Book Name:Islami Shadi

      شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے “ باحیانوجوان “ میں فرماتے ہیں : حتَّی الامکان بے پردَگی وغيرہ کے معاملہ ميں عورتوں کو روکا جائےمگر حکمتِ عملی کے ساتھ ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی زوجہ یا ماں بہنوں پر اس طرح کی سختی کر بیٹھیں جس سے گھر کا اَمْن ہی تہ و بالا ہو کر رَہ جائے۔ ضَرورتاً میرے بیان کی کیسٹیں سنائیے جن میں پردہ کا ذِکْر ہے۔ مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 16صفحہ 80تا92 سے “ دیکھنے اور چُھونے کا بیان “ پڑھنا پڑھانا یا پڑھ کر سنانا بھی انتہائی مفید ہے۔ ان کیلئے دل سوزی کے ساتھ دعا بھی فرماتے رہئے۔ خود کو اور اہلِ خانہ کو ہر گُناہ سے بچانے کی کُڑھن پیدا کیجئے اور کوشِش بھی جاری رکھیں۔([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پردے اور چار دیواری کی حکمت و اہمیت

عورت کی حقیقی ذمہ داری اُمورِ خانہ داری ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی مخلوق کو مختلف کاموں کیلئے بنایا ہے اور جس کو جس کام کیلئے بنایا ہے اسی کے مطابق اس کا مِزاج بنایا۔ لہٰذا ہر چیز سے اس کی فِطرت اور خاصیّت کے مطابق کام لینا چاہئے ، خِلافِ فِطرت کام لینے سے خرابی کا خدشہ ہے ، مثلاً : ٹوپی سر پر رکھنے اور جُوتا پاؤں میں پہننے کیلئے ہے ، اگر کوئی جُوتا سر پر باندھ لے اور ٹوپی پاؤں میں پہن لے تو ہر کوئی اسے بے وقوف کہے گا۔ گلاس پانی پینے اور اُگالدان تُھوکنے کے لئے ہے ، اگر کوئی اُگالدان ميں پانی پئے اور گلاس میں تُھوکے تو لوگ اس کو پاگل ہی کہیں گے۔ بیل کی جگہ گھوڑا اور گھوڑے کی جگہ بیل کام نہیں دے سکتا۔ اسی طرح انسان کے دو گروہ کئے گئے ہيں ایک عورت دوسرا مرد۔ عورت کو گھر میں رہ کر امورِ خانہ داری انجام دینے کی ذمے داری سونپی گئی ہے اور مرد کے کندھوں پر بیرونی معاملات اور دیگر ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ذمے داری ڈالی گئی ہے ، اب جوشخص عورتوں کو مَردوں کی طرح گھر سے باہر نکلنے اور مَردو ں کو عورتوں کی طرح  گھر میں بیٹھے رہنے کا مشورہ دے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پاؤں میں ٹوپی اور سر میں جوتے پہننے کا مشورہ دے۔

عورتوں کے حُقوق کا حقیقی پاسدار

اسلام کی آمد سے پہلے عورتوں سے بہت ہی بُرے سُلوک کئے جاتے تھے ، ان کی عزّت کو تار تار کیا جاتا ، اُنہیں پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ، ان کے حُقوق پامال کئے جاتے ، گھر میں بچّی کی ولادت کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھا جاتا ، انہیں زندہ درگور کردیا جاتا اور عورتوں کو جانوروں سے بھی بَدتر سمجھا جاتا تھا مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ دینِ اسلام نے آکر عورتوں کو عزّت دی اور نہ صرف ان کے حُقوق بیان کئے بلکہ ان حُقوق کی ادائیگی کی تاکید اور اُس پر عظیم اجر و ثواب کی بشارت بھی دی ، اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے عورت کو چادر اور چار دیواری کی تاکید کی تاکہ اسکی عزّت و ناموس کی حفاظت کا خاطر خواہ بند و بست ہوسکے۔ پردے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ باپردہ عورت بُری نگاہوں سے بچی رہتی ہے اور اس کی عزّت و آبرو محفوظ رہتی ہے۔ اس کے برعکس جو عورت پردے کا اِہْتِمام نہیں کرتی وہ بُری نگاہوں کا نشانہ بنتی ہے اور اس کی عزّت و آبرو خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا عورتوں کو چاہئے کہ وہ باپردہ رہ کر اپنی عزّت کی حفاظت  کریں ۔

پردہ بے عزّتی نہیں عزّت ہے

شیخ الحدیث حضرت علّامہ عبدُ المصطفیٰ اَعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : آج کل بعض مُلْحد قسم کے دشمنانِ اسلام مسلمان عورتوں کو یہ کہہ کر بہکایا کرتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو پردہ میں رکھ کر عورتوں کی بے عزّتی کی ہے اس لئے عورتوں کو پردوں سے نکل کر ہر میدان میں مَردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو جانا چاہئے۔ مگر پیاری بہنو! خُوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ان مَردوں کا یہ پروپیگنڈہ اتنا گندا اور گھناؤنا فریب اور دھوکہ ہے کہ شاید شیطان کو بھی نہ سُوجھا ہوگا۔ مزید فرماتے ہیں : اے اﷲعَزَّوَجَلَّ کی بندیو! تمہیں انصاف کرو کہ تمام کتابیں کھلی پڑی رہتی ہیں اور بے پردہ رہتی ہیں مگر قرآن شریف پر ہمیشہ غلاف چڑھا کر اس کو پردے میں رکھا جاتا ہے تو بتاؤ کیا قرآن مجید پر غلاف چڑھانا یہ قرآن کی عزّت ہے یا بے عزّتی؟اسی طرح تمام دُنیا کی مسجدیں ننگی اور بے پردہ رکھی گئی ہیں مگر خانۂ کعبہ پر غلاف چڑھاکر اس کو پردہ میں رکھا گیا ہے تو بتاؤ کیا کعبۂ مُقَدَّسہ پر غلاف چڑھانا اس کی عزّت ہے یا بےعزّتی؟ تمام دُنیا کو معلوم ہے کہ قرآنِ



[1]   باحیانوجوان ، ص۲۴



Total Pages: 74

Go To