Book Name:Islami Shadi

کی کوئی بات ناگوار گُزری و صبر کروں گا٭زَوجہ اور اَولاد کے معاملے میں ہمیشہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ڈرتا رہوں گا۔

     مدینہ : بیان کردہ نیّتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اسلامی بہنیں بھی شوہر کی اِطاعت ، اُس کی اور اُس کے والدین کی خدمت ، شوہر کے گھر بار ، مال اور ناموس کی حفاظت ، اُس کی حلال کی کم آمدنی پر قناعت اور بچّوں کی اسلامی نُقُوش پر تَرْبِیَت وغیرہ سے متعلِّق حسبِ حال اچھی اچھی نیّتیں کرسکتی ہیں ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

 نکاح ضروری کیوں؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اسلام ایک ایسا کا مل اور اکمل دین ہے جس نے انسان کی ہر شعبے میں رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دُنیا میں بہت سی جاندار مخلوقات پیدا فرمائیں ، اُن میں سے کسی کو نَر اور کسی کو  مادَہ بنایا اور اُن میں فطری خواہشات بھی رکھیں ، انسان بھی اللہ تعالی کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے لہٰذا اسے بھی شہوانی جذبہ دیاگیا لیکن انسان کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے چونکہ تمام مخلوقات میں اَشْرف و اَعْلیٰ بنایا ہے اِس لئے اُسے فطری خواہشات پوری کرنے کا ضابطہ بھی انتہائی اَشْرف و اَعْلیٰ عطا فرمایا ہے ، اگر  انسان فطری خواہشات کے معاملے میں اُس جائز و حلال ضابطے کی پاسداری کرے گا تو نہ صرف اپنی امتیازی شان برقرار رکھ سکے گا بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں سُرخْرُو بھی ہوگا۔ اِس کے برعکس اگر اُس ضابطے کی خِلاف ورزی کرے گا تو جانوروں جیسا ہوجائے گا کیونکہ جانوروں کیلئے کوئی ضابطہ مُقرَّر نہیں جبکہ انسان کی فطری خواہشات کی تکمیل کیلئے ایک ضابطہ اور قانون   مُقرَّر ہے جو نکاح ہے۔ لہٰذا نکاح ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو فطری تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اسلام نے ہمیں عطا فرمایا اور اِس کے ذریعے ہمیں جانوروں سے ممتاز کردیا۔ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : نکاح اور ایمان یہ دو ایسی عبادتیں ہیں جو حضرت سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے شروع ہوئیں اور تاقیامت رہیں گی ، نکاح بہترین عبادت ہے کہ اِس سے نَسْلِ انسانی کی  بَقا ہے ، یہی صالحین و ذاکرین و عابدین کی پیدائش کا ذریعہ ہے ، نکاح ، انسان مرد کا صرف انسان عورت ہی سے ہوسکتا ہے ، نہ جِنّ سے ہوسکتا ہے ، نہ دَریائی انسان سے ، نہ کسی جانور سے کیونکہ (دُنیاوی) نکاح میں ہم جِنْس ہونا شرط ہے۔ ([1]) آئیے مُلاحَظہ کیجئے کہ نکاح کس چیز کا نام ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نکاح کی تعریف

صَدْرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : نکاح اُس عَقْد کو کہتے ہیں جو اِس ليے مُقرَّر کیا گیا کہ مرد کو عورت سے جماع وغیرہ حلال ہو جائے۔ مزید فرماتے ہیں کہ اِیجاب و قبول یعنی مثلاً ایک کہے میں نے اپنے کو تیری زَوجِیَّت میں دیا ، دوسرا کہے میں نے قبول کیا ۔ یہ نکاح کے رُکن ہیں پہلے جو کہے وہ اِیجاب ہے اور اُس کے جواب میں دوسرے کے الفاظ کو قبول کہتے ہیں ۔ ([2])

نکاح کو نکاح کہنے کی وجہ

مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نکاح کا معنی اور نکاح کو نکاح کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : نکاح کا مطلب ضَم ہونا یعنی مِلناہے ، چونکہ نکاح کی وجہ سے دو شخص یعنی خاوندوبیوی دائمی مِل کر زندگی گُزارتے ہیں بلکہ نکاح سے عورت و مرد کے خاندان بلکہ نکاح سے کبھی دو مُلک  مِل جاتے ہیں اِس لیے اِسے نکاح کہتے ہیں ۔ اِصْطِلاحِ شریعت میں یہ لفظ صحبت و عَقْد دونوں پر بولا جاتا ہے۔ ([3])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُعاشَرَتی اعتبار سے نکاح کی اہمیت

 



[1]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۲بتغیر قلیل

[2]   بہارِ شریعت ، حصہ۷ ، ۲ / ۴ ، ۶ ملتقطا

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۲ملتقطا



Total Pages: 74

Go To