Book Name:Islami Shadi

ہروقت خبردار رہا کریں نیز اگر اپنے رفیقِ حیات کے بارے میں کسی سے کوئی منفی بات سنیں تو اچھی طرح تحقیق کرلیں ۔

جو لوگ حسد یا کسی بھی وجہ سے میاں بیوی کے اختلاف کا سبب بنتے ہیں انہیں اس سے باز آنا چاہئے کیونکہ دومسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا انتہائی بُری خصلت ہے اور بالخصوص میاں بیوی کو ایک دوسرے کے خِلاف بھڑکانے والوں کو تو ڈر جانا چاہئے کہ ایسوں کے بارے میں ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی عورت کو اس کے شوہر یا غلام کو اس کے آقا کی سرکشی پر اُبھارا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ([1])

غیر میں دلچسپی

بعض اوقات میاں بیوی میں سے کسی ایک کا غیر میں دلچسپی رکھنا فساد کی جڑ ثابت ہوتا ہے یعنی شوہر کی کسی غیر عورت میں یا بیوی کی کسی غیر مرد میں دلچسپی اُس کے رفیقِ سفر کی غیرت کو للکارتی ہے ، اگر شوہر اپنی بیوی کے سامنے کسی عورت کے خدّ و خال ، چال ڈھال ، قد کاٹھ ، خُوبصورتی یا عادات و اطوار کی عُمدگی کا تذکرہ کرے تو بیوی کو یہ بات انتہائی ناگوار محسوس ہوتی ہے اسی طرح اگر  بیوی اپنے شوہر کے سامنے کسی مرد کی اس انداز میں خُوبیاں بیان کرے تو یقیناً شوہر غیرت کھائے گا اور غیرت کھانی بھی چاہئے۔ ایسی صورت میں اگر بروقت میاں بیوی کے درمیان نوک جھونک نہ بھی ہوتو آئندہ نوک جھونک ہونے کے قوی اِمکانات ہوتے ہیں  لہذا میاں بیوی کو چاہئے کہ ہمیشہ اپنے  رفیقِ حیات ہی کی طرف متوجّہ رہیں اور غیر میں دلچسپی لینے سے لازمی گُریز کریں کیونکہ یہ شرعی اور اَخلاقی دونوں اعتبار سے بُرا ہے۔

شکوک و شبہات اور توہّمات

      فی زمانہ میاں بیوی کے اختلافات کی ایک بہت بڑی وجہ شک و وہم بھی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات اور تَوَہُّمات میں مبُتلا ہوجاتے ہیں اور پھر یہ شکوک و شبہات ان کیلئے ایک دوسرے پر عدم اعتمادی میں اضافہ کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان  کھرے معاملات میں بھی شک کیا جاتا ہے جن میں شک و وہم کی بالکل گنجائش نہیں ہوتی ، بالآخر میاں بیوی کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح اس قدر کمزور ہوجاتا ہے کہ ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ اگرچہ میاں بیوی کا ایک دوسرے پر غیرضروری شک کرنا انتہائی نامناسب ہونے کے علاوہ بدگمانی جیسے حرام اور جہنّم میں لیجانے والے کام کا سبب بھی ہے مگر بعض اوقات جانے انجانے میں واقعی کوئی ایسا معاملہ سرزد ہوجاتا ہے کہ فریقِ ثانی شک کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے۔ لہٰذا میاں بیوی کو اختلاف کا سبب بننے والی چیزوں سے بچنے کے ساتھ ایسی چیزوں سے بھی گُریز کرنا چاہئے جو ان کے مابین شکوک و شبہات کیلئے سنگِ بُنیاد ثابت ہوں ۔                   

شک پیدا کرنے  میں سوشل میڈیا اور موبائل کا کردار

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میاں بیوی کے درمیان شک پیدا کرنے کے یوں تو بہت سے اسباب ہیں مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کِیا جاسکتا کہ موجودہ دَور میں سوشل مِیڈیا اور موبائل کا غیر معمولی استعمال میاں بیوی میں شک کا بیج بونے میں بہت زیادہ کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ سوشل مِیڈیا اور موبائل فون کے ذریعے عشقِ مجازی کی وباء پھیلنے کے واقعات بہت عام ہیں ، عُمُوماً آوارہ لڑکے نَفْسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے ٹائم پاس “ کرنے کی آڑ میں کسی نہ کسی طرح صِنْفِ نازُک کا فون نمبر حاصل کرنے کے بعد یا فیس بُک وغیرہ کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرلیتے ہیں اور بعض اَوقات پہلا قدم صِنْفِ نازُک ہی کی طرف سے اُٹھایا جاتا ہے ، یُوں کچھ ہی عرصے میں اَجْنَبِیّت ختم ہوجاتی اور بے حیائی اور عشقِ مجازی  کا نہ ختم ہونے والا سِلْسِلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مناسب حد تک موبائل اور سوشل مِیڈیا کا استعمال میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے بالخصوص بیوی کو شوہر کی نظرمیں مشکوک بنادیتا ہے لہٰذا ان چیزوں کا استعمال صرف اور صرف ضرورت کی حد تک ہونا چاہئے۔

موبائل استعمال کرنے کی احتیاط

          شوہر کو چاہئے کہ وہ دفتر کی پریشانیاں موبائل فون کے ساتھ گھر لے کر نہ آیا کرے نیز گھر پر موبائل فون کے ذریعے لوگوں سے باتوں میں یا سوشل مِیڈیا کے استعمال میں اس قدر مصروف نہ ہوجائے کہ بیوی بچّوں کو وقت ہی نہ دے پائےاور اسلامی بہنوں کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ شوہر کی



[1]   ابو داؤد ، کتاب الطلاق  ، باب فیمن خبب امراة علی زوجها   الخ ، ۲ / ۳۶۹ ، حدیث : ۲۱۷۵



Total Pages: 74

Go To