Book Name:Islami Shadi

کی ذِمّہ داری تھی)نمازِ فجر کی اِمامت کی سعادت پائی۔ ([1])

بنتِ عطّار کا جہیز

      امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی سادَگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے عین سنّت کے مطابق کرنے کی کوشش فرمائی تھی۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مدنی مذاکرے میں کچھ یوں ارشاد فرمایا : میں نے پوری کوشش کی کہ حضرت سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو میرے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو جو عنایت فرمایا اس کی پیروی کی جائے ، مثلاًمشکیزہ ، گیہوں پیسنے والی ہاتھ کی چکّی ، نُقرَئی(نُق۔ رَ۔ ئی یعنی چاندی کے)کنگن پیش کئے۔ اسی طرح کی دیگر چیزیں کتابوں سے دیکھ کر جو جو میسّر آیا (مثلاً) چٹائی ، مِٹّی کے برتن اورکھجور کی چھال بھراچمڑے کا تکیہ وغیرہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ جہیز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ([2])   

جانشینِ عطّار کا نکاح

      جانشینِ عطّار ، الحاج مولاناابو اُسَید عُبَیْد عطاری مدنی مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کے نکاح کی تقریب بَرقی قمقموں سے جگمگاتے شادی ہال کے بجائے مدینۃُ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے تین روزہ سنَّتوں بھرے بین الاقوامی اجتماع میں 18 اکتوبر 2003ء کوشبِ اتوار بڑی سادَگی کے ساتھ انجام پائی۔ تلاوت کے بعد پُر سوز نعتیں پڑھی گئیں ، رِقّت انگیز سماں تھا ، خُطبۂ نکاح پڑھ کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی نے نکاح پڑھایا۔ جبکہ رُخصتی کی تقریب شَوّالُ المکرَّم ۱۴۲۶ھ ، بمطابق2005 کی دسویں شب رکھی گئی۔ ([3])

بَراتی ہیں تَمامی اَہل ِسنّت

عُبَیْدِ قادِری دُولھا بنا

شادی کی صبح باجماعت نمازِ فجر

      شبِ زِفاف کی صبح شہزادہ عطّار مولانا حاجی عُبَیْد رضا مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ میں حسب ِمعمول نمازِ فجر پڑھائی۔ اس طرح انہوں نے اپنے والد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی رِوایت کو برقرار رکھاکہ انہوں نے بھی شبِ زِفاف کی صبح مسجد نور(کاغذ ی بازار باب المدینہ کراچی)میں نمازِ فجر کی حسبِ معمول امامت فرمائی تھی۔ ([4]) 

پُر تکلّف جہیز لینے سے اِنکار

      مولانا حاجی عُبَیْد رضا مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کی شادی میں جب لڑکی والوں نے پُر تکلّف جہیز دینا چاہا تو شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اُنہیں سادَگی اپنانے کی تلقین کی۔ دوسری طرف شہزادۂ عطّار مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی بھی پلنگ وغیرہ کی بجائے چٹائی قبول کرنے پر رِضا مند ہوئے۔ ([5])

جانشینِ عطار کا ولیمہ

شہزادۂ عطّار حاجی عُبَیْد عطّاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حسبِ خواہش انتہائی سادَگی سے دعوتِ ولیمہ کا اِہْتِمام فرمایا جس میں صرف دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے تمام اراکین اور تین یا چار دوسرے اسلامی بھائیوں کو مدعو کیا لیکن کھانے کے وقت گھر کے باہر جمع ہونے والے دیگر عقیدت مند اسلامی بھائیوں کوبھی اندر بُلوا لیا گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی ولیمے میں شریک تھے۔ دعوتِ ولیمہ میں دال



[1]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص ۲۵ ، ۲۶بتقدم و تاخر

[2]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص۴۴

[3]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص ۳۲ تا ۳۳ ، ملتقطا

[4]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص ۳۸

[5]   تذکرۂ امیرِ اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص ۳۴



Total Pages: 74

Go To