار جیسے فرشتے اور حورِ عین، یہ اس رِزْق کے محتاج نہیں بلکہ ان کی غِذا تسبیح و تہلیل ہے ۔ [5]

 



[1]      بستان الواعظین، الصلاة تحل العقد، ص۲۴۱

[2]     تفسیر صراط الجنان، پ۲۷، الذّٰریٰت، تحت الآیۃ : ۵۸، ۹ / ۵۱۲

[3]      تفسیرخازن، پ۲۱، العنکبوت، تحت الآية : ۶۰، ۳ / ۳۸۴

[4]     تفسیر صراط الجنان، پ۲۱، العنکبوت، تحت الآیۃ : ۶۰، ۷ / ۴۰۰

[5]     تفسیر صاوی، پ۱۲، ھود، تحت الآیة : ۶، جز۳، ۲ / ۱۲۷ملتقطًا



Total Pages: 18

Go To