Book Name:Islami Shadi

اور چاول پیش کئے گئے۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بتایا : کہ کھانا گھر میں پکایا گیا ہے ، دال پانی میں پکائی گئی ہے اور اس میں تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں ڈالا گیا ۔ مگر کھانے والوں کا کہنا ہے کہ دال چاول حیرت انگیز طور پر انتہائی لذیذ تھے۔ ([1]) 

دُھوم دَھام سے ولیمہ کرنے کا  مُطالَبہ

      امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مدنی مذاکرے کے دوران اپنے جانشین مولانا حاجی عُبَیْد رضا عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کے ولیمے کے متعلِّق کچھ یوں ارشاد فرمایا : دُھوم دَھام سے ولیمہ کرنے کا  بہت اِصرار رہا۔ کسی نے آفر بھی کی کہ 200 دیگیں بِلا اجُرت پکا دیں گے ، بس دو لاکھ روپے کا  سامان آئے گا۔ میں نے کہا : دو لاکھ روپے تو میرے پاس نہیں ہیں ، مگر میرے لیے دو لاکھ روپے جمع کرنا مُشکل بھی نہیں ہے ، بس یہی ہوگا کہ جس سے کہوں گا اُس کے دل میں میری جو عزّت ہوگی وہ ختم ہوجائے گی ، دو چارسیٹھوں کو فون کردوں گا ، تھوڑی سی خُوشامد کرنا پڑے گی جو کہ میرے مِزاج میں نہیں ہے ، 200 کی جگہ 1200 دیگیں ہوجائیں گی ، یوں میرے بیٹے کا ولیمہ تو دُھوم دَھام سے ہوگا اور آپ لوگ بھی خُوش ہوجائیں گے مگر مجھے اس کیلئے اپنی خُود داری کا سودا کرنا پڑے گا۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شادی آسان تھی مگر

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی  اور آپ کے بچوں کی شادی سے بَخُوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کے اس پُرفِتن دور میں بھی اگر مسلمان پکا تہیہ کر لیں تو شادی بیاہ کے معاملات اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ادا کرسکتے ہیں اگرچہ اب یہ کچھ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ۔ افسوس! موجودہ دور میں شادی بیاہ کی رُسُومات میں اس قدر بے ہودگیاں پائی جاتی ہیں کہ اسلام نے شادی اور ولیمے کو جتنا آسان پیش کیا تھا ، مُروّجہ بے ہودگیوں اور فضول خرچیوں نے انہیں اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے ، شادیوں کے بے جا خرچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکتوبر 2017 میں ایک مُتَوسِّط گھرانے میں شادی کی تاریخ طے کرنے کی تقریب ہوئی جس میں اڑھائی مَن (یعنی 100 کلو) گوشت کا قورمہ تیار کیا گیا۔ دن تاریخ مُقرَّر کرنے کی اِس تقریب سے بارات اور دیگر تقریبات میں کئے جانے والے خرچ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ بد قسمتی سے آج کل کی شادیوں میں صرف مُووی اور تصاویر بنوانے پر جتنا خرچہ ہوتا ہے اس میں ایک سے زائد سادَگی والے ولیمے ہوسکتے ہیں ۔

شادیوں میں بے دریغ خرچوں کا مُعاشَرے پر بُرا اثر

      بہرحال اس کڑوے سچ کو جھٹلانا آسان نہیں کہ شادیوں میں بھاری جہیز ، غیر شَرْعی رُسُومات ، مہنگی دعوتوں ، گانے باجے کی محفل ، مُووی کے اِہْتِمام اور آتش بازی وغیرہ کی وجہ سے شادی کے حد سے بڑھے ہوئے خرچے مُعاشَرے کیلئے ناسُور بن چکے ہیں ۔ ان مہنگی دعوتوں اور بے دریغ پیسہ خرچ کرنے کا سب سے زیادہ بُرا اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے اور وہ یہ کہ غریب والدین شادی کے بھاری اَخْراجات کے متحمل نہیں ہوتے اور سنّت کے مطابق سادَگی سے شادی اِس لئے نہیں کرتے کہ رشتے داروں اور برادری والوں کی طرف سے طعنے سننے پڑیں گے ، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب غریب لوگ مالی طور پر اپنے بچّوں کی شادی کے قابل ہوتے ہیں تو بچّوں کی عمریں نکل جاتی ہیں ، اس وجہ سے مُعاشَرے میں بے حیائی اور بدکاری کے دروازے کُھلتے ہیں ۔

بعض والدین مجبوراً بھاری قرض لیکر اس فرض سے سبکدوش ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شادی کے فرض سے تو آزاد ہوجاتے ہیں مگر قرض سے آزاد نہیں ہوپاتے بلکہ بارہا ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ ایک قرض مکمل طور پر ادا نہیں کرپاتے کہ دوسرے بچّے یا بچّی کی شادی سر پر آجاتی ہے ، لہٰذا اس کیلئے بھی قرض لینا ناگُزیر ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ بیچارے یکے بعد دیگرے قرض لیتے رہتے ہیں اور یوں ان کی پوری زندگی بلکہ بعض اوقات ان کے بچّوں کی زندگی بھی قرض کی ادائیگی کیلئے گروی ہوکر رہ جاتی ہے۔

          غریبوں کے علاوہ ان مہنگی شادیوں کا نقصان مالداروں کو بھی ہوتا ہے کیونکہ اُنہیں اپنی حیثیّت کی زیادہ فکر ہوتی ہے لہٰذا روپیہ پانی کی طرح بہانا ان کی خواہ مخواہ کی مجبوری بن جاتاہے ، جس کیلئے وہ بھاری قرض لیتے ہیں اور ایسے لوگ اکثر سودی قرضے ہی لیتے ہیں جو کہ شدید حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے



[1]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص۴۰

[2]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت قسط : ۳ ، ص ۳۹



Total Pages: 74

Go To