Book Name:Islami Shadi

پڑھنے کی تلقین کرے ، اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی راہ میں صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائے تاکہ دل سے مال کی محبت نکلےاور آخرت بہتر ہو ، غرض یہ کہ بال بچوں کی اصلاح کی کوشش جاری رکھنی چاہئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے : 

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ(پ۲۸ ، التحریم : ۶)

تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔

  شوہر کو چاہئے کہ اپنی بیوی کی خُوشنودی کی خاطر ظاہری باطنی صفائی کا خیال رکھے داڑھی مونچھ اور سر کے بالوں کا مناسب بندوبست رکھے ، تیل کنگھی کا اِہْتِمام کرے ،  اندرونی بالوں کی مناسب وقت پر صفائی کرے ، صاف ستھرا لباس زیبِ تن کیا کرے اور شریعت کی حد میں رہتے ہوئے ہر اعتبار سے زینت اختیار کرے۔ حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : بلاشُبہ میں اپنی بیوی کے لئے زینت اختیار کرتا ہوں جس طرح وہ میرے لئے بناؤ سنگھار کرتی  ہے اور مجھے یہ بات پسند  ہے کہ میں وہ تمام حُقُوق اچھی طرح حاصل کروں جو میرے اُس پر ہیں اوروہ بھی اپنے حُقُوق حاصل کرے جو اس کے مجھ پر ہیں ۔ کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ﴿وَلَـھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا اُن پر ہے شرع کے مُوافق)اورآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ  بیویوں کے ساتھ اچھی صحبت اور بہترسُلوک خاوندوں پر اسی طرح لازم ہے جس طرح بیویوں پر ہر اُس (جائز) کام  میں خاوندوں کی اطاعت واجب ہے جس کا وہ اُنہیں حکم دیں ۔ ([1])

  جب بیوی کسی تکلیف ، دُکھ درد اور مشکل  میں ہو یا بیمار ہوجائے تو شوہر کو چاہئے کہ اُس کا ساتھ دے ، اُس کے ساتھ حقیقی ہمدردی کرے ، بیماری میں بیوی کی کیفیت کے مطابق اُسے گھریلو کام کاج میں مُناسب رِعایت دے اور اُس کا ہاتھ بھی بٹائے ، اُس کی پریشانی دور کرنے اور علاج مُعالجہ کروانے کی طرف خُصُوصی توجّہ دے ، اس معاملے میں سُستی و بے پروائی ، بخل و کنجوسی یا بیزاری کا مُظاہَرہ کرنا باہمی محبت اور گھریلو ماحول پر منفی اثرات مُرتّب کرتا ہے۔

  شوہر کو چاہئے کہ اگر بیوی کبھی کسی بات پر روٹھ جائے تو خود بھی خَفا ہوجانے کے بجائے اُسے مَنانے کی کوشش کرے اور یہ باتیں پیشِ نظر رکھے کہ جب میں خود روٹھتا ہوں تو وہ بھی مجھے مَناتی اور میرے ناز نخرے اُٹھاتی ہے ، آج اگر وہ ناراض ہوگئی تو کیا ہوا ، وہ بھی تو آخر انسان ہے ، اُسے بھی تو کسی بات پر غُصّہ آسکتا ہے ، میں اُسے پیار محبت سے مَنا لوں گا تو کونسی قیامت آجائے گی وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھئے ! بیوی کے روٹھ جانے پر اُسے اہمیَّت نہ دینا اور ناراض چھوڑ دینا بے مُروّتی کی بات ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مرد کو اگر عورت پر فضیلت عطا فرمائی ہے تو عورت کو بھی کئی اعتبار سے عظمتیں عطا کی ہیں ۔ چنانچہ

عورت کی عظمت

      شیخُ الحدیث ، علّامہ عبدُ المصطفے اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں : ٭عورت     خُدا کی بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ٭عورت دُنیا کی آباد کاری اور دینداری میں مَردوں کے ساتھ تقریباً برابر کی شریک ہے۔ ٭عورت مرد کے دل کا سُکون ، روح کی راحت ، ذہن کا اطمینان ، بدن کا چین ہے۔ ٭عورت دُنیا کے خُوبصورت چہرہ کی ایک آنکھ ہے۔ اگر عورت نہ ہوتی تو دُنیا کی صورت کانی ہوتی۔ ٭عورت آدم عَلَیْہِ السَّلَام  و حضرت حوّا (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا )کے سوا تمام انسانوں کی “ ماں “ ہے اس لئے وہ سب کے لئے قابلِ احترام ہے۔ ٭عورت  کا وُجُود انسانی تمدُّن کیلئے بے حد ضروری ہے اگر عورت نہ ہوتی تو مَردوں کی زندگی جنگلی جانوروں سے بَدتر ہوتی۔ ٭عورت بچپن میں بھائی بہنوں سے محبت کرتی ہے۔ شادی کے بعد شوہر سے محبت کرتی ہے۔ ماں بن کر اپنی اَولاد سے محبت کرتی ہے۔ اس لئے عورت دُنیا میں پیار و محبت کاایک “ تاج محل “ ہے۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

      اب اسلامی بہنیں مُلاحَظہ کریں کہ کامیاب بیوی کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے :

بیوی کو کیسا ہونا چاہئے؟

 



[1]    تفسیرقرطبی ، پ ۲ ، البقرة  ، تحت الاية : ۲۲۸ ، ۲ / ۹۶

[2]   جنتی زیور ، ص ۳۸



Total Pages: 74

Go To