Book Name:Islami Shadi

      نَنْد کو چاہئے کہ وہ یہ بات ذہن نشین رکھے کہ بھابھی سے اُلجھنے جھگڑنے سے میرا ہی بھائی جس کی میں لاڈلی ہوں پریشان اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوگا ، گھر کے دیگر افراد بھی اَذِیّت و بےچینی کا شکار ہوجائیں گے اس طرح گھر کا سُکون برباد ہو جائے گا۔ نَنْد کو چاہئے کہ وہ بھابھی کے ساتھ خیر خواہی کرے ، اس سے عزّت سے پیش آئے ، اس کو اپنی سہیلی بنا لے ، اس کے دُکھ درد کا احساس کرے ، اُس کی پریشانیوں میں اُس کا ساتھ دے ، اُس کی طرف سے کوئی اَذِیّت و تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرے ، اُس کی طرف سے اپنا دل صاف رکھے ، اس کی بُرائیوں اور عیبوں پر نظر پڑے تو اسے اچھے طریقے سے سمجھائے یا پردہ پوشی کرے۔ نَنْد اپنی بھابھی سے اچھا برتاؤ کرے گی تو اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ بھابھی بھی اس کے ساتھ اچھے سُلوک سے پیش آئے گی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے فضل و کرم سے اُمید ہے کہ اُس کے اپنے سُسرال میں اُس کی نَنْدیں بھی اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گی۔ اگر نَنْد پہلے ہی شادی شُدہ ہے اور خُدانخواستہ سُسرال میں اُس کے ساتھ اُس کی ساس اور نَنْدوں کا اچھا رَوَیّہ نہیں ہے تب بھی اُسے چاہئے کہ وہ اپنے میکے جاکر اپنی بھابھی سے اُس کا بدلہ لینے اور بدسُلوکی کرنے کے بجائے رِضائے الٰہی کیلئے حُسنِ اَخلاق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے۔ البتہ بھابھی کو بھی اپنی نَنْد کے ساتھ نیک سُلوک کرنا چاہئے اور بہن بھائی کے رشتے میں دراڑیں یا اُن کی محبتوں میں فاصلے پیدا کرکے قطعِ رحمی جیسی بُرائی کا سبب نہیں بننا چاہئےکیونکہ احادیثِ مباکہ میں قطعِ رحمی کی بہت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ۔ چنانچہ

      ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : اُس قوم پر رحمت نہیں نازل ہوتی جس قوم میں کوئی رشتہ داریوں کوکاٹنے والا موجود ہے۔ ([1]) اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں اور میں رَحْمٰن ہوں ، میں نے رشتوں کو پیدا کیا ہےاور اپنے نام سے اس کے نام کو مشتق کیا ہے۔ تو جو شخص رشتہ کو ملائے گا میں اس کو ملاؤں گا اور جواس کو کاٹ دے گا۔ میں اس کو کاٹ دوں گا۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سسر کی ذِمّہ داریاں

میاں بیوی میں سے ہر ایک کا باپ چونکہ دوسرے کیلئے سُسر کی حیثیّت رکھتا ہے یعنی لڑکے کا باپ لڑکی کیلئے اور لڑکی کا باپ لڑکے کے لئے سُسر ہوتا ہے اس لئے اُن کی اِزْدِواجی زندگی کی بہتری میں اِن دونوں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے بلکہ اگر شادی کے بعد لڑکا اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہو تو لڑکی کے باپ کے مقابلے میں لڑکے کے باپ پر زیادہ ذِمّہ داریاں عائد ہوتی ہیں  کیونکہ وہی اُن دونوں کے قریب ہوتا ہے۔ لہٰذا اُسے چاہئے کہ وقتاً فوقتاً اپنے بیٹے اور بہو کو گھریلو زندگی گُزارنے کے آداب بتائے اور غلطی کرنے پر ان کی اصلاح کرے۔ اگر بیٹا اپنی بیوی کے حُقوق  ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو اسے سمجھائے اور بیوی کے حُقوق ادا کرنے کی تلقین کرے۔ اگر بیٹا اپنے سسرال والوں سے ناراض ہو ، انہیں بُرا بھلا کہے یا بیوی کو ان سے ملنے نہ دے تو اس بارے میں بھی صحیح رُخ پر اُس کی رہنمائی کرے۔ اگر بیٹے اور بہو کے درمیان جھگڑا ، تلخ   کلامی یا ناراضی ہوجائے تو اِسے میاں بیوی کا آپس کا معاملہ قرار دیکر چُپ سادھنے اور اس معاملے سے اپنے آپ کو برطرف سمجھنے کے بجائے انتہائی غیر جانبداری سے دونوں میں صُلح کروائے ، خاص طور پر اپنے بیٹے کی بے جا  حمایت سے گُریز کرے۔ سُسر کو چاہئے کہ سربراہ ہونے کی حیثیّت سے گھر کے ماحول اور تمام افراد کی نقل و حرکت ، باہمی رویّوں اور گفتگو کے زاویوں کو بھی سنجیدگی سے پَرکھتا رہے کہ کہیں گھر کے افراد یا باہر سے آنے والے رشتے دار وغیرہ اُس کے بیٹے اور بہو کے درمیان پُھوٹ ڈالنےکا سبب تو نہیں بن رہے ، اگر ایسا ہو تو حکمتِ عملی سے اُنہیں اِس سے باز رکھے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مشورے دینے میں احتیاط سے کام لیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میاں بیوی کا گھر بسانے یا اُجاڑنے میں کبھی کبھار تو اُن کے عقلمند یا احمق دوست اپنا کردار ادا کرتے ہیں  اس طرح کہ عقلمند دوست دینی اور دُنیوی اعتبار سے اچھے مشورے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں میاں بیوی کا گھر بس جاتا ہے جبکہ احمق دوست عجیب و غریب قسم کے جاہلانہ



[1]    شعب الایمان ،  باب فی صلة الارحام  ، ۶ /  ۲۲۳ ،  حدیث :  ۷۹۶۲

[2]   ترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی قطعیة الرحم ، ۳ / ۳۶۳ ، حدیث : ۱۹۱۴



Total Pages: 74

Go To