Book Name:Islami Shadi

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے فرمایا : آگے چلے جاؤ ، وہ حضرات آگے روانہ ہوگئے تو فرمایا : آؤ میں تمہارے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کروں ، میں نے اُن کے ساتھ مقابلہ کیا اور آگے نکل گئی۔ کچھ عرصے بعد کسی اور سفر میں بھی میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا : آگے روانہ ہوجاؤ۔ پھر مجھ سے فرمایا : آؤ دوڑنے کا مقابلہ کرتے ہیں ، میں پہلے والا مقابلہ بھول چکی تھی اور (پہلے کے مقابلے میں )فربہ بھی تھی ، میں نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اِس حالت میں کیسے مقابلہ کرسکتی ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : تم ضرور کرسکتی ہو۔ میں نے مقابلہ کیا تو حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جیت گئے اور ارشاد فرمایا : یہ اُس (دن کی)جیت کا بدلہ ہوگیا۔ ([1])

مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ ہے اپنی ازواجِ پاک سے اَخلاق کا برتاؤ۔ ایسے اَخلاق سے گھر جنّت بن جاتا ہے ، مسلمان یہ اَخلاق بھول گئے۔ خیال رہے کہ اُمُّ المومنین عائشہ صِدّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا)لَڑکْپَن میں حضور (سَرْوَرِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) کے نکاح میں آئیں جب کہ حضور (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )کی عمر شریف پچاس سال کے قریب تھی ، اِسقدر تَفاوُتِ عُمر (یعنی عُمر میں فرق )کے باوُجُود آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا )کبھی نہ گھبرائیں ۔ کیوں ؟ اِن اَخلاقِ کریمانہ کی وجہ سے۔ ([2])معلوم ہوا کہ شوہر کو اپنی زَوجہ کے ساتھ موقع کی مناسبت سے خُوش طبعی بھی کرنی چاہئے ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ یہی چیز باعثِ ثواب بھی بن سکتی ہے ۔ مگر بعض لوگ بے رُخی ، روکھے پن یا خشک مِزاجی پر اپنی سنجیدگی کی بُنیاد رکھتے ہیں اور شاید یہ سوچتے ہیں کہ ہماری اک ذرا سی مسکراہٹ یا معمولی سی خُوش طبعی ہماری سنجیدگی کی عمارت کو زمین بوس کردے گی حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ کبھی کبھار مِزاح (خُوش طبعی )کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابت بھی ہے۔ جیساکہ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کبھی کبھی خُوش طبعی کرنا ثابت ہے ، اسی لیے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی خُوش طبعی کرنا سنّتِ مُسْتَحَبّہ ہے۔ ([3])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں تمام معاملات میں حضور اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ 

ایک دوسرے کو نبھائیے آشیانہ بچائیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بدقسمتی سے فی زمانہ ہم یہ اَخلاق بُھلا چکے ہیں شاید اسی وجہ سے اِزْدِواجی زندگی کا سُکون بے چینی کی نذر ہوگیا ہے۔ میاں بیوی میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ، گھریلو بدامنی عام ہوتی جارہی ہے اور گھر میدانِ جنگ کا نقشہ پیش  کر رہا ہوتا ہے۔ اگر آج بھی ہم حسنِ سُلوک ، برداشت اور نرمی سے متعلِّق اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور حسنِ اَخلاق کے پیکر ، خَلْق کے رہبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اَخلاقِ کریمہ کو اختیار کریں تو گھریلو امن و امان بحال اور اُجڑا چمن پھر سے آباد ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اگر خُدانخواستہ کسی کے گھر میں باہمی اختلافات نے ڈیرا جمالیا ہو ، میاں بیوی کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ جاری رہتا ہویا دل سے ایک دوسرے کی محبت ماند پڑ گئی یا اہمیَّت کم ہوگئی ہو تو میاں بیوی کو چاہئے کہ گرمی کے بجائے نرمی ، غصے کی جگہ برداشت اور بدلہ لینے کے بجائے در گزر سے کام لیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ آشیانہ بھی بکھرنے اور اُجڑنے سے بچ جائے گا اور ڈھیروں فضائل بھی حاصل ہونگے۔ آئیے نرمی ، صبر و برداشت اور درگزر کی اہمیَّت کے بارے میں  سنتے ہیں :

          نرمی کی اہمیَّت کا اندازہ تو اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے اپنے دو انبیاء ، حضرت موسی عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ



[1]   سنن الکبریٰ للنسائی ، کتاب عشرة النساء ، مسابقة الرجل زوجته ، ۵ / ۳۰۴ ، حدیث : ۸۹۴۵۔ یاد رہے !یہ دوڑ تنہائی میں تھی لہٰذا فی زمانہ ہونے والی مرد و عورت کی دوڑ (Race) کیلئے اس حدیث کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

[2]   مرآة المناجیح ، ۵ / ۹۶

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۴۹۳ ملتقطا



Total Pages: 74

Go To