Book Name:Islami Shadi

اچھے ہوں اور تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویو ں کیلئے اَخلاقی طور پر اچھے ہوں۔ ([1])٭خَيْـرُكُمْ خَيْـرُكُمْ  لِاَهْلِهٖ وَاَنَا خَيْـرُكُمْ لِاَهْلِىْیعنی تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل و عیال کے حق میں تم سب سے بہتر ہوں ۔ ([2])٭عورتوں (یعنی بیویوں )کے معاملے مىں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو کہ وہ تمہارے زیرِدست ہىں ۔ ([3])

شوہر پر بیوی کے حُقوق

      فتاویٰ رضویہ کی جلد 24میں شوہر پر بیوی کے جوحُقوق بیان کئے گئے ہیں تفسیر صراطُ الجنان میں اُن کا خلاصہ یہ بیان کیا گیا ہےکہ  خرچہ دینا ، رہائش مُہَیّا کرنا ،  اچھے طریقے سے گُزارہ کرنا ، نیک باتوں ، حیاء اور پردے کی تعلیم دیتے رہنا ، ان کی خِلاف ورزی کرنے پر سختی سے منع کرنا ، جب تک شریعت منع نہ کرے ہر جائز بات میں اس کی دلجوئی کرنا ، اس کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنا اگرچہ یہ عورت کا حق نہیں ۔ ([4]) 

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!!بیان کئے گئے شَرْعی حُقوق کے علاوہ میاں بیوی پرایک دوسرے کے بہت سے اَخلاقی حُقوق بھی لاگو ہوتے ہیں جن کا خیال نہ رکھنے کی صورت میں اگرچہ  شَرْعی گرفت نہ ہو مگر گھر کا ماحول ضرور ناخُوشگوار ہوتا ہے۔ میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی عزّت کریں ، عزّتِ نَفْس کا خیال رکھیں خاص طور پر ایک دوسرے کے عزیز و اَقارب کے سامنے اپنے رفیقِ حیات اور اس کے گھروالوں کی عزّت کی حفاظت کریں ۔ اس معاملے میں کوتاہی کی معمولی سی چنگاری بھی بسا اوقات بہت بڑے اَلاؤ کا سبب بنتی ہے اس لئے اس میں کوتاہی نہ کریں ، اگر کوئی شَرْعی اور مَعاشی رُکاوٹ نہ ہو تو ایک دوسرے کی خُوشیوں اور خواہشوں کا بھی خیال رکھیں خاص طور پر شوہر کو چاہئے کہ  بیوی بچّوں پر بلاوجہ تنگی نہ کرے کہ مالِ حلال کماکر بال بچّوں پر خرچ کرنا باعثِ اجرِ عظیم ہے۔

اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت

      ہمارے پیارے ، آقا مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ایک دینا روہ ہے جو تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کیا ، ایک دینا ر وہ ہے جو تم نے کسی غلام پر خرچ کیا ، ایک دینار وہ ہے جو تم نے کسی مسکین پر خرچ کیا اور ایک دینار وہ ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا ، ان میں سب سے زیادہ اجر اُس دینار کا ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔ ([5]) 

حضرت سَیِّدُنا  جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : (بروزِ قیامت)سب سے پہلے جو چیز انسان کے ترازوئے اعمال میں رکھی جائے گی وہ انسان کا وہ خرچ ہوگا جو اس نے اپنے گھر والوں پر کیا ہوگا۔ ([6])

      سرکارِ مکہ مکرمہ ، سردارِ مدینہ منوّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تم جو کچھ بھی اللہتعالیٰ کی رِضا کے لئے خرچ کرتے ہو اس کا تمہیں اجر دیا جاتا ہے حتی کہ اس نوالے کا بھی جسے تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ ([7])

اہل و عیال کی بے جا خواہشات کا غلام نہ بنئے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً ماں باپ ، بیوی بچّوں اور قَرابت داروں کے حُقوق کی ادائیگی ہماری ہی ذِمّہ داری ہے لیکن اس معاملے میں انتہائی احتیاط کی بھی ضرورت ہے ، انسان اپنے آپ کو بیوی بچّوں کی خواہشات کا ایسا غلام ہرگز نہ بنائے کہ ان کی ناجائز خواہشیں بھی پوری کرتے پھر ے یا جائز



[1]   ترمذی ، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق المرأة علی زوجھا ، ۲ / ۳۸۷ ، حدیث : ۱۱۶۵

[2]   ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب حسن معاشرة النساء ، ۲ / ۴۷۸ ، حدیث : ۱۹۷۷

[3]   مسند احمد ، مسند البصریین ،  ۷ / ۳۷۶ ،  حديث : ۲۰۷۲۰

[4]   تفسیرصراط الجنان ، پ۲ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۲۸ ، ۱ / ۳۴۸

[5]   مسلم ، کتاب الزکاة  ، باب فضل النفقة   الخ ،  ص۳۸۸ ، حدیث : ۲۳۱۱

[6]    المعجم الاوسط  ، ۴ / ۳۲۸ ، حدیث : ۶۱۳۵

[7]    مسلم ،  کتاب الوصیۃ ،  باب الوصیۃ بالثلث ،  ص ۶۸۲ ،  حدیث :  ۴۲۰۹



Total Pages: 74

Go To