Book Name:Islami Shadi

باپ آپس میں ایک دوسرے کی عزّت کریں گے ، ایک دوسرے کا لحاظ کریں گے ، عزّتِ نَفْس کا پاس رکھیں گے ، تلخ کلامی اور قابلِ اعتراض گفتگو سے گُریز کریں گے ، نماز روزے کی پابندی کریں گے اور گھر میں مدنی ماحول بنائیں گے تو بچّوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنے ماں باپ کی نصیحتیں قبول کرتے ہوئے انہی کے کردار سے اپنے کردار کو تعمیر کرنے کی کوشش کریں گے۔ یاد رکھئے! آج کا بچّہ کل کسی کا شوہر اور پھر باپ بنے گا اسی طرح آج کی بچّی کل کسی کی بیوی اور پھر ماں بنے گی لہٰذا ان کو سمجھانے  میں ہرگز کوتاہی نہ کریں ۔

سسرال کے متعلِّق بچیوں کو نصیحت کیجئے

      خاص طور پر ماں کو اپنی بچّی کی تَرْبِیَت پر بھرپور توجّہ دینے کی ضرورت ہے اور جب اس کی شادی کے دن قریب ہوں تو یہ باتیں بھی اُسے سمجھائے کہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے کھانے پینے ، اوڑھنے پہننے اور آرام کا خیال رکھے ، گھر کی صفائی ستھرائی کا اِہْتِمام رکھے ، اُس کے ماں باپ کی اپنے والدین کی طرح عزّت کرے ، ان کی مناسب خدمت کرتی رہے ، اپنی نَنْدوں سے حسنِ سُلوک کرے ، دیورانی اور جٹھانی سے بھی بنا کر رکھے ، اُن سے اُلجھنے سے بچے ، اپنے دیگر سُسرالی رشتے داروں کا بھی احترام کرے ، خاص طور پر شوہر کے ذہنی اور جسمانی سُکون کا خیال رکھے ، گھریلو اَخْراجات میں اسکی مالی حالت کو پیشِ نظر رکھے ، اس کی آمدنی پر اپنی غیر ضروری خواہشوں اور فرمائشوں کا بوجھ نہ ڈالے بلکہ کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے ضروریات کا دائرہ بھی مَحْدود سے مَحْدود تَر رکھے ، شوہر کام کاج سے فارغ ہو کر جب تھکا ہارا گھر آئے تو آتے ہی گھریلو مسائل اور اُلجھنوں کے بارے میں گفتگو نہ کرے بلکہ اُسے سُکھ کا سانس لینے دے ، کھانے پینے کا پوچھے ، شوہر کی آمد سے پہلے اپنا حُلیہ دُرُست کرلے اور اپنے رَوَیّے سے باقاعدہ اس بات کا اظہار کرے کہ شوہر کی آمد اُس کیلئے باعثِ خُوشی و مَسَرَّت ہے بلکہ ہوسکے تو اُس کی رِضا کیلئے ظاہری زینت کا خیال رکھے کہ اُسے دیکھتے ہی شوہر کی ساری تھکاوٹ دُور ہوجائے۔

بچیوں کو گھر گھرستی سکھائیے

      بیان کردہ نصیحتوں کے علاوہ ماں کو چاہئے کہ کھانے پکانے ، صفائی سُتھرائی ، سِلائی کَڑھائی اور گھریلو کام کاج میں اپنی بچّی کی دلچسپی پیدا کرے تاکہ اُسے شادی کے بعد اس قسم کے طعنے نہ سُننے پڑیں کہ تمہیں تمہارے ماں باپ نے کچھ نہیں سکھایا ، جب گھر گھرستی نہیں آتی تھی تو شادی کیوں کی ، نواب زادی کو کچھ آتا ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ شادی کے بعد لڑکی پرائے گھر کی ہوجاتی ہے جہاں شوہر کے علاوہ ساس ، سُسر ، نَنْد ، دیورانی اور جٹھانی جیسے بہت سے نئے رشتے اس سے وابستہ ہوجاتے ہیں ، لہٰذا ماں کا اچھی نصیحتیں کرنا اور گھریلو کام کاج سکھانا بچّی کا گھر بسانے میں مُعاون ثابت ہوگا۔ جیساکہ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : لڑکیوں کو کھانا پکانا ، سینا ، پِرونا اور گھر کے کام کاج ، پاکدامنی اور شرم و حیاء سکھاؤ کہ یہ لڑکیوں کا ہُنَر ہے۔ ([1])آئیے اس ضمن میں 2 واقعات مُلاحَظہ کیجئے۔ چنانچہ

گلدستۂ نصیحت کے 10 پھول

      ایک تابعی بُزرگ حضرت عبدُ المَلِک بن عُمَیْر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں : جب عَوْف بن مُلَحِّم شَیْبانی نے اپنی بیٹی کی شادی اِیَاس بن حارِث کِنْدی سے کی تو بیٹی کو تیّار کیا گیا اور رُخصتی کے وقت لڑکی کی والدہ اُمامہ اُسے نصیحت کرنے کیلئے اُس کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : پیاری بیٹی! اگر اس بُنیاد پر کسی کو نصیحت نہ کرنا دُرُست ہوتا کہ وہ ادب میں اعلیٰ مقام اور حَسَب نَسَب بھی عالی شان رکھتا ہے تو میں تجھے بھی نصیحت نہ کرتی اور تجھے پَنْد و نصیحت کرنے سے آزاد سمجھتی(لیکن ایسا نہیں ہے) نصیحت ایسی چیز ہے جو غافل کی غفلت دُور کردیتی ہے اور سمجھ دار کیلئے سُوجھ بوجھ کا ذریعہ بنتی ہے۔

      اے بیٹی!اگر باپ کے مالدار ہونے کی بناء پر یا بیٹی کو باپ کی سخت ضرورت ہونے کی وجہ سے کوئی عورت شوہر سے بے نیاز ہوسکتی تو تُو سب سے زیادہ بے نیاز ہوتی (یعنی تجھے شوہر کی کوئی ضرورت نہ ہوتی)مگر ایسا نہیں ہے ، عورتیں پیدا ہی مَردوں کیلئے کی گئی ہیں جیسے مرد عورتوں کیلئے پیدا کئے گئے ہیں ۔   

          اے بیٹی!جس ماحول میں تیری پیدائش ہوئی اور جس گھونسلے میں تو نے پَروَرِش پائی تُو اُسے خیرباد کہہ کر ایسی جگہ جارہی ہے جس سے تُو انجان ہے اور ایسے ساتھی کی طرف جا رہی ہے جس سے تُو نا مانوس ہے۔ وہ تجھ پر اپنی ملکیت کے سبب بادشاہ بن گیا ہے ، تُو اس کی لونڈی (فرماں بردار)بن جانا وہ تیرا غلام



[1]   اسلامی زندگی ، ص۳۲



Total Pages: 74

Go To