Book Name:Islami Shadi

حضرت سَیِّدُنا سفیان بن عیینہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حدیث پر عمل کرنے کی غرض سے اپنے لیے دین اور بوجھ کی کمی کو اختیار کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  دین کے ساتھ ساتھ میرے لیے عزّت و مال بھی جمع کردیا۔ ([1]) 

دین داروں میں شادی کے فوائد

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر میاں بیوی دونوں ہی دیندار ہوں گے تو روحانی سُکون حاصل ہونے کے بہت زیادہ اِمکانات ہیں کیونکہ وہ دونوں خوفِ خُدا کی وجہ سے ایک دوسرے کے حُقوق کا خاص خیال رکھیں گے ، ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کریں گے ، ایک دوسرے کے مقام و مرتبے کا پاس رکھیں گے ، ایک دوسرے کو گالی گلوچ نہیں کریں گے ، اپنی نظروں کی حفاظت کریں گے ، غیروں کے بجائے اپنے رفیقِ حیات ہی کیلئے زینت اختیار کریں گے ، ایک دوسرے ہی سے اپنی دلچسپی وابستہ رکھیں گے ، دینی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاوُن کریں گے ، حلال کی کم آمدنی پر بھی ہنسی خُوشی گزر بسر کریں گے ، میکے میں سُسرال کی بُرائی اور غیبت سے بچیں گے اور دینی نُقوش پر بچّوں کی بہترین تَرْبِیَت کریں گے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مسجد میں نکاح کرنا مستحب ہے

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نکاح کے آداب میں سے ہے کہ نکاح مسجد میں کیا جائے اور پھر مسجد چونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا گھر ہے اور نکاح ایک بھلا کام ہے ، مسجد میں جو بھی بھلائی کا کام کیا جائے اُس میں خیر و برکت شامل ہوجاتی ہے ، لہٰذا مسجد میں نکاح کرنا بہتر ہے۔ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عَلانیہ طور پر مسجد میں نکاح کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا : اَعْلِنُوْا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِى الْمَسَاجِدِ یعنی نکاح علَی الْاِعْلان کِیا کرو اور اسے مسجد میں مُنعَقِد کِیا کرو۔ ([2])

      مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : فقہاء فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تا کہ نکاح کا اعلان بھی ہوجائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہوجائے ، نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کیلئے عبادت خانہ یعنی مسجد موزُوں (یعنی مناسب)ہے۔ ([3])

مسجد کے تقدُّس کا خیال رکھئے

      یاد رکھیئے!مسجد میں نکاح کرنا مستحب عمل ضرورہے لیکن اس کیلئے مسجد میں بھاگنا دوڑنا ، چیخ پُکار کرنا ، ہنسی مذاق کرنا یا کسی بھی طرح مسجد کا تَقَدُّس پامال کرنا شَرْعاً دُرُست نہیں ۔ صَدْرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد اَمجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : مسجد میں عقدِ نکاح کرنا مستحب ہے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ بوقتِ نکاح شور و غُل اور ایسی باتیں جو احترامِ مسجد کے خِلاف ہیں نہ ہونے پائیں ، لہٰذا اگر معلوم ہو کہ مسجد کے آداب کا لحاظ نہ رہے گا تو مسجد میں نکاح نہ پڑھوائیں ۔ ([4])

شادی کی مُروّجہ رَسْموں کی خرابیاں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دورِ حاضر میں بہت سے معاملات کی طرح شادی کے پُرمَسَرَّت موقع پر بھی کئی ایسی رُسُومات و خرافات  رائج ہو چکی ہیں جو شریعت سے ٹکراتی اور غضبِ جبّار عَزَّ  وَجَلَّ  کا سبب بنتی ہیں ۔ لہٰذا مختلف مقامات پر رائج ایسی رُسُومات میں سے چند ایک مشہور رَسْموں کو کسی قدر تفصیل سے بیان کیا جارہا ہے تاکہ مسلمان ان سے آگاہ ہو کر خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں ۔ ان خِلافِ شرع رُسُومات و خرافات میں سے  ایک “ ناچ رنگ “ کی محفل  اور “ رَت جگا “ بھی ہے۔

 



[1]   حلیة الاولیاء ،  سفیان بن عیینة ، ۷ /  ۳۴۰ ، رقم : ۱۰۷۸۰

[2]   ترمذی ، کتاب النکاح ،  باب ما جاء فی اعلان النکاح ، ۲ /  ۳۴۶ ، حدیث : ۱۰۹۱

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۹

[4]   بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، ۳ / ۴۹۸



Total Pages: 74

Go To