Book Name:Islami Shadi

محرومیوں کا سبب ہے بلکہ اِس کی وجہ سے بدکاری جیسے گُناہ میں مبُتلاہونے کا بھی سخت اندیشہ ہے کیونکہ غیر شادی شُدہ شخص اگر چہ نکوکار اور پرہیز گار ہو مگر عورت اس کیلئے شیطان کے کامیاب ترین ہَتْھیاروں میں سے ایک ہَتْھیار ہے ، شیطان اپنے اِس ہَتْھیار کے ذریعے اُسے زیر کرنے اور گُناہ میں مبُتلا کرنے کی مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے اور اِس وجہ سے غیر شادی شُدہ نیک بندے کیلئے شیطان کے اِس وار سے بچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ، ذرا سوچئے کہ شیطان کے عورت جیسے خطرناک ہتھیار سے جب غیر شادی شُدہ نیک لوگوں کا بچنا مشکل ہے تو عام لوگوں  کا بچنا کس قدر دُشوار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نہ صرف حضرت سَیِّدُنا عکّاف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلکہ سبھی کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو شادی سے محروم رکھیں ۔ چنانچہ

حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  شادی کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور (بلا وجہ)شادی نہ کرنے سے سختی سے منع فرمایا کرتے تھے۔ ([1])ہمارے اَسْلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کے نزدیک بھی بدکاری میں مبُتلا کرنے والے شیطانی ہتھکنڈے سے بچنے کا مؤثّر ذریعہ شادی ہی تھا  بلکہ اُن حضرات کے لئے رفیقۂ حیات کے بغیر جوانی گُزارنے کا تصوُّر کرنا بھی مشکل تھا۔ حضرت سَیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہی لے لیجئے کہ حدیثِ پاک کے مطابق جن کی نیکیاں ستاروں کی تعداد کے برابر  قرار دی گئی ہیں اور جنہیں دیکھ کر شیطان بھی راستہ تبدیل کرلیا کرتا تھا۔ ([2])مگر اِس کے باوُجُود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا کہ جوانی ہو اور بیوی نہ ہو اس بارے میں سوچ کر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اگر مجھے یقینی طور پر معلوم ہوکہ زندگی کے صرف تین دن باقی بچے ہیں تب بھی (غیر شادی شُدہ رہنے کے بجائے) میں شادی کرلینا ہی پسند کروں گا۔ ([3])اسی طرح حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایاکہ اگر میری زندگی کے صرف دس دن باقی بچے ہوں اور مجھے یقین ہو کہ دسویں دن موت آجائے گی تو اس وقت بھی (غیر شادی شُدہ رہنے کے بجائے) اگر شادی کی استطاعت ہوگی تو میں فتنے سے بچنے کیلئے ضرور شادی کروں گا۔ ([4])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شادی کے معاملے میں والدین کی ذِمّہ داری

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اِن فرامین کی روشنی میں بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ جوان مرد و عورت کاکسی خاص عذر یا کسی صحیح وجہ کے بغیر غیر شادی شُدہ رہنا انتہائی خطرناک ہے لہٰذا والدین یا سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ جب بچّے شادی کے قابل ہوجائیں تو وقت ضائع کئے بغیر اُن کی شادی کردیں تاکہ وہ اَخلاقی بُرائیوں کا شکار نہ ہوں ، حدیثِ پاک میں بھی اسی بات کی تعلیم دی گئی ہے جیساکہ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَلْيُحْسِنْ  اِسْمَهُ وَاَدَّبَهُ فَاِذَا بَلَغَ فَلْيُزَوِّجْہُ یعنی جس کا بچّہ پیدا ہو اُسے چاہئے کہ اُس کا اچھا نام رکھے اور اس کی اچھی تَرْبِیَت کرے اور جب وہ بالغ ہو تو اُس کی شادی کردے۔ ([5])

وقت کا تقاضا

واقعی موجودہ دور میں اِس فرمانِ نبوی پر عمل کی سخت ضرورت ہے ، وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بچّے شادی  کے لائق ہوجائیں تو اُن کی شادی کردی جائے  کیونکہ یہ مِیڈیا (Media)کا دور ہے اس دور میں پرنٹ مِیڈیا (Print Media)ہو یا سوشل مِیڈیا (Social Media)اَخلاقیات تباہ کرنے میں دونوں ہی اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں ، بدقسمتی سے سوشل مِیڈیا (Social Media)کے طور پر فیس بُک (Facebook) ، واٹس ایپ (Whatsapp) ، آئی ایم او (IMO)اور ٹیوٹر (Twitter) وغیرہ کا فضول اور غلط استعمال بہت عام ہو چکا ہے ، عام طور پر نئی نَسْل کے لڑکے اور لڑکیاں فطری خواہشات سے مغلوب ہو



[1]   مسند احمد ، مسند انس بن مالک ، ۴ / ۳۱۷ ، حدیث : ۱۲۶۱۳

[2]   بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن الخطاب ، ۲ / ۵۲۶ ،  حدیث : ۳۶۸۳ ماخوذا

[3]   کنز العمال ، کتاب النکاح ، باب الترغیب فیه ، جزء : ۲ ، ۸ / ۲۰۴ ، حدیث : ۴۵۵۸۲

[4]   کنز العمال ، کتاب النکاح ،  باب الترغیب فیه ، جزء : ۲ ، ۸ / ۲۰۶ ، حدیث : ۴۵۶۰۲

[5]    شعب الایمان ، باب فی حقوق الاولاد والاھلین ، ۶ / ۴۰۱ ، حدیث : ۸۶۶۶



Total Pages: 74

Go To