Book Name:Islami Shadi

کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے بسا اوقات گھر کے افراد بھی ان کی مسکراہٹ دیکھنے کو تَرس جاتے ہیں ۔ یاد رکھئے! روکھے پن اور غیر ضروری سنجیدگی صرف گھر کے افراد کو ہی اُکتاہٹ میں مبُتلا نہیں کرتی بلکہ دیگر لوگ بھی اس طرح کا رَوَیّہ رکھنے والے شخص کے قریب بیٹھنا پسند نہیں کرتے ، لہٰذا خُشک مِزاجی سے حتی الامکان بچتے ہوئے مُسکراہٹ ، مِلنساری اور خندہ پیشانی کی عادات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کیجئےبلکہ کبھی کبھار موقع کی مناسبت سے خُوش  طبعی کرنے میں بھی ہرگز تاَمّل سے کام نہ لیجئے۔

ہنسی مذاق کی کثرت کا نقصان

یاد رکھئے!مسکراہٹ اور خُوش طبعی اختیار کرنے کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سنجیدہ باتوں کو بھی ہنسی مذاق کی نذر کر دیا جائے ، اس طرح بے موقع ہنسی مذاق کرنے اور بات بات پر ہنستے رہنے والے کا لوگوں کی نظر میں وَقَار مجروح  ہوجاتا ہے ، اس کی بات کا وزن کم ہوجاتا ہے ، اس کی سنجیدہ بات کو بھی ہنسی مذاق سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے ، اہم معاملات میں اُس سے مشورہ لینا گوارا نہیں کیا جاتا اور اگر وہ خود ہی کسی معاملے میں کوئی مفید مشورہ دے تو اُس کے مشورے کو اہمیَّت نہیں دی جاتی ۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جو شخص زیادہ ہنستا ہے ، اس کا دبدبہ اور رُعب چلا جاتا ہے اور جو آدمی مِزاح (کی کثرت)کرتا ہے وہ دوسروں کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ ([1]) بلکہ زیادہ ہنسنے سے تو ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے منع فرمایا ہے چنانچہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : وَلَا تُكْثِرِ الضَّحْكَ فَاِنَّ كَثْرَةَ الضَّحْكِ تُمِيْتُ الْقَلْبَ یعنی بکثرت نہ ہنسو کہ ہنسنے کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔ ([2])

خُوش طبعی کیلئے گُناہوں کا اِرتکاب نہ کیجئے

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ بہت زیادہ نہ ہنسا کریں ، نیز دوست اَحباب یا بیوی بچّوں کے ساتھ موقع کی مناسبت سے تھوڑی بہت خُوش طبعی کرنے میں بھی ایسا طریقہ ہرگز ہرگز اختیار نہ کریں جو جُھوٹ ، غیبت ، چُغلی یا کسی کی دل آزاری پر مشتمل ہوکیونکہ خُوش طبعی کے طور پر بھی جُھوٹ بولنا یا  غیبت ، چُغلی اور مسلمانوں کی دل آزاری کرنا جائز نہیں ۔ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مِزاح (خُوش طبعی) کے حوالے سے فرماتے ہیں : دل خُوش بات کرنا ، ایسی بات جس سے اپنا اور سننے والے کا دل خُوش ہوجاوے مِزاح ہے اور جس سے دوسرے کو  تکلیف پہنچے جیسے کسی کا مذاق اڑانا سُخْرِیہ ہے۔ مِزاح اچھی چیز ہے سُخْرِیہ بُری بات ہے۔ ([3]) ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی خُوش طبعی فرمایا کرتے تھے مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظَرافت و خُوش طبعی بیان کردہ بُرائیوں سے پاک ہوا کرتی تھی جیساکہ  

حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا یَارسُولَاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ آپ ہم سے خُوش طبعی فرماتے ہیں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ہم سچی بات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے۔ ([4]) لہٰذا ہمیں چاہئے کہ  خُوش طبعی کے معاملے میں بھی ہم اپنے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طرزِ عمل ہی کو اپنے لئے نمونہ بنائیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں ہمیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے رہنمائی نہ ملی ہو حتی کہ ایک مرد کو مثالی شوہر بننے کے لئے جن خُصُوصِیَّات کی ضرورت ہے وہ تمام باتیں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ مُبارَکہ سے سیکھی جاسکتی ہیں ۔ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ صرف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ بھی مِزاح فرمایا کرتے تھے۔ آئیے اس ضمن میں ایک واقعہ مُلاحَظہ کیجئے :

دوڑنے کا مقابلہ

حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ میں ایک سفر میں رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ تھی ، میری لڑکپن کی عمر تھی ،



[1]   احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان ، بیان عظیم خطر اللسان    الخ ،  ۳ / ۱۵۸

[2]   ترمذی ، کتاب الزھد ، باب من اتقی المحارم   الخ ،  ۴ / ۱۳۷ ، حدیث : ۲۳۱۲

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۴۹۳

[4]   ترمذی ، کتاب  البر و الصلة  ، باب ما جاء فی الـمزاح ، ۳ / ۳۹۹ ، حدیث : ۱۹۹۷



Total Pages: 74

Go To