Book Name:Islami Shadi

اور مزید آٹھ دن کے بعد تین طَلَاق کا پرچہ آپہنچے اور ساری خُوشیاں دھول میں مِل جائیں یا دُھوم دَھام سے ناچ گانوں کی دَھماچَوکڑی میں بیاہی ہوئی دُلہن9 ماہ کے بعد پہلی ہی زَچگی میں موت کے گھاٹ اُتر جائے یا خُدانخواستہ دُولھا شادی سے پہلے یا چند ہی روز کے بعد دُنیا سے چل بسے کیوں کہ موت کہہ کر نہیں آتی۔ ایک دردناک واقعہ پیش خدمت ہے۔

نیا دُولھا انتقال کر گیا

ایک شخص جس کا گھر قبرستان کے قریب تھا ، اُس نے اپنے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں رات ناچ رنگ کی محفِل قائم کی لوگ ناچ کُود اور دھما چَوکڑی میں مشغول تھے کہ قبرستان کاسنّاٹا چِیرتی ہوئی دو عَرَبی اشعار پر مشتمل ایک گرجدار آواز گُونج اُٹھی ، اُن اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے : “ اے ناچ رنگ کی ناپائیدار لذّتوں میں منہمک ہونے والو!موت تمام کھیل کُود کو خَتْم کردیتی ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہم نے دیکھے جو مَسَرَّتوں اور لذّتوں میں غافِل تھے موت نے انہیں اپنے اہل وعیال سے جُدا کردیا۔ “ راوی کہتے ہیں : خُدا کی قسم !چند دنوں کے بعد دُولھا کا انتقال ہوگیا۔ ([1])

آہ!موت کی آندھی آئی اور ٹھٹھا مسخریوں ، دھما چَوکڑیوں ، سنگیت کی دُھنوں ، چُٹکُلوں اورقہقہوں شادمانیوں اور مَسَرَّتوں ، مچلتے ارمانوں اور خُوشی کی تمام راحت سامانیوں کو اُڑا کر لے گئی۔ دُولھا میاں موت کے گھاٹ اترگئے اور خُوشیوں بھرا گھر دیکھتے ہی دیکھتے ماتم کَدہ بن گیا۔

تم خُوشی کے پھول لوگے کب تلک                   تم یہاں زندہ رہوگے کب تلک

اس حکایت کو سن کر شادیوں میں بے ہودہ فنکشن برپا کرنے والوں اور ان میں شریک ہوکر گانے باجے کی دُھنوں پر ہنس ہنس کر خُوشی کے نعرے بلند کرنے والوں کی آنکھیں کُھل جانی چاہئیں ۔ یاد رکھئے !حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے منقول ہے : جوہنس ہنس کر گُناہ کریگا وہ روتا ہوا جہنّم میں داخل ہوگا۔ ([2])

کھڑے ہو کر کھانے کا رَواج

شادی بیاہ میں ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر کھانے  اور بوفے سِسٹم کا رَواج بھی ہے اگرچہ گزشتہ کچھ سالوں کی بہ نسبت شادی میں کھڑے ہوکر کھانے میں کافی حد تک کمی آچکی ہے مگر چونکہ بوفے سِسٹم کا رَواج عام ہے اس لئے اب بھی بعض لوگ بوفے کے کنارے کھڑے ہوکر کھاتے دکھائی دیتے ہیں ، حالانکہ کھڑے ہوکر کھانا پینا خلافِ سنت ہے ، حدیثِ پاک میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رسولُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑے ہوکر پانی پئے۔ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں : ہم نے پوچھا : کہ  کھڑے ہوکر کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : یہ کھڑے ہو کر پینے سے بھی زیادہ بُرا ہے۔ ([3])لہٰذا شادی بیاہ کے علاوہ عام حالات میں بھی کھڑے ہوکر کھانے پینے سے گُریز کرنا چاہئے۔

بوفے سِسٹم کی خرابیاں

جہاں تک بوفے سِسٹم کا تعلُّق ہے تو اس کا رَواج بھی شادیوں سے ختم ہونا چاہئے کیونکہ یہ شَرْعی  اور اَخلاقی خرابیوں کا سبب بنتا ہے۔ مثلاً ٭ بوفے سِسٹم کی ایک خرابی بدتہذیبی ہے یعنی جن شادیوں میں بوفے سِسٹم ہوتا ہے اُن میں کھانا شروع ہوتے ہی لوگ معیوب اور بے ڈھنگے انداز میں کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، عُموماً مہذّب نظر آنے والے بھی جن غیر مہذّب حرکتوں کا مُظاہَرہ کرتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ٭دوسری خرابی حق تلفی ہے ، لوگ کھانا حاصل کرنے کے لئے حد سے بڑھی ہوئی بےصبری کی وجہ سے بوفے پر پہلے سے کھڑے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور کمالِ ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اُن سے پہلے ہی سامنے والے کے ہاتھ سے چمچا جَھپَٹ کر خود کھانا نکال لیتے ہیں  اور یوں حق تلفی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ٭تیسری خرابی ایذائے مُسْلِم  ہے کہ بعض اوقات لوگ بے صبری ، چھینا جھپٹی اور جلد بازی کی وجہ سے دوسروں کے نئے نویلے یا صاف سُتھرے کپڑے داغدار کر بیٹھتے ہیں ، کبھی کبھار تو سالن سے



[1]   موسوعة ابن ابی دنیا ، کتاب الاعتبار    الخ ، ۶ / ۳۱ ،  حـدیث : ۴۱

[2]   مکاشـفة القلوب ، الباب السادس والثـمانون فی الضحـک    الخ  ، ص۲۷۵

[3]   مسلم ، کتاب الاشربة ،  باب کراھـیة الشرب قائما ، ص۸۶۲ ، حـدیث : ۵۲۷۵



Total Pages: 74

Go To