Book Name:Islami Shadi

شوہر مُلازَمت و کاروبار سے جیسے ہی تھکا ہارا گھر آتا ہے اپنی فرمائشوں اور بچّوں کی شکایتوں کے اَنبار لگا کر اس کو مالی حالات سے بیزار اور ذہنی اَذِیّت میں گرفتار کردیتیں ہیں ۔ نتیجتاًبے چارہ شوہر ان کے طعنوں سے بچنے اور ان کی بے جا فرمائشیں پوری کرنے کے لئے حُصُولِ مال کے وَبال میں پھنس کر روزگار کے ناجائز ذرائع اختیار لیتا ہے۔ حرام مال اپنے ساتھ کیا کیا تباہ کاریاں لاتا ہے اس بارے میں 3فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سنئے اور حرام سے بچنے  کی نیّت بھی کرلیجئے ۔

مالِ حرام قبولیتِ اعمال میں رُکاوٹ

  اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جان ہے!بے شک بندہ حرام کا لقمہ اپنے پيٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40 دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام اور سُود سے پَلا بڑھا ہو اس کیلئے آگ زيادہ بہترہے۔ ([1])

  جو شخص 10دَراہم میں ایک کپڑا خریدے اور ان میں حرام کا ایک دِرہم بھی شامل ہو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس وقت تک اس کی  کوئی نماز بھی  قبول نہیں فرمائے گا کہ جب تک اس  کپڑے میں سے کچھ بھی اس کے استعمال میں رہے۔ ([2])

  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاایک فرشتہ ہر رات میں بَیْتُ المُقَدَّس کی چھت پر نِدا کرتا ہے : جس نے حرام کھایا ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کا نہ کوئی فر ض قبول فرمائے گا نہ ہی کوئی نفل۔ ([3])

کھائیں رزقِ حرام ، ایسے ہیں بَد لگام      ان کو کس نے کہا؟ عاشقانِ رسول

عہد توڑا کریں ، جُھوٹ بولا کریں           ان کو کس نے کہا؟ عاشقانِ رسول

رزقِ حرام کی آفات

حضرت سَیِّدُنا امام ابُوالْفَرج عبدُ الرّحمٰن بن علی جَوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رزقِ حرام اور مالِ حرام سے بچنے کی نصیحتیں کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : حرام غذا ایک ایسی آگ ہے جو فکر کی چربی پگھلادیتی ہے ، حلاوتِ ذکرکی لذّت ختم کردیتی ہے ، سچی نیّتو ں کے لباس جلادیتی ہے اورحرام ہی سے بصیرت کااندھاپن پیدا ہوتا ہے لہٰذا مالِ حلال جمع کرو اور  اُسے میانہ روی سے خرچ کرو خُود بھی حرام سے بچو اور اپنے گھروالوں کو بھی اِس سے بچاؤ ، حرام خوروں کی صحبت میں نہ بیٹھو ، ان کا کھانا کھانے سے بچتے رہو اور جس کا ذریعۂ مَعاش ، حرام ہو اس کی صحبت اِختیار نہ کر و۔ اگر تم اپنی پرہیزگاری میں سچے ہو تو نہ ہی کسی کی حرام پر رہنمائی کرو کہ اگر وہ اُسے کھا لے تو اُس کا حساب تم سے لیا جائے اور نہ ہی حرام کے حُصُول میں کسی کی مدد کرو کیونکہ مُعاون (یعنی مددگار) بھی عمل میں شریک ہی ہوتا ہے ۔ یاد رکھو! حلال کھانے ہی سے اعمال  قبول ہوتے ہیں اور فاقہ وتنگدستی کو چُھپانے اورتنہائی میں رو رو کر آہیں بھرنے کو اعمال کی قبولیّت اور رِزقِ حلال کمانے کے سلسلے میں نہایت اَہَم مقام حاصل ہے ۔ ([4])

سَیِّدُنا بہاءُ الدین زکریّا ملتانی  کى نصیحت

شیخُ الاسلام حضرت سَیِّدُنا بہاءُ الدین زکریّا ملتانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مُرىدوں کو اکثر ىہ نصىحت فرماتے تھے : اپنے بىوى بچّوں کو رزقِ حلال کھلاؤ ، اگر ذرّہ  برابر بھى ناجائز اور حرام کمائى کسى نے اپنى زَوجہ و اَولاد کو کھلائى تو ان کے اندر بھى حرام رِزق کى تاثىر پىدا ہوجائے گی۔ ([5])

نارِ دوزخ میں نہ لے جائے کہیں مالِ حرام    کر لو توبہ چھوڑ دو اے بھائیو !سب ہیر پھیر

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

 



[1]   معجم اوسط  ، ۵  / ۳۴ ،  حدیث :  ۶۴۹۵

[2]   کنزالعمال ،  کتاب البیوع ، الباب الاول فی الکسب ، جزء : ۲ ، ۲ / ۸ ، حدیث : ۹۲۶۰

[3]   احياء علوم الدين ، کتاب الحلال والحرام ، الباب الاول فی فضیلةالحلال   الخ ، ۲ / ۱۱۴

[4]   آنسوؤں کا دریا ، ص۲۸۴

[5]   اللہ کے خاص بندے عبدہ ، ص ۵۴۶



Total Pages: 74

Go To