Book Name:Islami Shadi

نے وہ حلوہ کھایا۔ ([1])

خاتونِ جنّت کا جہیز

      شہنشاہِ کونین ، رحمتِ دارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شہزادیِ اسلام حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو جہیز میں جو سامان دیا اُس کی فہرست یہ ہے : ایک کملی ، بان کی ایک چارپائی ، چمڑے کا گدّا جس میں روئی کی جگہ کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ، ایک چھاگَل ، ایک مَشک ، دو چکّیاں ، دو مٹّی کے گھڑے۔ حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن نعمان انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپناایک مکان حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس لئے نذر کر دیا کہ اِس میں حضرت علی اور حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما  سُکونت فرمائیں ۔ ([2])

خاتونِ جنّت کے نکاح کو نمونہ بنائیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مفسر شہیر ، حكیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اپنی اَولاد کے نکاح کیلئے حضرت خاتونِ جنّت ، شہزادیِ  اسلام ، فاطمۃُ الزّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے نکاحِ پاک کو نمونہ بناؤ اور یقین کروکہ ہماری اَولاد اُن کے قدمِ پاک پر قربان اور یہ بھی سمجھ لو کہ اگر حضور نبیِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مرضی ہوتی کہ میری لختِ جگر کی شادی بڑ ی دُھوم دَھام سے ہو اور صحابۂ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) سے اس کیلئے چندہ وغیرہ کیلئے حکم فرمادیا جاتا تو عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا خزانہ موجود تھاجو ایک ایک جنگ کیلئے نو نو سو اونٹ اور نو نو سو اشرفیاں حاضر کردیتے تھے۔ لیکن چونکہ مَنْشا (مقصود )یہ تھا کہ قیامت تک یہ شادی مسلمانوں کیلئے نمونہ بن جائے اس لئے نہایت سادگی سے یہ اسلامی رسمیں ادا کی گئیں ۔ ([3])

واسطے جن کے بنے دونوں جہاں          اُن کے گھر تھیں سیدھی سادھی شادیاں

اس جہیزِ پاک پہ لاکھوں سلام             صاحبِ لولاک پر لاکھوں سلام

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

امیرِ اہلسنّت اور سنّتِ نبوی پر عمل

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے اس پُر فِتن دور میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ شیخِ طریقت ، امیر ِاہلسنّت حضرت ِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذات ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ، آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  باکرامت ولی ہونے کے ساتھ ساتھ علمی ، عَمَلی ، ظاہری اور باطنی طور پر احکامات اِلٰہیہ کی بجا آوری اور سُننِ نبویّہ کی پیروی کرنے اور کروانے کی روشن مثال ہیں ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  جس طرح اپنے بیانات ، تحریرات ، ملفوظات اور مکتوبات کے ذریعے دیگر لوگوں کو اصلاحِ اعمال کی تلقین فرماتے رہتے ہیں ، یونہی اپنے اہلِ خانہ کو بھی اَعمال و اَحوال کی دُرُستی کی تنبیہ فرماتے رہتے ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے نہ صرف اپنی شادی بلکہ اپنی اکلوتی بیٹی اور اپنے شہزادوں کی شادی کے پُر مَسَرَّت لمحات میں بھی تمام معاملات شریعتِ مطہرہ  کے عین مطابق رکھنے پر بھرپور توجّہ فرمائی۔ جس کے نتیجے میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ یہ شادیاں ہر طرح کی فضول و ناجائز رَسْموں سے پاک ، اسلامی تعلیمات کے مطابق انتہائی سادَگی کا مظہر اور دورِ حاضر کی مِثالی شادیاں قرار پائیں ۔ آئیے!ان شادیوں کے کچھ حسین پہلوؤں کو مُلاحَظہ کیجئے۔ چنانچہ ،

امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ولیمہ

          اُن دنوں میں بھی کہ جب ٹیبل کرسیاں سجا کر بڑے کَرّو فر کے ساتھ ولیمے کئے جاتے تھے ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا ولیمہ شب زِفاف کے دوسرے دن سنّت کے مطابق ایسی سادَگی کے ساتھ ہوا تھا کہ جس طرح نیاز وغیرہ میں کھلایا جاتا ہے اسی طرح مہمانوں کو دَری پر بٹھا کر تھالوں میں کھانا پیش کیا گیا ۔ کھانے میں صرف اَکْنی چاول (یعنی پلاؤ )اور زَردہ تھا۔ مکان کے بیرونی حصّے پر کسی قسم کی مُروّجہ سجاوٹ یا بَرقی قُمقُموں (Electric Lights)کی ترکیب نہ تھی ، ٹیپ پر صِر ف نعتیں چلانے کا سلسلہ تھا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  مزید فرماتے ہیں کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ شبِ زِفاف کی صبح مسجد نور میں (جہاں امامت



[1]   حکایتیں اور نصیحتیں ، ص۵۴۱ بتغیر قلیل

[2]   سیرتِ مصطفےٰ ، ص٢٤٨

[3]   اسلامی زندگی ، ص۵۱



Total Pages: 74

Go To