Book Name:Islami Shadi

اختیار کو ظُلم و زِیادَتی کا حیلہ نہ بناؤ کہ انہیں نقصان پہنچانے اور ایذاء دینے کی نیّت سے رجوع کرتے رہو۔ یہ فعل سراسر اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھٹھا مذاق بنانے کے مُتَرادِف ہے کہ جیسے مذاق میں کسی چیز کی پروا نہیں کی جاتی اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی پروا نہیں کرتے اور یہ بھی یاد رکھو کہ جو اس طرح کرتا ہے وہ اپنی جان پر ہی ظُلم کرتا ہے کہ حکمِ الٰہی کی مخالفت کرکے گنہگار ہوتا ہے۔ ([1])

رجوع کا حق کب تک حاصل ہے؟

      اسی طرح ایک عورت جس نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ اس کو طَلَاق دیتا رہے گا اور رجوع کرتا رہے گا اور ہر مرتبہ جب طَلَاق کی عِدّت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلے گا اور پھر طَلَاق دیدے گا ، اسی طرح عمر بھر اس  کو قید رکھے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ([2])

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ- (پ۲ ، البقرة : ۲۲۹)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان : طَلَاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔

      تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیت کا خلاصہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد کو طَلَاق دینے کا اختیار دو بار تک ہے۔ اگر تیسری طَلَاق دی تو عورت شوہر پر حرام ہو جائے گی اور جب تک پہلے شوہر کی عِدّت گُزار کر کسی دوسرے شوہر سے نکاح اور ہم بستری کر کے عِدّت نہ گُزار لے تب تک پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی۔ لہٰذا ایک طَلَاق یا دو طَلَاق کے بعد رجوع کر کے اچھے طریقے سے اسے رکھ لو یا طَلَاق دے کر اسے چھوڑ دو تاکہ عورت اپنا کوئی دوسرا انتظام کرسکے۔ اچھے طریقےسے روکنے سے مراد رجوع کرکے روک لینا ہے اور اچھے طریقے سے چھوڑدینے سے مراد ہے کہ طَلَاق دے کر عِدّت ختم ہونے دے کہ اس طرح ایک طَلَاق بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔ شریعت نے طَلَاق دینے اور نہ دینے کی دونوں صورتوں میں بھلائی اور خیر خواہی کا فرمایا ہے۔ ہمارے زمانے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دونوں صورتوں میں الٹا چلتی ہے ، طَلَاق دینے میں بھی غلط طریقہ اور بیوی کو رکھنے میں غلط طریقہ۔ ([3])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بہرحال اگر طَلَاق دینے کی نوبت آہی جائے تو اس صورت میں بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی سے بچتے ہوئے یَکْمُشْت تین طَلَاقیں دینے کے بجائے شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق ہی طَلَاق دینی چاہئے۔ آیئے طَلَاق سے متعلِّق دارُ الْاِفتاء اہلسنّت کی طرف سے بیان کردہ کچھ اہم باتیں اور شَرْعی مسائل مُلاحَظہ کیجئے:

طَلَاق سے متعلِّق مفید مدنی پھول

٭سرکارِ عالی وَقَار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ چیز طَلَاق ہے۔ ([4])کسی معقولِ شَرْعی سبب کے بغیر طَلَاق دینا اِسلام میں سخت ناپسندیدہ اور ناجائز و گُناہ ہے جبکہ طَلَاق کے کثیر مُعاشَرَتی نقصانات اِس کے علاوہ ہیں لہٰذاحتی الامکان طَلَاق دینے سے بچنا چاہئے۔ ٭میاں بیوی کے درمیان اگر ناچاقی ہوجائے تو تعلُّقات دوبارہ بہتر بنانے کیلئے قرآنِ کریم کے پارہ نمبر 5سورۃ النساء کی آیت 33 اور 34 میں بیان کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آپس میں صلح کی کوشش کرنی چاہئے جس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً اگر بیوی کی طرف سے کوئی نا روا رَوَیّہ ہے تو شوہر بیوی کو اچھے انداز میں سمجھائے اور اگر اس سے بھی معاملہ حل نہ ہو تو شوہر چند دنوں کے لئے بیوی کو گھر میں رکھتے ہوئے  اس سے اپنا بستر جدا کرلے اور مقصد یہ ہو کہ طَلَاق کے نتیجے میں گُزاری جانے والی تنہا زندگی کا ایک نمونہ سامنے آجائے ، قَوِی اِمکان ہے کہ اس تصوُّر ہی سے دونوں سبق



[1]   تفسیرصراط الجنان ، پ۲ ، البقرة ، تحت الآیۃ : ۲۳۱ ، ۱ / ۳۵۴

[2]   تفسیر البحر المحیط ، پ۲ ، البقرة ،  تحت الآیة :  ۲۲۹ ،  ۲ / ۲۰۲ مفهوما

[3]   صراط الجنان ، پ۲ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۲۹ ، ۱ / ۳۵۰

[4]   ابوداؤد ، کتاب الطلاق ،  باب فی کراهیة الطلاق ، ۲ / ۳۷۰ ، حدیث : ۲۱۷۸



Total Pages: 74

Go To