Book Name:Islami Shadi

(2) اور اگر دینے والا اپنی دلی رضامندی وخوشی سے دے تو اس صورت میں لینا  جائز ہے لیکن اس میں اچھی طرح غور کر لینا چاہیے کیونکہ اکثر آدمی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ دوسرا شخص خوشی سے دے رہا ہے حالانکہ وہ دل سے راضی نہیں ہوتااور اس طرح مسلمان کا مال اسکی رضامندی کے بغیر باطل طریقے سے کھانا لازم آتا ہے جو کہ حرام ہے ۔

اور پھر ان رُسوم میں ایک بہت بڑی خرابی ان میں ہونے والی بے پردگی بھی ہے کہ عموماً سرمہ ڈالنے ، دودھ پلائی یا جوتا چھپائی وغیرہ رسموں میں اجنبی و غیر محرم مردو خواتین کا اختلاط ہوتا ہے اور ہر ایک بخوبی جانتا ہے کہ ایسے مواقع پرعورتوں کے نصف بازو ، ننگے سر ، کھلے بال ، کپڑے باریک وتنگ وغیرہ انتہائی بے پردگی پرمشتمل ہوتے ہیں جوکہ قرآن وحدیث کی روسے حرام ہیں ۔

واللہ اعلم ورسولہ  عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

محمدھاشم خان العطاری المدنی

07رجب المرجب1433ھ28مئی2012ء       

غیر شَرْعی حرکات پر اظہارِ دَرد مندی

شیخ طریقت ، امیر اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ شادی کی رُسومات میں کی جانے والی غیرشَرْعی حرکات پر کُڑھن کا اظہار کرتے ہوئے اور ان کے دُور رَس منفی اثرات کے متعلِّق  جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : غورکیجئے!کون سا “ جوڑا “ آج سکھی ہے؟کم و بیش ہرجگہ خانہ جنگی ہے ، کہیں ساس بہو میں مورچا بندی ہے تو کہیں نَنْد اور بھاوج میں ٹھیک  ٹھاک ٹھنی ہے۔ بات بات پر  “ روٹھ مَن “ کا سلسلہ ہے۔ ایک دوسرے پر جادو ٹونے کروانے کے اِلزامات ہیں ، یہ سب کہیں شادیوں میں غیر شَرْعی حرکات کانتیجہ تو نہیں ؟ کیوں کہ آج کل جس کے یہاں شادی کا سلسلہ ہوتا ہے وہاں اتنے گُناہ کئے جاتے ہیں کہ اُن کا شُمار نہیں ہوسکتا۔ ہاتھ جوڑ کر میری مدنی التجاء ہے کہ گھر کے جملہ افراد دو رکعت نمازِ توبہ ادا کریں اور گڑگڑا کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور آئندہ گُناہوں سے بچنے کا عہد کریں ۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شادی اور اسلامی تعلیمات

اسلامی تعلیمات کے مطابق شادی کیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نکاح نہ صرف سنّت ہے بلکہ انسان کے فطری تقاضوں کی تکمیل کیلئے اسلام کی عطا کردہ عظیم نعمت بھی ہے  اس لئے ہمیں چاہئے کہ نکاح کا اسلامی انداز اختیار کریں اور شادی بیاہ کے تمام تَر معاملات کو عین اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں ، نہ غیر شَرْعی رَسمیں ادا کریں اور نہ ہی فضول خرچیاں کریں ، لڑکا لڑکی یا ان کے گھر والوں میں سے کوئی بھی دوسرے فریق سے بنگلہ ، گاڑی ، موٹر سائیکل ،  جائداد ، سونا ، بھاری جہیز ، حق مہر کے نام پر خطیر رقم ، برات یا ولیمے میں مُتَعَدَّد اقسام کے کھانوں اور ان کیلئے عظیمُ الشان شادی ہال کے اِہْتِمام وغیرہ کا ہرگز ہرگز مُطالَبہ نہ کرے ، شادی سنّت ادا کرنے کی نیّت سے ہی کی جائے ، اسے کاروبار کرنے یا راتوں رات مالدار ہونے کے ارمان پورے کرنے اور اپنی لالچی طبیعت کی تسکین کا ذریعہ نہ بنایا جائےنیز نُمود و نُمائش کے بجائے سنّت کے مطابق نہایت سادَگی سے نکاح کیا جائے ، ایسے ہی سادہ انداز میں سنّت کی ادائیگی کی نیّت سے ولیمہ کردیا جائے ، نکاح کے موقع پر مناسب مہر مُقرَّر کیا جائے ، والدین اپنی بچّی کو اپنی بِساط کے مطابق جو تھوڑا بہت جہیز دیں اُسے کافی سمجھا جائے ، جہیز کی مقدار یا اس میں شامل چیزوں کے معیار پر نکتہ چینی اور منفی تبصرہ آرائی نہ کی جائے ، اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو نہ صرف شادی بیاہ کی بہت سی پریشانیاں دُور اور شادی نہایت سَستی  و آسان ہوجائیگی بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے فضل و کرم سے باعثِ برکت بھی ثابت ہوگی۔ جیساکہ

 



[1]   تذکرۂ امیر اہلسنّت ، قسط : ۳ ، ص۶۸ تا ۶۹



Total Pages: 74

Go To