Book Name:Islami Shadi

غیرت جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پسند ہے وہ ایسے معاملے میں غیرت کھانا ہے جس میں شک کا پہلو موجود ہو اور جو غیرت اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کو ناپسند ہے وہ ایسے معاملے میں غیرت کھانا ہے جس میں شک کا پہلو نہ ہو۔ ([1])

مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : بلاوجہ کسی پر بدگمانی کرنا غیرت نہیں بلکہ فتنہ و فساد کی جڑ ہے بعض خاوندوں کو اپنی بیویوں پر بلاوجہ بدگمانی رہتی ہے جس سے ان کے گھروں میں دن رات جھگڑے رہتے ہیں ، یہ غیرت رَبّ تعالیٰ کو ناپسند ہے ، رَبّ تعالیٰ فرماتا ہے : (اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶ ، الحجرات : ۱۲)) (تَرْجَمَۂ کنز الایمان : بے شک کوئی گمان گُناہ ہوجاتا ہے۔ )([2])

غیرت میں حد سے بڑھنے کی مُمانعت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ جن معاملات میں شک و شُبہ کی گنجائش ہی نہ ہو ان میں بلاوجہ شکوک و شُبہات میں مبُتلا ہو کر اپنے متعلقین پر غیرت کھانا دُرُست نہیں کیونکہ یہ بدگمانی ہے اور بدگمانی حرام ہےلہٰذا ہمیں چاہئے کہ غیرت کے معاملے میں حد سے بڑھنے کے بجائے ہمیشہ ہوش سے کام لیں ۔ جیساکہ حضرت سیّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے شہزادے کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  اے میرے لختِ جگر!اپنی بیوی کے معاملے میں حد سے نہ بڑھنا کہ تم اپنی بیوی پر تہمت لگا بیٹھو حالانکہ وہ اس تہمت سے بَری ہو۔ ([3])اسی طرح امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنا عَلِیُّ المُرتَضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : اپنی زَوجہ پر اتنی زیادہ غیرت بھی نہ کھاؤ کہ وہ تمہاری وجہ سے بدنام ہوجائے کیونکہ غیرت کی ایک حد ہے اگر بندہ اس حد سے تجاوُز کرے تو ممکن ہے کہ اس کے ذِمّہ جو حُقوق ہیں اُن میں کمی کا مرتکب ہوجائے۔ ([4])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خوش مزاجی،عفو و درگزر اور باہمی

صلح جوئی سے مُتَعَلّق  مدنی پھول

اِزْدِواجی زندگی کیلئے بد مِزاجی کا نقصان

میاں بیوی کو چاہئے کہ بدمِزاجی کو اپنے قریب بھی نہ آنے دیں ، بات بات پر چیخ پکار سے کام لینا ، چھوٹی سی غلطی پر بلاوجہ غصے اور جذباتی پن کا مُظاہَرہ کرنا ، ایک دوسرے کے ساتھ روکھے پن سے پیش آنا ، ہر وقت چہرہ سپَاٹ و سنجیدہ رکھنا ، سیدھے مُنہ بات نہ کرنا ، خُوشی و مَسَرَّت یا رَنْج و غم کے موقع پر بھی چہرہ بے تأثّر رکھنا کہ خُوشی یا غم کا اظہار ہی نہ ہو یونہی گھر کے دیگر معاملات سے لاتعلّقی  برتنا یا بچّوں سے بے رُخی سے پیش آنا دُرُست نہیں کہ یہ عادتیں انسان کی بدمِزاجی اور بد اَخلاقی کا پتا دیتی ہیں ، اس سے  گھر کے ماحول پر انتہائی منفی اثرات مُرتّب ہوتے ہیں ، میاں بیوی کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا اور بچّوں سے ہم آہنگی ختم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ آپس میں ایک دوسرے سے بھی اور اپنے بچّوں کے ساتھ بھی مناسب خُوش طبعی کا اظہار کریں بلکہ ہوسکے تو موقع کے مطابق چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھیں کہ یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنّت ہے۔

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مسکرا کر کیا کرتے تھے ، میں نے ان سے اِس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا : میں نے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ دورانِ گفتگو مسکرا تے رہتے تھے۔ ([5])

پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِس طرزِ عمل سے اُن لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہئے جو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی اختیار



[1]   ابو داؤد ، کتاب الجھاد ،  باب فی الخیلاء فی الحرب ، ۳ / ۶۹ ، حدیث : ۲۶۵۹

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۱۴۲

[3]   شعب الایـمان ، باب  فی الـخوف من اللہ تعالٰی ، ۱ / ۴۹۹ ، حدیث : ۸۳۰

[4]   قوت القلوب ، الفصل الخامس والاربعون ، ذکر التزویج وترکه ایھما افضل ، ۲ / ۴۱۸

[5]   مکارم الاخلاق للطبرانی ،  باب فضل تبسم    الخ ،  ص۳۱۹ ، حدیث : ۲۱



Total Pages: 74

Go To