Book Name:Islami Shadi

اَمجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اگر (نکاح سے)محض لذّت یا قضائے شَہْوت منظور ہو تو ثواب نہیں ۔ ([1])یہی وجہ ہے کہ ہمارے بُزرگانِ دین نکاح کے معاملے میں بھی نیّت کے صحیح سمتِ قبلہ کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے ۔ چنانچہ ،

نکاح کرنے کا انوکھا سبب

منقول ہے کہ ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو لوگ ایک مُدّت تک نکاح کا کہتے رہے لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ ایک دن وہ نیند سے بیدار ہوئے تو فرمانے لگے : میرا نکاح کردو! میرا نکاح کردو!لوگوں نے اُن کا نکاح کردیا اور اُن سے اِس تبدیلی کے بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا : میں نے خواب دیکھا کہ  قیامت قائم ہوگئی ہے اور میں لوگوں کے ساتھ میدانِ محشر میں ہوں ، تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی شدّت کی پیاس محسوس ہوئی ، قریب تھا کہ میں ہلاک ہوجاتا ، اچانک میں نے دیکھا کہ چند بچّے صفیں چیرتے ہوئے مجمع میں آئے ، اُن کے سروں پر نور کے رومال ، ہاتھوں میں چاندی کے کٹورے اور سونے کے کوزےتھے۔ وہ مجمع میں تلاش کرتے ہوئے بعض کو پانی پلاتے ، بعض کو نہ پلاتے ، میں نے بھی اُن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا : مجھے شدّت کی پیاس لگی ہے مجھے بھی پانی پلاؤ۔ تو ایک بچّے نے کہا : ہم میں کوئی آپ کا بیٹا نہیں ، ہم میں سے ہر ایک اپنے والدکو پانی پلائے گا۔ میں نے پوچھا : تم کون ہو؟اُنہوں نے کہا : ہم مسلمانوں کے وہ بچّے ہیں جو بچپن میں فوت ہوگئے تھے۔ پھر ( اُن بُزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے لوگوں کے سامنے گویا نکاح کے معاملے میں اپنی نیّت کا اظہارکرتے ہوئے)فرمایا : ممکن ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  مجھے بچّہ عطا فرمائے پھر اُس کی روح قبض کرلے تو وہ آخرت میں میرا پیش رو (یعنی بارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ میں میراسِفارِشی ) ہوگا۔ ([2])

نیّت کی اہمیت

اس حکایت سے معلوم ہوا کہ ہمارے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِین اچھے مقاصد کیلئے نکاح کرتے تھے۔ لہٰذا نکاح کرنے والے کو چاہئے کہ وہ نکاح کے معاملے میں جہاں اور بہت سی چیزوں کو اہمیَّت دیتا ہے وہیں حُصُولِ ثواب کیلئے نکاح کی درج  ذیل نیّتوں کو بھی خاص طور پر اہمیَّت دے اور اِنہیں ہرگز ہرگز نظر انداز نہ کرے بلکہ ہوسکے تو اِن کے علاوہ اور بھی اچھی اچھی نیّتیں کرے۔ آئیے نکاح اور شادی شُدہ زندگی سے متعلِّق چند نیتیں مُلاحَظہ کیجئے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمّد

نکاح کی نیّتیں

٭رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّتِ مُبارَکہ پر عمل کرنے ٭اپنے آپ کو فعلِ حرام سے بچانے٭ غیر مَحْرَم عورتوں کی طرف توجّہ کرنے سے بچنے٭زَوجہ کا نان نفقہ اور حق مہر ادا کرکے ثواب کمانے٭دل و دماغ کو بُرے خیالات سے پاک کر کے دِلجمعی کے ساتھ عبادت کرنے کیلئے نکاح کروں گا٭نکاح کے ذریعے اپنے ایمان کی حفاظت کروں گا٭نکاح کیلئے دین دار رفیقۂ حیات کا اِنتخاب کروں گا ٭حُصُولِ اَولاد کے ذریعے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمّت میں اور ٭مسلمانوں کی اجتماعی قوّت میں اضافے کا سبب بنوں گا٭بیوی بچّوں کے حُقوق اداکرکے حُقوقُ العباد کی ادائیگی کا ثواب حاصل  کروں گا۔

بیان کردہ نکاح کی نیتوں کے علاوہ شادی کرنے والے مسلمان کوحصولِ ثواب کیلئے اِن نیتوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہئے : ٭رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نکاح والی پیاری پیاری سنّت کی ادائیگی میں شَرْعی تقاضوں کا پاس رکھوں گا ٭غیر شَرْعی معاملات و رُسُومات اور ٭پیسوں کے بیجا اِسْراف سے بچوں گا٭ زَوجہ کی وجہ سے بہت سے گھریلوں کاموں سے فراغت حاصل ہونے کی بِناء پر نیکی کے کاموں کو پہلے سے زیادہ وقت دوں گا ٭زوجہ و اولاد کے حُقوق کی ادائیگی کیلئےکسبِ حلال کروں گا٭کسبِ مَعاش کی راہ میں پیش آنے والی مشقتوں پر رِضائے الٰہی کیلئے صبر کروں گا٭زَوجہ اور ٭اَولاد کی شریعت کے مُطَابِق تَرْبِیَت کروں گا٭اپنی رفیقۂ حیات پر بے جا رُعب جمانے کے بجائے حَتَّی الْمَقْدور نرمی اختیار کروں گا٭خُدا نخواستہ اُس کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچی یا  ٭اُس



[1]   بہارِ شریعت ، حصہ۷ ، ۲ / ۵ ملتقطا

[2]   قوت القلوب ، الفصل الخامس والاربعون ، ذکر التزویج   الخ ، ۲ / ۴۰۳بتقدم وتأخر



Total Pages: 74

Go To