Book Name:Islami Shadi

سُلوک کِیا ، کیا اُن کا صلہ یہی ہے کہ اُن کے احسان و بھلائی کو فراموش کردیا جائے ، اَولاد کی خُوشی دیکھنے سے متعلِّق اُن کی تمنّاؤں کا خون کردیا جائے ، اُن کی عزّت کو اپنی خُوشی و پسند کی بھینٹ چڑھا دیا جائے ، اُنہیں مُعاشَرے کے طعنوں کی زَد پر چھوڑ دیا جائے اور اُن کی دل آزاری کرکے بڑھاپے میں اُن کی اَشکباری کا سامان کیا جائے؟ حدیثِ پاک میں ہے : رِضَا اللہِ   فِيْ رِضَا الْوَالِدَيْنِ وَسَخَطُ اللہِ  فِيْ سَخَطِ الْوَالِدَيْنِ یعنی والدین کی رِضا میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رِضا ہے اور ان کی ناراضی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی ناراضی ہے۔ ([1])

شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے گھر والوں کی مرضی کے خِلاف شادی کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا اُن کا ایسا کرنا مناسب ہے؟ تو آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جواب ارشاد فرمایا : ہرگز مناسِب نہیں بلکہ اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہو تو(بعض صورتوں میں )یہ نکاح ہی باطِل ٹھہرے گا! بِالفَرض نکاح مُنعَقِد ہو گیا تب بھی کورٹ  میں جا کر شادی کرنے والوں سے ماں باپ کی سخت دل آزاری (اور خاص طور پر لڑکی کے والدین کی ذِلّت و رُسوائی)ہوتی ہے ، اہلِ خاندان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگ جاتااور دیگر بھائی بہنوں کی شادیوں میں رُکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ نیز ایسا کرنے سے اکثر غیبتوں ، تہمتوں ، عیب دریوں ، بدگمانیوں اور دل آزاریوں وغیرہ وغیرہ گُناہوں کا دروازہ کُھل جاتا ہے لہٰذا ہرگز ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہئے۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

والدین بچّوں کی خُوشی کا خیال رکھیں

والدین کو بھی چاہئے کہ اَولاد کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھیں اور جہاں وہ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتے ہیں اگر وہاں اُن کی شادی کرنے میں کوئی شَرْعی ، خاندانی یا مُعاشَرَتی خرابی نہ ہو تو بلاوجہ اُنہیں اپنی مرضی کے مُطابق شادی کرنے پر مجبور نہ کریں بلکہ جہاں بچپن  سے جوانی تک اُن کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھا ، اُن کے مستقبل کو بہتر بنانے کی مختلف تدابیر اختیار کیں ، اُنہیں ہر مشکل و پریشانی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی وہیں شادی کے معاملے میں بھی اُن کی خُوشی کا خیال رکھیں اور اُن کی خُوشی کے برخِلاف اپنی مرضی اُن پر مسلط کرکے ہرگز  ہرگز اُن کیلئے اِزْدِواجی زندگی کی ناہمواری و ناخُوشگواری کا باعث نہ بنیں ، کیونکہ جب بچّے عشقِ مجازی کی آفت میں مبُتلا ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں والدین کا اُن کے ساتھ زور زبردستی کرنا یا تو اُن کو باغی بننے اور انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور کردیتا ہے یا پھر وہ اپنی مرضی سے چُھپ کر شادی کرنے کے بجائے مجبوراً اپنے والدین کی مرضی پر سمجھوتا کرلیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ لمحے بھر کا سمجھوتا عمر بھر کا پچھتاوا بن کر رہ جاتا ہے بلکہ بارہا خود والدین بھی اپنے کئے پر حسرت و ندامت میں مبُتلا ہوتے ہیں ۔ لہٰذا والدین کو چاہئے کہ اگر اُنہیں اپنے بچّوں کی ترجیحات اور کسی کے ساتھ ان کی قلبی وابستگی کا اندازہ ہو جائے تو خُدارا انتہائی حکمتِ عملی سے کام لیں بلکہ ہو سکے تو شادی کے معاملے میں اپنی اَولاد کی رِضامندی ضرور معلوم کرلیں ۔   

بچّوں کی مرضی معلوم کرنی چاہئے

حضرت سَیِّدُنا ذَکوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے سُنا کہ وہ فرما رہی تھیں : میں نے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا : جب گھر والے لڑکی کا نکاح کریں تو اُس سے اجازت لینی چاہئے یا نہیں ؟رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ہاں ، اجازت لینی چاہئے۔ میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ!لڑکی کو شرم آئے گی!تو رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اُس کا خاموش ہوجانا اُس کی اجازت ہے۔ ([3]) ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا : بیوہ کا  نکاح اُس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اُس سے اجازت



[1]   شعب الایـمان ، باب فی بـر الوالدین ، ۶ / ۱۷۷ ، حـدیث : ۷۸۳۰

[2]   پردے کے بارے میں سوال جواب ، ص ۳۵۷بتغیر قلیل

[3]   مسلم ، کتاب النکاح ، باب استئذان الثیب   الخ ، ص۵۶۷ ، حـدیث : ۳۴۷۵



Total Pages: 74

Go To