Book Name:Islami Shadi

مفسر شہیر حکیمُ الاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تفسیرِ نعیمی میں فرماتے ہیں : نافرمانی پر بیوی کو خاوند مار سکتا ہے مگر اصلاح کی مار مارے نہ کہ ایذاء کی مار ، جیسے شاگرد کو استادیااَولاد کو ماں باپ مارتے ہیں اصلاح کیلئے۔ بلا قُصُور بیوی کو مارنا سخت ممنوع ہے جس کی پکڑ رَبّ کے ہاں ضرورہو گی۔([1])

سختی کے بہانے تلاش نہ کیجئے

بہرحال بیان کردہ تین طریقوں میں سے ترتیب وار پہلا یا دوسرا طریقہ اختیار کرنے سے اگر بیوی نافرمانی چھوڑ کر اپنی غلطی کی مُعافی مانگتے ہوئے اِطاعت و فرمانبرداری  پر آمادہ ہوجائے تو  شوہر کو چاہئے کہ اس کی معذرت قبول کرے اور بلاوجہ اس پر سختی کرنے  کے حیلے بہانے تلاش نہ کرے۔ جیساکہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا (۳۴) (پ۵ ، النساء : ۳۴)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زِیادَتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔

بیوی کی معذرت قبول کیجئے

تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ مُبارَکہ  کے تحت لکھا ہے کہ اِس آیت سے اُن لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو عورت کے ہزار بار معذرت کرنے ، گڑ گڑا کر پاؤں پڑنے ، طرح طرح کے واسطے دینے کے باوُجُود اپنی ناک نیچی نہیں کرتے اور صِنْفِ نازک کو مَشقِ سِتم بنا کر اپنی بُزدلی کو بہادری سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اِن بہادروں کو عاجزی اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ([2])صَدْرُ الافاضل مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : تم گُناہ کرتے ہو پھر بھی وہ (رَبّ عَزَّ  وَجَلَّ) تمہاری توبہ قبول فرماتا ہے تو تمہاری زیرِ دست عورتیں اگر قُصُور کرنے کے بعد مُعافی چاہیں تو تمہیں بطریقِ اولیٰ معاف کرنا چاہئے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قدرت و بَرتری کا لحاظ رکھ کر ظُلم سے مجتنب (یعنی کنارہ کش)رہنا چاہئے۔ ([3])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

خُوبیوں کو پیشِ نظر رکھئے

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ قُصُور مرد ہی کا نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھار عورت کے کام یا عادتیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ مرد غُصّہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے  بلکہ ممکن ہے کہ بعض خواتین باقاعدہ اپنے شوہر کو برانگیختہ کرتی اور اپنی چَرب زبانی سے اُسے مزید غُصّہ دلاتی ہوں مگر اِس کے باوُجُود شوہر کو چاہئے کہ وہ عورت کو تَشَدُّد کا نشانہ ہرگز نہ بنائے ، عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے جس کی وجہ سے فطری طور پر عورت کے مِزاج میں ٹیڑھا پن ہے ، اگر کوئی شخص اُس کی فِطرت سے جنگ کرے گااور اُس پر سختی کر کے اُس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اُسے توڑ بیٹھے گا ، لہٰذا عقلمندی اسی میں ہے کہ پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیمات کو حرزِ جان  بنایا جائے اور بیوی کی اچھی عادتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اُس کی خامیوں کو نظر انداز کردیا جائے۔ چنانچہ حضورِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے ، وہ تمہارے لئے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تم اس سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہو تو اُس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اُس سے فائدہ اٹھا لو اور اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو اُسے توڑ دو گے اور اُس کا توڑنا طَلَاق ہے۔ ([4]) اور ارشاد فرمایا : لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً اِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْهَا اٰخَرَ کوئی مسلمان مرد (شوہر) کسی مسلمان عورت (بیوی)سے نفرت نہ کرے اگر اُس کی ایک عادت نا پسندہے تو دوسری پسندہوگی۔ ([5])

بے عیب بیوی ملنا ناممکن ہے

 



[1]   تفسیرنعیمی ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۳۴ ، ۵ / ۶۱ ملتقطا

[2]   تفسیر صراط الجنان ، پ ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۳۴ ، ۲ / ۱۹۸

[3]   تفسیر خزائن العرفان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۳۴

[4]   مسلم ، کتاب الرضاع ، باب الوصية بالنساء ،  ص ۵۹۵ ، حدیث : ۳۶۴۶

[5]   مسلم ، کتاب الرضاع ، باب الوصية بالنساء ، ص۵۹۵ ، حدیث : ۳۶۴۸



Total Pages: 74

Go To