Book Name:Islami Shadi

      شادی کے بعد لڑکے کو بھی داماد ہونے کی حیثیّت سے چند باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے : ٭ داماد کو چاہئے کہ وہ اپنی ساس سُسر کو اپنے والدین کی طرح سمجھے۔ ٭ان کا ادب و احترام کرے۔ ٭اُن پر غُصّہ کرنے یا اُن کی بُرائی کرنے سے خود کو باز رکھے۔ ٭اپنے سُسرال سے اِس قسم کی لالچ نہ کرے کہ وہ میرے اور میرے گھر والوں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء ، نئے موسمی پھل یا تحفے وغیرہ بھیجتے رہیں بلکہ اپنے سُسرال میں تحفے تحائف یا کوئی چیز اس غرض سے بھی نہ بھیجے کہ اُنہیں اِس سے اعلیٰ چیز بھیجنی چاہئے۔ ٭ جب اُس کے ساس سُسر اپنی بیٹی سے ملنے آئیں تو اُنہیں نظر انداز کرنے یا ان سے روکھے انداز میں ملنے کے بجائے خندہ پیشانی سے ملے اور حسبِ استطاعت ان کی ضیافت (کھانے وغیرہ) کا اِہْتِمام بھی کرے۔٭ساس سُسر کے سامنے اپنی زَوجہ یعنی اُن کی بیٹی کی بُرائی بیان نہ کرے۔ ٭سُسرال جائے تو ضرورت سے زیادہ وہاں ٹھہر کر اُن پر بوجھ نہ بنے۔ ٭سُسرال میں اپنی پُرتکلّف دعوت کی فرمائش نہ کرے بلکہ اس کی خواہش بھی دل میں نہ رکھے۔ ٭سُسرال والوں سے حتی الامکان قرض لینے سے بچّے  کہ اِس سے سُسرال میں اور بیوی کی نظر میں عزّت کم ہوتی ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ساس بہو میں اختلاف کی بنیادی وجہ

عموماً ساس بہو میں نا اتفاقی اور کشیدگی کی بُنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے کی زیادہ اپنائیت ماں کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ اس کے حُقوق ادا کرتا ہے مگر شادی کے بعد وہ ماں کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے حُقوق بھی ادا کرتا ہے تو ماں شاید یہ محسوس کرتی ہے کہ بیٹے کی توجّہ اس سے ہٹ کر صرف بہو کی ہی طرف ہوگئی ہے اور میرے حُقوق ادا کرنے کے بجائے اسی کے حُقوق پورے کرتا ہے۔ ایسی صورت میں بیٹے کو چاہئے کہ وہ اپنے والدین کے حُقوق پورے طریقے سے ادا کرے  اور ایسا کوئی انداز اختیار نہ کرے جس سے والدین یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ اِس کے دل میں ہماری اہمیَّت کم ہوگئی ہے۔ ساس کو بھی چاہئے کہ وہ اس بات کو اپنے ذہن میں نہیں آنے دے اور یہ سوچے کہ بیٹے پر اب زیادہ ذمے داری آگئی ہے ممکن ہے کہ جسمانی اور ذہنی تھکن کی وجہ سے وہ پہلے کی طرح مجھے وقت نہیں دے پاتا ہو۔ نیز بہو کو بھی چاہئے کہ وہ ساس کی عزّت و خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑے ، مختلف کاموں میں ساس سے مشورہ طلب کرے ، میکے وغیرہ جانے کیلئے شوہر کی اجازت کے ساتھ ساتھ اَخلاقی طور پر اپنی ساس سے بھی اجازت لے لے ، اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ حکمتِ عملی اختیار کی جائے تو فائدہ ہی ہوگا۔

نَنْد و بھاوج میں اختلاف کی وجہ

شادی کے بعد شوہر کی جانب سے لڑکی کا تعلُّق شوہر کی بہن سے بھی ہوجاتا ہے جسے نَنْد کہا جاتا ہے اور یہ رشتہ بھابھی اور نَنْد کا رشتہ کہلاتا ہے۔ اگر بھابھی اور نَنْد میں اتفاق و اِتّحاد اور اپنائیت قائم ہوجائے تو یہ رشتہ گھر کو امن کا گہوارہ  بنانے میں مُعاون و مددگار ثابت ہوتا ہےاس کے برعکس اگر ان دونوں میں سے ہر ایک  اپنی بَرتری جتانے کی ٹھان لے ، ہر بات میں ایک دوسرے کی تردید کرکے اُسے نیچا دکھانے کی کوشش کرے ، ایک دوسرے کی عزّت  اور حیثیّت کا لحاظ نہ کرے تو گھر کا امن تباہ و برباد ہوجاتا ہے ۔ عام طور پر نَنْد و بھاوج میں کشیدگی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بہن بھائی کا رشتہ بہت پیار بھرا  ہوتا ہے ، بہن اپنے بھائی کی لاڈلی ہوتی ہے ، اس سے اپنی ہر دلی خواہش پوری کرواتی ہے اور بھائی بھی جی جان سے اس پر شفقت کرتے ہوئے اس کی تمنّا پوری کردیتا ہے۔ مگر جب بھائی کی شادی ہوجاتی ہے اور دُلہن کی صورت میں بھابھی گھر آتی ہے تو بھائی کی توجّہ اور اپنائیت کسی حد تک اپنی بیوی کی طرف بھی ہوجاتی ہے اور اَخْراجات بھی بڑھ جاتے ہیں ، شادی سے پہلے گھر والوں کے ساتھ جو رَوَیّہ تھا اُس میں بھی فرق آجاتا ہے جس کے نتیجے میں نَنْد اپنی بھابھی کو اِن تمام باتوں کا ذِمّہ دار سمجھ کر بلاوجہ دل برداشتہ ہوجاتی ہے  بلکہ کبھی کبھار تو واقعی اس فرق کی اصل ذِمّہ دار بھابھی ہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہوشیاری سے بہن بھائی میں نفرت کا زہر گھول دیتی ہے یا اُن کی محبتوں کو کم کرنے کی سازشیں کرتی ہے جس کی وجہ سے نَنْد کے دل میں اپنی بھابھی سے نفرت کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے ، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی بھابھی کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے ، اُس کی ہر بات کا اُلٹا مطلب نکالتی ہے ، بات بات پر نُکتہ چینی کرتی ہے ، اپنے بھائی کو بھابھی کے خِلاف بھڑکانے کی کوشش کرتی ہے اور عموماً اپنی ماں کو بھی اپنے ساتھ شریک کرکے بھائی کی محبت میں ہی بھائی کا ہنستا بستا گھر اُجاڑ دیتی ہے۔

نَنْد کو کیسا ہونا چاہئے؟

 



Total Pages: 74

Go To