Book Name:Islami Shadi

مفسر شہیر حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ  پاک کے تحت فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللہ کیسی نفیس تعلیم !مقصدیہ ہے کہ بے عیب بیوی ملنا ناممکن ہے ، لہٰذا اگر بیوی میں دو ایک بُرائیاں بھی ہوں تو اسے برداشت کرو کہ کچھ خُوبیاں بھی پاؤ گے۔ یہاں (صاحبِ )مرقات نے فرمایا : جو بے عیب ساتھی کی تلاش میں رہے گا وہ دُنیا میں اکیلا ہی رہ جائے گا ، ہم خود ہزار ہا بُرائیوں کا سَرچشمہ ہیں ، ہر دوست عزیز کی بُرائیوں سے درگزر کرو ، اچھائیوں پر نظر رکھو ، ہاں ! اِصلاح کی کوشش کرو ، بے عیب تو رسولُ اللہ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) ہیں ۔ ([1])

بے جا سختی کرنے والوں کیلئے لمحۂ فکریہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہر شخص اپنے اِرد گرد کے ماحول پر نظر ڈالے اور غور کرے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ زندگی کے مختلف مراحل میں قدم قدم پر اُسے جس جس چیز کی ضرورت پڑتی یا جس جس فرد سے واسطہ پڑتا ہے وہ تمام کی تمام چیزیں یاسارے کے سارے افراد اس کے مِزاج پر پورا نہیں اترتے بلکہ یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ اکثر مِزاج کے خِلاف ہی ہوتے ہیں ، نجانے کن کن سے آدمی خود بیزار اور کون کون خود اُس سے بیزار ہوتا ہے مگر اِس کے باوُجُود مُروّت ، مجبوری یا حکمتِ عملی کےباعث سمجھوتے اور برداشت سے کام لیتے ہوئے ایک دوسرے سے روابط برقرار رکھتے ہیں اور تعلُّقات کی دیوار میں دراڑ نہیں آنے دیتے  بالکل اسی طرح اشیاء کا معاملہ ہے کہ کھانے پینے سے لے کر استعمال کرنے تک  کی نجانے کتنی چیزیں ایسی ہیں جو ہر لحاظ سے آپ کی  سوچ ، خواہش اور معیار کے عین مطابق نہیں ہوتیں لیکن وہ آپ کی ضرورت  ہیں اِس لئے آپ  کسی صورت اُنہیں چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ ذرا سوچئے ! جب آپ دُنیا کی کئی چیزوں کو بے شُمار عُیُوب و نقائص کے باوُجُود اپناتے اور کئی لوگوں کو خِلافِ مِزاج ہونے کے باوُجُود نبھاتے ہیں تو پھر یہ دوہرا معیار اُس ہستی کیلئے کیوں جو آپ کی رفیقۂ حیات ، زندگی کی اہم ضرورت اور آپ کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھنے والی ہے؟ کیا اِس لئے کہ آپ اُس کے حاکم و افسر ہیں جس طرح چاہیں اُس کے ساتھ سُلوک کریں ؟ کیا صرف آپ ہی اُس کے حاکم ہیں کوئی آپ کا حاکم نہیں ؟کیا صرف بیوی ہی شوہر کو جواب دِہ ہے شوہر کسی کو جواب دِہ نہیں ؟یاد رکھئے!اگر اُس پر آپ کا حکم چلتا ہے تو آپ پر بھی احکمُ الحاکمین جَلَّ جَلَالَہُ کا حکم چلتا ہے ، اگر آج گھر کی چار دیواری میں بات بات پر ناجائز طور پر اُسے ذلیل کریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل قیامت کے دن محشر کے میدان میں سب کے سامنے آپ کو بھی ذِلّت و رُسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ بھی تو سوچئے کہ جب وہ آپ کی کئی خِلافِ مِزاج باتوں اور عادتوں کو خاموشی سے سہہ لیتی ہے تو کیا آپ اُس کی چند عادتوں  پر صبر نہیں کرسکتے؟ کیا آپ اُس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں پر اُسے معاف نہیں کرسکتے؟کیا آپ اس کی بے شمار خدمتوں کا صِلہ عفو و درگزر کی صورت میں نہیں دے سکتے؟کیا خبر یہی مُعافی کل بروزِ قیامت آپ کےگُناہوں کی مُعافی کا سبب بن جائے ۔

حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جس  نے اپنی بیوی کے بُرے اَخلاق پر صبر کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اسے حضرت ایّوب عَلَیْہِ السَّلَام کے مصیبت پر صبر کرنے کی مثل اَجْر عطا فرمائے گا اور اگر عورت اپنے شوہر کے بُرے اَخلاق پر صبر کرےتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اسے فرعون کی بیوی آسیہ کے ثواب کی مثل اَجْر عطا فرمائے گا۔ ([2])

بد اَخلاق بیوی اور صابِر شوہر

منقول ہے کہ ایک مرتبہ شیخ ابولحسن خِرْقانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی وِلایت کا شُہْرہ  سُن کر مشہور فلسفی بُوعلی سینا اُن سے ملاقات کرنے کیلئے  خِرْقان پہنچا۔ جب اُن کے گھر جاکر اُن کی بیوی سے پوچھا کہ شیخ  کہاں ہیں ؟تو اندر سے جواب آیا کہ تم ایک زِنْدیق (بے دین) اور جُھوٹے شخص کو شیخ کہتے ہو!مجھے نہیں معلوم کہ شیخ  کہاں ہیں البتہ میرا شوہر جنگل سے لکڑیاں لانے گیا ہے۔ یہ سُن کر بُوعلی سینا کو طرح طرح کے خیالات آنے لگے کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بیوی ہی اِس قسم کی باتیں کرتی ہے تو نہ معلوم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کیا مرتبہ ہے ۔ اگرچہ میں نے بہت تعریف سنی ہےمگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک معمولی انسان ہیں ۔ پھر جب وہ آپ کو تلاش کرتے ہوئے جنگل کی طرف روانہ ہوا تو دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شیر پر لکڑیاں لادے تشریف لارہے



[1]   مرآۃالمناجیح ، ۵ / ۸۷

[2]   کتاب الکبائر ، الکبيرة السابعة والاربعون ،  ص۲۰۶



Total Pages: 74

Go To