Book Name:Islami Shadi

میں لیا تو کس قدر سادَگی سے ولیمہ کیا کہ حضرت سیّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے : شہنشاہِ دوعالم ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خیبر و مدینہ کے درمیان (صَہباء کے مقام پر)اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا صفیّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زِفاف کی وجہ سے تین راتوں تک قیام فرمایا ، میں مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت میں بُلالایا ، ولیمہ میں نہ روٹی تھی اور نہ ہی گوشت ، صرف یہ ہوا کہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دسترخوان بچھانے کا حکم دیا ، دسترخوان بچھا دئیے گئے تو اُن پر کھجوریں ، پنیر اور گھی رکھ  دیا گیا(ان چیزوں کے ذریعے دعوتِ ولیمہ ہوئی)۔ ([1])اسی طرح جب حضرت سیّدتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے حرم شریف میں لیا تو ایک پیالہ دُودھ سے صحابہ ٔ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی دعوتِ ولیمہ فرمائی۔ ([2])بعض ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کا ولیمہ تو پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صرف دو مُدْ جَو شریف کے ذریعہ کردیا تھا (حالانکہ دو مُد آدھا صاع یعنی صرف سوا دوسیرہوتا ہے)۔ ([3]) 

شہنشاہِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا سب سے بڑا ولیمہ                             

      آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے تمام ولیموں میں سے جو سب سے بڑی دعوتِ ولیمہ فرمائی وہ بھی ایک بکری کے گوشت سے زیادہ کی نہ تھی جیساکہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جتنا بڑا ولیمہ حضرت سیّدتُنا زینب بنتِ جَحْش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو حِبالۂ عَقْد میں لینے کے موقع پر کیا تھا اتنا بڑا ولیمہ تمام ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ  میں سے کسی کا بھی نہیں تھا اور وہ بڑا ولیمہ پوری ایک بکری کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ ([4])

خاتونِ جنّت اور حضرت علی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا نکاح و ولیمہ

          اسی سادَگی سے شہنشاہِ دوعالم ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی شہزادی کی شادی کی۔ چنانچہ حضرت علّامہ عبدُ المصطفی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : 2 ہجری میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سب سے پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کی شادی خانہ آبادی حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ ہوئی۔ یہ شادی انتہائی وَقَار اور سادَگی کے ساتھ ہوئی۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو حکم دیا کہ وہ حضرات ابوبکر صِدّیق و عمر و عثمان و عبد الرحمن بن عوف (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن)اور دوسرے چند مہاجرین و انصار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن  کو مدعو کریں ۔ چنانچہ جب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن  جمع ہو گئے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خُطبہ پڑھا اور نکاح پڑھا دیا۔ ([5]) ولیمے کے بارے میں علّامہ شُعیب حرِیْفیش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  لکھتے ہیں : سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس رکھے ہوئے دَراہم میں سے دس دِرہم حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیئے اور ارشاد فرمایا : اِن سے کھجور ، گھی اور پنیر خرید لو۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں یہ چیزیں خرید کرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چمڑے کا ایک دسترخوان منگوایا اور آستینیں چڑھاکر کھجوروں کوگھی میں مسلنے لگے اور پھر پنیر کے ساتھ اس طرح ملایا کہ وہ حلوہ بن گیا ، پھر ارشاد فرمایا : اے علی!جسے چاہو بلا لاؤ۔ میں مسجد گیا اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے کہا :  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعوت قبول کریں ۔ سب لوگ اُٹھ کر چل دیئے۔ جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ