Book Name:Islami Shadi

(تابعدار)ہو جائے گا۔ اس کے بارے میں دس باتوں کو پلّے باندھ لے اِن میں تیرے لئے بڑی گہرائی اور نصیحت ہے۔

٭پہلی اور دوسری بات : خاوند کے ساتھ قناعت سے رہنا  اور ایسے زندگی بسر کرنا کہ اس کی ہر (جائز)بات اچھی طرح سننااور مان لینا ، کیونکہ قناعت میں دل کی راحت ہے اور (شوہر کی جائز)بات غور سے سُن کر ماننے میں رَبّ کی رِضا ہے۔

٭تیسری اور چوتھی بات : اپنے شوہر کی ناک اور آنکھ کا خیال رکھنا کہ اسے ہرگز تیرے اندر کوئی ناپسندیدہ چیز دکھائی نہ دے اور وہ تجھ سے عُمدہ خُوشبو ہی سونگھے۔ موجودہ چیزوں میں سے سُرمہ بہترین چیز ہے اور پانی بہترین خُوشبو ہے ، جو محسوس نہیں ہوتی۔

٭پانچویں اور چھٹی بات : اپنے سرتاج کے کھانے کے اوقات کو مدِّ نظر رکھنا اور اس کے آرام و سُکون کا بھی خیال رکھنا ، کیونکہ بھوک کی شدّت آدمی کو بھڑکاتی اور نیند کی خرابی غُصّہ دلاتی ہے۔

٭ساتویں اور آٹھویں بات : اپنے شوہر کے رشتے داروں اور اہل و عیال کو اہمیَّت دینا اور اس کے مال کی حفاظت کرنا کیونکہ مال کی حفاظت حسنِ تقدیر ہے اور رشتے داروں اور گھر والوں کا خیال رکھنا حسنِ تدبیر ۔   

٭نویں اور دسویں بات : اپنے شوہر کے راز فاش مت کرنا اور کسی بھی حال میں اس کی نافرمانی نہیں کرنا۔ اگر تو نے اس کے راز فاش کئے تو اُس کی بے وفائی سے بچ نہیں سکے گی اور اگر نافرمانی کرے گی تو اس کا سینہ غصے سے بھڑک اُٹھے گا۔

      اے میری پیاری بیٹی! اُس کے رَنْج وغم کی کیفیت میں خُوشی و مَسَرَّت کا اظہار کرنے اور اُس کی خُوشی کے موقع پر حُزن و مَلال کا مُظاہَرہ کرنے سے بچنا کیونکہ پہلی بات بے پروائی کی علامت ہے اور دوسری بات تعلُّقات کو ناخُوشگوار بنانے کا سبب۔

تجھ سے جس قدر ہوسکے اپنے شوہر کی عزّت کرنا ، اُسے بہت اعلیٰ مرتبہ دینا اور ہمیشہ اس کا ساتھ نِبھانا۔ بیٹی یاد رکھنا!تجھے اُس سے جو اپنائیت درکار ہے وہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک تُو اپنی پسند اور ناپسند کے تمام معاملات میں اُسکی رِضا کو اپنی رِضا پر اور اُس کی خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیح نہ دے گی۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تیرا بھلا کرے اور تیری حفاظت فرمائے۔ ([1])

تم کنیز بن جانا وہ تمہارا غلام بن جائے گا

مروی ہے کہ حضرت اَسماء بن خارجہ فَزاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  جو کہ اہلِ عرب کے دانشمندبُزرگ تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی بیٹی کی رُخصتی کے وقت فرمایا : بیٹی! اگر آج تمہاری والدہ زندہ ہوتیں تو مجھ سے زیادہ وہ اس بات کی حقدار ہوتیں کہ (اس موقع پر) تمہاری تَرْبِیَت کریں ، مگر اب (جبکہ وہ نہیں رہیں تو) کسی اور کے بجائے میرا حق بنتا ہے کہ تمہیں سمجھاؤں ، لہٰذا جو کچھ میں کہنے جارہا ہوں اُسے اچھی طرح سمجھ لو !جس گھر میں تم نے پروش پائی اب اس سے رُخصت ہو کر تم ایسے بچھونے کی طرف جا رہی ہو جسے  تم نہیں پہچانتی اورایسے رفیق کے پاس جا رہی ہو جس سے تم نا مانوس ہو ، لہٰذا تم اس کے لئے زمین بن جانا وہ تمہارے لئے آسمان بن جائے گا ، تم اس کے لئے بستر بن جانا وہ تمہارے لئے ستون بن جائے گا ، تم اس کی باندی (یعنی کنیز) بن جانا وہ تمہارا غلام (یعنی تابعدار) بن جائے گا۔ نہ تو ہر وقت اُس کے قریب رہنا کہ وہ تم سے بیزار ہی ہو جائے اور نہ ہی اتنا دور ہونا کہ وہ تمہیں بھول ہی جائے بلکہ اگر وہ خود تمہارے قریب ہو تو تم بھی اُس کے قریب ہو جانا اور اگر تم سے دور ہو تو تم بھی اس سے دور رہنا۔ اس کے ناک ، کان اور آنکھ کی حفاظت کرنا (اس طرح)کہ وہ تم سے صرف خُوشبو ہی سونگھے ، اچھی بات کے علاوہ کچھ نہ سنے اور خُوبصورتی کے علاوہ کچھ نہ دیکھے۔ ([2])

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کتنی خُوبصورت نصیحت ہے کہ اپنے شوہر کے ناک کی حفاظت اس طرح کرنا کہ وہ تجھ سے خُوشبو کے سوا کچھ نہ سونگھے ، ہمیشہ اس کو تجھ سے خُوشبو ہی پہنچے اور اس کے کان کی حفاظت اس طرح کرنا کہ اس کے کان تجھ سے اچھی بات ہی سنیں اور اس کی آنکھ کی حفاظت اس طرح کرنا کہ وہ جب بھی تجھے دیکھے تو تُو اس کو اچھی لگے ۔ مگرافسوس!آج کل عزیز رشتے داروں کے ہاں جاتے ہوئے تو ان تینوں چیزوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے ، خُوب سنگھار کیا جاتا ہے ،



[1]   احکام النساء لابن جوزی ،  ص۱۴۲

[2]   قوت القلوب ، الفصل الخامس و الاربعون ،  ذکر التزویج و ترکه   الخ ،  ۲ / ۴۲۱



Total Pages: 74

Go To