Book Name:Douran Duty Game Khelna Kaisa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

دَورانِ ڈیوٹی گیم  کھیلنا کیسا؟ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۴صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

      فَرمانِ مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے :  مجھ پر دُرُود شرىف پڑھو اللہ پاک تم پر رَحمت بھىجے گا ۔ ([2])   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

دَورانِ ڈیوٹی گیم  کھیلنا کیسا؟

سُوال : دَورانِ ڈیوٹی گیم  کھىلنا کىسا ہے ؟

جواب : دَورانِ ڈیوٹی تو نفل نماز پڑھنے کى بھى اِجازت نہىں ہے ([3]) البتہ اگر  کوئى پرائىویٹ اِدارہ ہے اور سىٹھ نفل پڑھنے کی اِجازت دىتا ہے تو یہ الگ بات ہے ورنہ عام طور پر اِجارے کے  وقت مىں وہى کام کرنا ہوتا ہے جس کا اِجارہ کىا گىا ہے تو گىم کھىلنے کی اِجازت کیسے  ہو سکتی ہے ؟نیز گىم کھىلنا خودایک  باطل کام  ہے اور جس طرح کا گىم ہو گا  اسی  طرح کى اس کى ہلاکت خیزیاں بھی  ہوں گى ۔   

  شوقِ عبادت پیدا کرنے کا طریقہ

سُوال :  ہم وقت کے ساتھ ساتھ دُنىا کى لَذَّتوں مىں مَست ہوتے چلے جا رہے ہىں ، عبادت کى لَذَّت ہم سے دور ہوتى جارہى ہے ، ہم اپنے نِت نئے دُنىوى شوق پورے کرنے مىں مَصروف ہىں اور عبادت کا شوق ہمارے دِل سے نکلتا جا رہا ہے ، یہ اِرشاد فرما دیجیے کہ اپنے اَندر  شوقِ عبادت کس طرح پىدا کىا جائے ؟

جواب :  کسى کام کا شوق پىدا کرنے کے لىے اس کام کے فَوائد و فَضائِل  معلوم کرنے ہوں گے  کیونکہ  جب فَوائد و فضائِل  معلوم ہوں گے تو اُس کام کو کرنے کی رَغبت ملے  گى اور  جَذبہ پىدا ہو گا  ۔ عبادت کا شوق پیدا کرنے کے لیے عبادت کے چند فضائِل پیشِ خدمت ہیں  : (1)حدىث ِقدسى مىں ہے  : اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے کہ جب مىں بندے کے دِل مىں اپنى عبادت کا شوق دىکھتا ہوں تو اس کے اُمُورِ دُنىا کو اپنے ذِمَّہ ٔ کَرم پر لے لىتا ہوں ۔ ([4])(2)اىک رِواىت میں ہے :  جس نوجوان نے  لَذَّتِ دُنىا اور اس کی عیش و عشرت کو چھوڑ دىا اور اپنى جوانى مىں اللہ پاک کى اِطاعت کى جانب پىش قدمى کى تو اللہ پاک اس خوش نصىب کو 72 صِدِّىقىن کے برابر ثواب عطا فرمائے گا ۔ ([5])(3)حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بن مَسعود رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے رِواىت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرماىا : اللہپاک اپنى مخلوق مىں سے اس خوبرو نوجوان کو سب سے زىادہ پسند فرماتا ہے کہ جس نے اپنى جوانى اور حسن و جمال کو اللہ پاک کى عبادت مىں صَرف کر دىا ہو ۔  اللہ پاک فرشتوں کے سامنے اىسے بندے پر فخر کرتا اور اِرشاد فرماتا ہے کہ ىہ مىرا حقىقى بندہ ہے ۔ ([6])(4)حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بِن مالِکرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے رِواىت ہے کہ نبیٔ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : صبح کے وقت عبادت کرنے والے نوجوان کو بڑھاپے مىں عبادت کرنے والے بوڑھے پر اىسى فضىلت حاصِل ہے جىسى مُرْسَلِین(عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام) کو تمام لوگوں پر ۔ ([7])(5)اىک قول کے مُطابق  جس نے اللہپاک کو  اس وقت ىاد رکھا جب وہ جوان اور توانا تھا تو اللہ پاک اس کا اس و قت خىال رکھے گا جب وہ بوڑھا اور کمزور ہو جائے گا اور اُسے بڑھاپے مىں بھى دیکھنے اور سُننے کی اچھی طاقت اور ذہانت عطا فرمائے گا ۔ ([8]) (6)حضرتِ سَیِّدُنا ابو طىب طبرى رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے 100سال سے زىادہ عُمر پائى اور  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  ذہنى اور جسمانى لحاظ سے تندرست و توانا تھے ۔  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  سے کسى نے صحت کا راز پوچھا تو فرماىا  : مىں نے جوانی  مىں اپنى جسمانى صَلاحىتوں کو گناہوں سے محفوظ رکھا اور آج جب مىں بوڑھا ہو گىا ہوں تو اللہ پاک نے انہىں مىرے لىے باقى رکھا ہے ۔  ([9])

شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی عظمت و فضیلت

سُوال : آج ىکم شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ہے اور دُنیا بھر میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں اس مہینے  کی عظمت ہی  معلوم نہیں تو  آپ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی عظمت کے حوالے سے کچھ بیان فرما



[1]    یہ رِسالہ یکم شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ۱۴۴۰؁ھ بمطابق 6 اپریل 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے،جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]    الکامل لابنِ عدی،من اسمه عبد الرحمن، ۵/۵۰۵، الرقم:۱۷۴ دار الکتب العلمیة بیروت

[3]    بہارِشریعت،۳/۱۶۱،حصّہ:۱۴مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

[4]    مجموعة رسائل الامام الغزالی،منھاج العارفین،باب السجود،ص۲۱۷ دار الفکر بیروت-المتحابین فی الله، ص۵۳،حدیث:۵۴ دار الطباع  دمشق

[5]    الترغیب فی فضائل الاعمال،باب فضل عبادة الشاب علٰی ذوی الاسنان ،ص۷۸،حدیث:۲۲۸ ملخصاً دار الکتب العلمیة بیروت

[6]    الترغیب فی فضائل الاعمال،باب فضل عبادة الشاب علٰی ذوی الاسنان ،ص۷۸،حدیث:۲۲۹ 

[7]    جمع الجوامع،حرف الفاء، ۵/۲۳۵،حدیث:۱۴۷۶۹ دار الکتب العلمیة  بیروت

[8]    مجموعه رسائل ابن رجب،نور الاقتباس فی مشکاة وصیة النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  لابن عباس،۳/۹۹-۱۰۰ ملتقطاً الفاروق الحدیثیة للطباعة و النشر القاھرة

[9]    مجموعه رسائل ابن رجب،نور الاقتباس فی مشکاة وصیة النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم لابن عباس،۳/۱۰۰ 



Total Pages: 6

Go To