Book Name:Maiyat Walay Ghar Cholha Jalana Kaisa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِط

مَیِّت والے گھر چولہا جَلانا کیسا؟([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۸صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فَرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے: مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا پُل صِراط پر نُور ہے۔ جو روزِ جُمُعہ مجھ پر 80 بار دُرُودِ پاک پڑھے اُس کے 80 سال کے گناہ مُعاف ہو جائىں گے۔ ([2])   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

کیا مَیِّت والے گھر چولہا جَلانا منع ہے؟

سُوال:  جس گھر مىں مَیِّت ہو جاتى ہے تو کہتے ہىں کہ تىن دِن تک چولہا نہىں جَلا سکتے  اور نہ ہی گھر مىں کوئى چىز پکا  سکتے ہیں کیا ىہ بات دُرُست ہے ؟   

جواب: مَیِّت والے گھر چولہا جَلانے مىں کوئى حرج نہىں ہے، کھانا پکانا بھى جائز ہے۔ ىہ عوام نے اپنے اوپر خود مشکلات ڈالى ہوئى ہىں (شریعت میں اِن باتوں کی کوئی حقیقت نہیں)۔ ([3])

آتے اور جاتے دونوں بار سَلام کرنا چاہیے

سُوال: کچھ لوگوں کو دىکھا جاتا ہے کہ گھر مىں آتے وقت تو سَلام کرتے ہىں لىکن گھر سے جاتے وقت اللہحافظ کہتے ہیں، گھر سے جاتے وقت کیا کہنا چاہیے  اِس بارے مىں راہ نمائى فرما دیجئے۔

جواب: گھر میں آتے اور جاتے دونوں بار سَلام کرنا چاہىے۔ ([4])یوں ہی  دوسرے اسلامى بھائىوں سے ملنے جائیں تو جاتے وقت بھى سَلام کریں اور رُخصت کے وقت بھى سَلام کرنا چاہیے ۔ ([5])

کس سَلام  کا جواب دینا واجب ہے؟

سُوال: محفل کے اِختتام پر اسلامی بھائی ایک دوسرے سے مُصافحہ کرتے ہیں لیکن جو شخص سامنے آتا ہے اسے بھی ہم سَلام کر لیتے ہیں بعض اوقات وہ بھی سَلام کر رہا ہوتا ہے تو ہم اس کو سَلام کا جواب نہیں دے پاتے کہ وہ آگے نکل جاتا ہے، اِس حوالے سے ہماری راہ نمائی فرمادیجیے۔

جواب: ملاقات کے لیے آنے والے کے سَلام کا جواب دینا واجب ہے ۔ ([6])جو ملاقات کے لیے نہ آیا ہو وہ سَلام کرتا ہے تو اُس کے سَلام کا جواب دینا واجب نہیں وہ صِرف سامنے والے کو سَلامتی کی دُعا دے رہا ہوتا ہے جوایک اچھا عمل ہے،  لیکن جواب دیں گے تو اچھی بات ہے۔ میں بھی بعض اوقات گزرتا ہوں تو لوگ سَلام کرتے  رہتے ہیں ان کا جواب دینا بھی  دُشوار  ہوتا ہے۔

کسی سے ہمدردی کے لیے وقت کیسے نکالیں؟

سُوال: کسى مسلمان کى غم خوارى کرنا اور اُس کے دُکھ مىں شامل ہونا ہمدردى کہلاتا ہے۔ ہمدردى کى کئى صورتىں ہو سکتى ہىں مثلاً کسی کى عىادت کرنا یا کسى کے نقصان پر اس  کى مدد کرنا وغیرہ ، اِس مَصروف ترىن دور مىں جبکہ لوگوں کے پاس اپنے لىے وقت نہىں ہے تو دوسروں کے لىے وقت کىسے نکالیں؟ہمدردى کا آسان طرىقہ اِرشاد فرما دیجئے۔

 



[1]    یہ رِسالہ۹رَجَبُ الْمُرَجَّب ۱۴۴۰ھ بمطابق 16 مارچ 2019 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ(کراچی) میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ فیضانِ  مَدَنی مذاکرہ)       

[2]    فردوس الاخبار، باب الصاد، ۲/ ۴۰۸، حدیث: ۳۸۱۴  دار الکتب العلمیة  بیروت 

[3]    اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کی بارگاہ میں اِسی طرح کا سُوال ہوا کہ”مَیِّت والے کے یہاں کیا روٹی پکانا منع ہے؟“توا س کے جواب میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے اِرشاد فرمایا: موت کی پریشانی کے سبب وُہ لوگ پکاتے نہیں ہیں، پکانا کوئی شرعاً منع نہیں ، یہ سُنَّت ہے کہ پہلے دِن صِرف گھر والوں کے لئے کھانا بھیجا جائے اور انہیں بااصرار کھلایا جائے ، نہ دوسرے دِن بھیجیں، نہ گھر سے زیادہ آدمیوں کے لئے بھیجیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ۹/ ۹۰ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور)

[4]    شعب الایمان ، باب فی مقاربة وموادة اھل الدین، فصل فی سلام من خرج من بیته، ۶/  ۴۴۷، حدیث: ۸۸۴۵ دار الکتب العلمیة  بیروت

[5]    مشہور مُفَسّر، حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ملاقات کو جانے والا تین بار سلام کرے: ایک  سلامِ اِجازت، دوسرا سلامِ ملاقات اور تیسرا سلامِ رُخصت۔ راٰۃ المناجیح، ۶/ ۵۹ ماخوذاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور)

[6]    فتاویٰ هندیة، کتاب الکراهية،  الباب السابع فی السلام و تشمیت العاطس ، ۵/ ۳۲۶ دار الفکر بیروت



Total Pages: 8

Go To