Book Name:Islami Shadi

میں جو خیمہ اور چار دیواری کی صورت میں جو قلعہ عطا فرمایا ہے خُدار !اُسے غنیمت جانیں اور اس قلعہ و خیمہ سے باہر نکلنے اور اپنے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنے کی دعوت دینے والے بھیڑیوں کو ان بکریوں کی طرح اپنا خیرخواہ ہرگز نہ سمجھیں ، آج عورتوں کے حُقوق کی بات کرنے والے در حقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں ، انہیں عورتوں کے حُقوق کی نہیں بلکہ اپنی غلیظ پیاس بُجھانے کی فکر ہے اے کاش !کوئی سمجھے!!!

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

دورِ رَواں میں پردے کی ضرورت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس میں کوئی شک نہیں کہ حُضورِ اکرم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا مُقَدَّس زمانہ نہایت خیر و برکت والا تھااور موجودہ زمانہ شرو فساد کا ہے ، اُس زمانے میں عام مرد بھی پرہیز گار ہوا کرتے تھے جبکہ آج ایک تعداد نہایت آزاد اور فُسّاق و فُجّار ، اُس وقت عام عورتیں پاک دامن حیاء والی اور شرمیلی ہوا کرتی تھیں اور اب بدقسمتی سے بہت سی عورتیں آزاد اور شرم و حیاء سے عاری ہیں ، جب اُس مُقَدَّس اور پاکیزہ زمانے میں عورتوں سے پردہ کرایا گیا تو کیا یہ وقت اُس وقت سے اچھا ہے؟ ہرگز اچھا نہیں ، جب حُضورِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے پاکیزہ اور مُقَدَّس زمانے میں خواتین کو پردے کی تاکید کی گئی تو ذرا سوچئے! آج کے اِس پُرفِتن دور میں اِس کی کس قدر ضرورت ہے۔ آئیے اس ضمن میں چند واقعات مُلاحَظہ کیجئے :

نابینا صحابی سے بھی پردے کا حکم

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  سے مروی ہے کہ وہ اور اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس حاضر تھیں اسی دوران عبدُ اللہ بن اُمِّ مکتوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے ، چونکہ اس وقت پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا  چنانچہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں ان سے پردہ کرلو۔ حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : یَارسُولَاللہ!یہ تو نابینا ہیں ، نہ تو ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان سکتے ہیں ۔ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : تم دونوں تو نابینا نہیں ہو تم دونوں تو اِنہیں دیکھ سکتی ہو۔  ([1])

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کيا پياری تعليم ہے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی کہ حضورِ اکرم ، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی ازواج مطہرات کو ایک نابینا صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پردے کا حکم ارشاد فرمایا۔       

خاتونِ جنّت کا  پردہ

سرکارِ مدینہ ، سُرورِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہِری کے بعد خاتونِ جنّت ، شہزادیِ کونین ، حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا پر غمِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اِس قدر غَلَبہ ہوا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے لبوں کی مسکراہٹ ہی ختم ہو گئی!اپنے وصال سے قبل صِرف ایک ہی بارمُسکراتی دیکھی گئیں ۔ اس کا واقعہ کچھ یو ں ہے : حضرت سیِّدَتُنا خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو یہ تشویش تھی کہ عُمر بھر تو غیر مَردوں کی نظروں سے خود کو بچائے رکھا ہے ، اب کہیں بعدِ وفات میری کفن پوش لاش ہی پرلوگوں کی نظر نہ پڑ جائے!ایک موقع پر حضرت سیِّدَتُنا اَسماء بنتِ عمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا : میں نے حَبشہ میں دیکھا ہے کہ جنازے پر درخت کی شاخیں باندھ کر ایک ڈولی کی سی صُورت بنا کر اُس پر پردہ ڈالدیتے ہیں ۔ پھر اُنہوں نے کھجور کی شاخیں منگوا کر انہیں جوڑ کر اُس پر کپڑا تان کر سیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دِکھایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا بہت خُوش ہوئیں اور لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ بس یہی ایک مسکراہٹ تھی جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد دیکھی گئی۔ ([2])

بیٹے کی شہادت پر بھی حجاب کی پابندی

 



[1]   ترمذی ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی احتجاب النساء من الرجال ، ۴ / ۳۵۶  ، حدیث :  ۲۷۸۷

[2]   پردے کے بارے میں سوال جواب ، ص ۲۰۰ ، جذب القلوب الیٰ دیار المحبوب ، ص۱۵۹مفہوما



Total Pages: 74

Go To