Book Name:Islami Shadi

کہ تو نے اپنی بیوی بچّوں کے شَرْعی حُقوق ادا کیے یا نہیں ، جن کا خرچہ تیرے ذِمّہ تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں ۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل نماز روزے کے ساتھ ساتھ گھر کی خواتین کو پردے کی تعلیم دینا اور اس کی اہمیَّت سمجھانا بہت ضروری ہے کیونکہ فی زمانہ مسلم مُعاشَرہ جن  بُرائیوں کے سمندر میں ڈوبتا جا رہا ہے ان میں سے ایک بے پردَگی بھی ہے۔ جس کی وجہ سےمُسْلِم مُعاشَرہ  تباہی کے دہانے پر آکھڑا ہوا ہے لہٰذا ہرمرد و عورت  پر لازم ہے کہ بُری خصلتوں اور خراب عادتوں سے اپنے آپ کو  بچانے کے علاوہ پردے کی بھی سخت پابندی کریں خصوصاً مرد اپنے اہل و عیال کو پردے کی تاکید  کرتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا خوف دلاتا رہے۔ آئیے نیکی کی دعوت نہ دینے کے انجام سے متعلِّق ایک حدیثِ پاک مُلاحَظہ کیجئے :

نیکی کی دعوت نہ دینے کا انجام

حُضورِ اکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم فرمایا : فلاں شہر کو اس کے رہنے والوں سمیت زیر وزَبر کردو۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : اے رَبّ عَزَّوَجَلَّ!ان لوگوں میں تیرا ایک فلاں نیک بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے فرمایا : شہر کو اس نیک بندے سمیت اہلِ شہر پر اُلٹ دو کیونکہ اس کا چہرہ میری نافرمانیاں دیکھ کر کبھی متغیر نہیں ہوا۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں ڈر جانا چاہئے اور غور کرنا چاہئے!کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے سامنے ہمارے گھر والے یا بیوی بچّے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی اور شریعت کی خِلاف ورزی کر تے ہوں اور ہم انہیں اِس سے روکنے کی قدرت رکھنے کے باوُجُود خاموش رہ کر نظر انداز کر دیتے ہوں ؟اگر ایسا ہے تو فوراًہمیں اس انداز کو تبدیل کر کے آئندہ گھر والوں اور بیوی بچّوں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔

تین اشخاص پر جنّت حرام

تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تين شخص ہیں جن پر اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے جنّت حرام فرما دی ہے ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے ، دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے ، اور تیسرا وہ دَیُّوث(یعنی بے حیا) جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کا0645وں کو برقرار رکھے۔ ([3])

دیُّوث کسے کہتے ہیں؟

مفسر شہیر حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے الفاظ “ وہ دَیُّوث(یعنی بے حیا)کہ  جواپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے “ کہ تحت فرماتے ہیں : بعض شارِحین نے فرمایا کہ اس  سے مُراد زِنا ا ور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حيائی ، بے پردگی ، اجنبی مَردوں سے اِختلاط ، بازاروں میں زینت سے پھرنا ، بے حيائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجُود قدرت کے نہ روکے وہ بے حیاء دَیُّوث ہے۔ ([4])معلوم ہوا کہ باوُجُودِ قدرت اپنی زَوجہ ، ماں ، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغيرہ کو گلیوں ، بازاروں ، شاپنگ سینٹروں ، مخلوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے ، اجنبی پڑوسیوں ، نامَحْرَم رشتے داروں ، غیرمَحْرَم ملازِموں ، چوکیداروں اور ڈرائیوروں سے بے تکلّفی اور بے پردَگی سے منع نہ کرنے والے سخت اَحْمق ، بے حيا ، دَیُّوث ، جنّت سے محروم اور جہنّم کے حقدار ہيں ۔

اصلاح کیلئے جابرانہ انداز اختیار نہ کیجئے

 



[1]   مرآۃ  المناجیح ، ۵ / ۳۵۱ تا ۳۵۲ ملتقطا

[2]   مشکاة ، کتاب الآداب ، باب الامر بالـمعروف ،  ۲ / ۲۴۱ ، حدیث : ۵۱۵۲

[3]   مسند احـمد ،  مسند عبد اللہ   بن عمر ، ۲ / ۳۵۱ ، حدیث : ۵۳۷۲

[4]   مرآۃالمناجیح ، ۵ / ۳۳۷ بتغیر قلیل



Total Pages: 74

Go To