Book Name:Islami Shadi

ہوا اِس کے علاوہ قرآن و حدیث میں باقاعدہ اہلِ ایمان کو نکاح کا حکم اور اِس کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشادِ خُداوندی عَزَّ  وَجَلَّہے :

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ (پ۱۸ ، النور : ۳۲)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اور نکاح کردو اپنوں میں اُنکا جو بے نکاح ہوں ۔

یونہی ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی بارہا اپنے فرامین کے ذریعے نکاح و شادی کی ترغیب و اہمیَّت کو بیان فرمایا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا :  مَنْ اَحَبَّ فِطْرَتِیْ فَلْیَسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ وَمِنْ سُنَّتِی النِّکَاحُ یعنی جو شخص  میری فِطرت (یعنی اسلام) سے محبت کرتا ہے اُسے میری سنّت اختیار کرنی چاہئے اور نکاح بھی میری سنّت ہے۔ ([1]) اور ارشاد فرمایا : اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ یعنی نکاح میری سنّت ہے تو جس نے میری سنّت پر عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں ۔ ([2]) اور ارشاد فرمایا : مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ یعنی جو میری سنّت سے رُوگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں۔ ([3])

نکاح میں کونسے فوائد پیشِ نظر ہوں؟

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم نے شادی کی اہمیَّت کے بارے میں تو جان ہی لیا مگر چونکہ انسان کی فِطرت ہے کہ اُسے جب تک کسی چیز کے فوائد معلوم نہ ہوں وہ اُسے اہم نہیں سمجھتا یا یوں سمجھئے کہ جو چیز جتنی فائدہ مند ہوتی ہے وہ اتنی ہی ہمارے لئے اہم ہوجاتی ، اس لئے شادی کرنے کے فوائد اور نہ کرنے کے نقصانا ت جاننا بھی ہمارے لئے بہت ضروری ہے تاکہ ہم اسے صحیح معنوں میں اہمیَّت دے سکیں ، اگرچہ بہت سے لوگوں کے نزدیک شادی مفید چیز ہی  ہے اور وہ اس وجہ سے اسے اہمیَّت دیتے بھی ہیں مگر عام طور پر لوگوں کی اکثریّت شاید شادی کو صرف اس اعتبار سے فائدہ مند سمجھتی ہے کہ یہ فطری جذبات کی تسکین کے حُصُول کا جائز ذریعہ اور مذہبی طریقہ ہے یا اِس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ اِس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ اَولاد حاصل ہونے اور نَسْل جاری رہنے کا ذریعہ ہے اور بس ، حالانکہ اِن فوائد کے علاوہ شادی کے اَور بھی فوائد ہیں بالخصوص دینی فوائد و فضائل تو بہت زیادہ ہیں اور مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں ہر چیز کی طرح شادی میں بھی اسلامی ، شَرْعی اور اُخروی فوائد ہی کو ترجیحی بُنیادوں پر پیشِ نظر رکھنا چاہئے بلکہ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وقتاً فوقتاً شادی کرنے پر زور دیتے ہوئے اِس کے جو عظیم فوائد اپنے فرامین میں بیان فرمائے  اگر اُن پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اسلام میں شادی کی بہت اہمیت ہے۔ آئیے شادی کے فضائل و فوائد سے متعلِّق 6 فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ملاحظہ کیجئے :

شادی کے فوائد و فضائل کے بارے میں احادیثِ مُبارَکہ

1۔  تَنَاکَحُوْا تَکْثُرُوْا فَاِنِّیْ اُبَاہِیْ بِکُمُ الْاُمَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی نکاح کرکے اَولاد کی کثرت کرو کہ میں قیامت کے دن تمہارے سبب دوسری اُمّتوں پر فخر کروں گا ۔ ([4]) 

2۔  مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَاءَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ فَاِنَّہُ اَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَ اَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَا فَلْیَصُمْ فَاِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وَجَاءٌ یعنی تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ ضرور نکاح کرے کیونکہ نکاح  ، نگاہ کو جُھکانے والا اور شرم گاہ کا محافظ ہے اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ روزے رکھے کہ روزے اس کیلئے ڈھال ہیں۔([5])  

3۔  مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْاِيمَانِ ،  فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي یعنی جس نے نکاح کیا بے شک  اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا اب باقی  آدھے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے  ڈرے۔ ([6])

 



[1]   مصنف عبدالرزاق ، کتاب النکاح ، باب وجوب النکاح وفضله ، ۶ / ۱۳۵ ، حديث : ۱۰۴۱۸

[2]   ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب ماجاء فی فضل النکاح ، ۲ / ۴۰۶ ، حديث : ۱۸۴۶

[3]   بخاری ، کتاب النکاح ، باب الترغيب فی النکاح ، ۳ / ۴۲۱ ، حديث :  ۵۰۶۳

[4]   مصنف عبدالرزاق ، کتاب النکاح ، باب وجوب النکاح وفضله ، ۶ / ۱۳۸ ، حدیث : ۱۰۴۳۲

[5]   نسائی ، کتاب النکاح ، باب الحث علی النکاح ،  ص ۵۲۲ ، حديث : ۳۲۰۶

[6]   معجم اوسط ، ۵ / ۳۷۲ ، حدیث : ۷۶۴۷



Total Pages: 74

Go To