Book Name:Islami Shadi

      رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اِذَا خَطَبَ اِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوْهُ اِلَّا تَفْعَلُوْا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الاَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيْضٌ یعنی جب تمہارے پاس ایسے لڑکے کا رشتہ آئے جس کی دین داری اور اَخلاق تمہیں پسند ہوں تو اُس سے (اپنی بیٹی کا)نکاح کرو ، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنے اور لمبے چوڑے فساد برپا ہو جائیں گے۔ ([1])

      مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : لڑکی کے لیے دیندار ، عادات و اطوار کا دُرُست لڑکا مل جائے تو محض مال کی ہَوَس میں اور لکھ پتی کے انتظار میں جوان لڑکی کے نکاح میں دیر نہ کرو ، اگر مالدار کے انتظار میں لڑکیوں کے نکاح نہ کیے گئے تو اِدھر تو لڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی اور اُدھر لڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے جس سے بدکاری پھیلے گی اور لڑکی والوں کو ننگ و عار کا سامنا کرنا پڑے گا ، نتیجہ یہ ہوگا کہ خاندان آپس میں لڑیں گے ، قتل و غارت ہوں گے ، جس کا آج کل ظُہور ہونے لگا ہے ۔ ([2])

لڑکی میں بھی دین داری ہی کو ترجیح دیجئے

      یونہی لڑکی میں بھی دین داری مدِّنظر رکھنے کیلئے ارشاد فرمایا : عورت سے نکاح چار باتوں  کی وجہ سے کیا جاتا ہے (یعنی نکاح میں  ان کا لحاظ ہوتا ہے) : (1) مال ، (2) حَسَب نَسَب ، (3) خُوبصورتی اور (4) دین ، (پھر فرمایا)تم دین والی کو ترجیح دو۔ ([3])

      جو لوگ عورت کا صرف حسن یا مالداری یا عزّت و منصب پیشِ نظر رکھتے ہیں وہ اس حدیثِ پاک پر غور کر لیں ، سرکارِ دوعالم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو کسی عورت سے اُس کی عزّت کے سبب نکاح کرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کی ذِلّت میں زِیادَتی کرے گا اور جو کسی عورت سے اُس کے مال کی وجہ سے نکاح کرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کی محتاجی ہی بڑھائے گا اور جو کسی عورت کے حَسَب (یعنی خاندانی مرتبے )کی وجہ سے نکاح کرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اُس کے کمینے پن میں زِیادَتی کرے گا۔ ([4])

      آئیے!شادی کے معاملے میں دیندار عورت کے اِنتخاب کی برکت سے متعلِّق ایک ایمان افروز واقعہ سُنتے ہیں ۔

دیندار عورت سے شادی کی برکت

      مشہور مُحدِّث اور کُوفے کے عظیم بُزرگ حضرت سَیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : ہم چار بھائی تھے ، محمد ، عمران ، ابراہیم اور میں خود۔ محمد نے جب شادی کا ارادہ کیا تو حَسَب ونَسَب میں رغبت کے سبب اُس نے ایسی عورت سے شادی کی جو خاندان میں اُس سے بڑھ کر تھی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ   نے اُس کو ذِلّت میں مبُتلا کردیا۔ عمران نے مال کی رغبت میں ایسی عورت کا اِنتخاب کیا جو اس سے زیادہ مالدار تھی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے اُسے فقر و تنگدستی میں مبُتلا کردیا۔ میں ان دونوں کے معاملے میں حیران و پریشان ہو کر رہ گیا۔ میرے پاس مَعْمَر بن راشِد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے تو میں نے اُن کے سامنے اپنے بھائیوں کا قِصّہ بیان کیا اور اُن سے اِس کے بارے میں مشورہ لیا تو انہوں نے مجھے حضرت سَیّدُنایحییٰ بن جَعْدَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اور اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی یہ احادیث بیان کیں :

      حضرت سَیّدُنا یحییٰ بن جَعْدَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے رِوایت ہے کہ نبیِ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : چار وُجوہات کی بنا پر عورت سے شادی کی جاتی ہے۔ دین ، حَسَب نَسَب ، مال اورخُوبصورتی لیکن تم دین والی عورت کو ترجیح دینا۔

          حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ برکت نشان ہے : برکت کے اعتبار سے سب سے عظیم عورت وہ ہے جس (سےنکاح کرنے ) میں بوجھ کم ہو۔

 



[1]   ترمذی ، کتاب النکاح ، باب اذاجاءکم من ترضـون    الخ ، ۲ /  ۳۴۴ ، حـديث : ۱۰۸۶

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۸ ملتقطا

[3]   بخاری ،  کتاب النکاح ،  باب الاکفاء فی الدین ،  ۳ / ۴۲۹ ،  حـدیث :  ۵۰۹۰

[4]   معجم الاوسـط ، ۲ / ۱۸ ، حـدیث : ۲۳۴۲



Total Pages: 74

Go To