Book Name:Islami Shadi

خُوش گُفتاری کا خیال اور عطر (Perfume) کا استعمال بھی کیا جاتا ہے مگر گھر میں رہتے ہوئے شوہر کیلئے ان چیزوں کی طرف کوئی خاص توجّہ نہیں دی جاتی ۔ بعض عورتیں شادی کے ابتدائی ایّام میں تو اپنے شوہر کیلئے بن سنور کر رہتی ہیں لیکن  جب مانوسیت ہوجاتی ہے اور رشتہ پُرانا ہوجاتا ہے  تو یہ بننا  سنورنا ختم ہوجاتا ہے۔ یاد رکھئے! کہ رشتہ پرانا ہونے کی وجہ سے کان ، آنکھ اورناک کا معیار نہیں بدلتا ، جس طرح شوہر پہلے خُوشبو سونگھنا پسند کرتا تھا اب بھی خُوشبو ہی پسند کرے گا اور جس طرح اچھا دیکھنا  اور اچھی بات سننا پسند کرتا تھا اسی طرح اب  بھی اچھا دیکھنا اور اچھی بات ہی سننا پسند کرے گا۔ اسی طرح بیوی کی ترجیحات بھی یہی ہوتی ہیں ، یقیناً وہ بھی یہی چاہے گی کہ اچھا دیکھے ، اچھا سُنے اور اچھا سونگھے ، لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی ترجیحات کو نظر انداز نہ کریں اور والدین کو بھی چاہئے کہ بچّوں کی تَرْبِیَت میں ان چیزوں کو مدِّ نظر رکھیں۔

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل بد قسمتی سے اِزْدِواجی زندگی کے بارے میں بچّوں کی تَرْبِیَت کرنے میں ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ بچیوں کی تَرْبِیَت تو کچھ نہ کچھ کر ہی دیتے ہیں مگر بچّوں کی تَرْبِیَت نہیں کرتے بلکہ شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے حالانکہ عورتوں کے مقابلے میں مَردوں کو تَرْبِیَت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ مرد گھر کا حاکم و سربراہ ہوتا ہے ، اُسے گھریلو زندگی کو خُوشگوار بنانے کے گُر اچھی طرح معلوم ہونے چاہئیں ، یہی وجہ ہے کہ کروڑوں حنفیوں کے پیشوا سِراجُ الاُمّہ ، کاشِفُ الغُمّہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے شاگردوں کو جہاں دیگر معاملات میں مُفید نصیحتیں فرمائیں وہیں روحانی باپ ہونے کی حیثیّت سے اِزْدِواجی زندگی کے بارے میں بھی خاص طور پر نصیحتیں ارشاد فرمائیں ۔ ([1])لہٰذا والدین کو چاہئے کہ صرف لڑکیوں ہی کو نہیں لڑکوں کو بھی نصیحتیں کریں اور انہیں اچھی طرح اِزْدِواجی زندگی کے آداب سے آگاہ کریں ۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میاں بیوی کے حُقوق کا بیان

      خُوشگوار اِزْدِواجی زندگی کافی حد تک اس بات پر بھی موقوف ہے کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کے حُقوق کے بارے میں کتنی معلومات ہے اور وہ اس معلومات کی روشنی میں کس حد تک اپنے رفیقِ حیات کے حُقوق کا خیال رکھتا ہے۔ عموماً ایک دوسرے کے حُقوق ادا نہ کرنے اور ایک دوسرے کو اہمیَّت نہ دینے ہی کی وجہ سے باہم ناچاقیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو میاں بیوی میں فاصلوں اور دُوریوں کو بڑھانے کا سبب بنتی ہیں ۔ دينِ اسلام میں میاں بیوی کے حُقوق کو بہت اہمیَّت حاصل ہے ، کثیر احادیث میں میاں بیوی کوایک دوسرے  کےحُقوق  ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ آئیے!بیوی پر شوہر کے حُقوق کی اہمیَّت کے بارے میں چند احادیثِ مُبارَکہ مُلاحَظہ کیجئے :

شوہر کے حُقوق کی تاکید و اہمیت

          ٭اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا : عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا : شوہر کا حق۔ میں نے پوچھا : مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا : اُس کی ماں کا حق۔ ([3])٭عورت جب تک شوہر کا حق ادا نہ کرےوہ ایمان کی مِٹھاس حاصل نہیں کرسکتی۔ ([4])٭اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جان ہے عورت اس وقت تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے حق سے دَسْتْبردار نہیں ہوسکتی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کردے۔ ([5])٭اگر انسان کیلئے کسی انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو ضرور حکم دیتا کہ جب شوہر اُس کے پاس آیا کرے تو اُسے سجدہ کیا کرے ، اُس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے شوہر کو بیوی پر عطا فرمائی ہے۔ ([6]) ٭حضرت



[1]    تفصیل مکتبۃُ المدینہ کے رسالے “ امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وصیتیں “ میں مُلاحَظہ کیجئے۔

[2]   اس بارے میں مکتبۃُ المدینہ کے رسالے “ شوہر کو کیسا ہونا چاہئے “ سے رہنمائی مفید ہے۔

[3]   مستدرک ، کتاب البر و الصلة ، اعظم الناس حقا   الخ ، ۵ / ۲۴۴ ، حدیث : ۷۴۱۸

[4]   معجم کبیر  ، ۲۰ / ۵۳ ،  حدیث : ۹۰

[5]   ابن ماجه ،  کتاب النکاح ،  باب حق الزوج علی المرأة ،  ۲ / ۴۱۲ ، حدیث : ۱۸۵۳

[6]   سنن الکبری للبیهقی ، کتاب النکاح ،  باب من تخلی لعبادۃ اللہ   الخ ،  ۷ / ۱۳۵ ، حدیث : ۱۳۴۸۵



Total Pages: 74

Go To