Book Name:Islami Shadi

جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : جب کسی کام کا ارادہ ہو تو اس کے انجام کے بارے میں غور کرلیا کرو ، اگر انجام اچھا ہو تو وہ کام کر گزرو اور اگر بُرا ہو تو باز رہو۔ ([1])اور ارشاد فرمایا : بُردباری اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ ([2])اور ارشاد فرمایا : جس نے تَوَقُّف کیا تو اس نے اپنا مقصد پا لیا یا قریب ہے کہ وه اپنا مقصد پالے اور جس نے جلدی کی تو اس نے خطا کی یا قریب ہے کہ وہ خطا کھا جائے۔ ([3])

ان احادیثِ طیبہ کی روشنی میں میاں بیوی میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ طَلَاق دینے یا طَلَاق کا مُطالَبہ کرنے سے پہلے انجام کو لازمی پیشِ نظر رکھے اور کم سے کم یہ غور کرلے کہ کہیں میرا فیصلہ بعد میں میرے لئے پچھتاوے کا سبب تو نہیں بنے گا۔ بہرحال جب تک حالات انتہائی ناگُزیر نہ ہوجائیں ، نہ مرد کو  طَلَاق دینی چاہئے اور نہ عورت کو طَلَاق کا مُطالَبہ کرنا چاہئے کہ سخت مجبوری کے بغیر طَلَاق دینا یا طَلَاق کا مُطالَبہ کرنا نہایت مذموم ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : شادی کرو اور (عذرِ شَرْعی کے بغیر)طَلَاق نہ دیا کرو کہ طَلَاق سے عرشِ الٰہی ہلنے لگتا ہے۔ ([4])ایک اور حدیثِ پاک میں ہے : جو عورت کسی حرج کے بغیر اپنے شوہر سے طَلَاق کا مُطالَبہ کرے اس پر جنّت کی خُوشبو حرام ہے۔ ([5])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

تنگ کرنے کیلئے طَلَاق نہ دینا کیسا؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی انتہائی نا گُزیر ہوجائے اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو طَلَاق دینے میں کوئی حرج نہیں  بلکہ اگر شوہر کا پختہ اور حتمی ارادہ ہو کہ اب وہ اپنی بیوی کے ساتھ بالکل نِباہ نہیں کرے گااور اُس کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا تو ایسی صورت میں اسے شَرْعاً کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ محض عورت کو تنگ کرنے کیلئے طَلَاق میں بلاوجہ تاخیر کرے یا طَلَاقِ رجعی دینے کے بعد عِدّت ختم ہونے کے قریب ظُلماً رجوع کرے کہ یہ زمانہ جاہلیت کی بُرائیوں میں سے ایک بَدترین بُرائی ہے البتہ اگر طَلَاقِ رجعی کے بعد اپنے کئے پر پشیمانی  کی وجہ سے رجوع کرتا ہے  اور آئندہ اچھے برتاؤ کا ارادہ بھی ہے تو رجوع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، مگر عورت کو اپنی قید سے آزاد نہ کرنے ، اسے اپنے ساتھ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ بدسُلوکی کرنے ، یا اسے میکے بھیج کر نان نفقہ اور اس کے دیگر حُقوق سے دَسْت بردار ہوجانے اور اسے لٹکائے رکھنے کی غرض سے طَلَاق نہ دینا یا طَلَاق دے کر عِدّت ختم ہونے کے قریب قریب محض اس لئے رجوع کر لینا کہ میں رجوع کے بعد دوبارہ اسے طَلَاق دوں گا تاکہ یہ عِدّت کی صُعُوبت میں مبُتلا رہے ، شوہر کا یہ رَوَیّہ ظُلم پر مبنی ہے اور اس سے شریعت مطہرہ نے باز رہنے کا حکم دیا ہے ، جیساکہ فرمانِ خُداوندی عَزَّ  وَجَلَّ ہے :

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا٘- (پ۲ ، البقرة : ۲۳۱)

تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور جب تم عورتوں کو طَلَاق دو اور وہ اپنی (عِدّت کی اختتامی)مُدّت (کے قریب) تک پہنچ جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انہیں نقصان پہنچانے کیلئے نہ روک رکھو تاکہ تم (ان پر) زِیادَتی کرو اور جو ایسا کرے تو اس نے اپنی جان پر ظُلم کیا اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا مذاق نہ بنالو ۔   

تفسیر صراطُ الجنان میں ہے کہ یہ آیت ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ، انہوں نے اپنی عورت کو طَلَاق دی تھی اور جب عِدّت ختم ہونے کے قریب ہوتی تھی تو رجوع کر لیا کرتے تھے تاکہ عورت قید میں پڑی رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ ہے کہ جب تم عورتوں کو طَلَاق دو اور وہ اپنی عِدّت کی اختتامی مُدّت کے قریب پہنچ جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ تمہیں رجوع کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن اس



[1]   الزھد لابن المبارک ، باب التحضیض علی طاعۃ اللہ عزوجل ، ص۱۴ ، حدیث : ۴۱

[2]   مجمع الزوائد ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی الرفق ، ۸ / ۴۳ ، حدیث : ۱۲۶۵۲

[3]   معجم کبیر ، ۱۷ / ۳۱۰ ، حدیث : ۸۵۸

[4]   مسند الفردوس ، ۲ / ۵۱ ، حدیث : ۲۲۹۲

[5]   ابوداؤد  ،  کتاب الطلاق  ،  باب فی الخلع  ، ۲ / ۳۹۰  ، حدیث : ۲۲۲۶



Total Pages: 74

Go To