Book Name:Islami Shadi

سعادت سمجھنا  چاہئے۔ آئیے! اِس بارے میں حضورِ اکرم نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا طرزِ عمل مُلاحَظہ کیجئے :

نکاح کا معاملہ بڑوں کے سِپُرد فرما دیا

حضورِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جب حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا پیغامِ نکاح پہنچا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس رشتہ کو اپنے چچا ابُو طالب اور خاندان کے دوسرے بڑے بوڑھوں کے سامنے پیش فرمایا۔ سارے خاندان والوں نے نہایت خُوشی کے ساتھ اِس رشتہ کو منظور کر لیااور نکاح کی تاریخ مُقرَّر ہوئی اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت ِحمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ابُو طالب وغیرہ اپنے چچاؤں اور خاندان کے دوسرے افراد اور شُرفائے بنی ہاشم و سردارانِ مُضَر کو اپنی بَرات میں لے کر حضرت بی بی خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور نکاح ہوا۔ ([1])

 نکاح میں والدین کی رِضا

اسی طرزِ عمل کو ہمارے بُزرگوں نے اختیار فرمایا جیساکہ حضرت سَیِّد احمد سُلطان سخی سَرْوَر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  جو کہ بہت باکرامت اور حسنِ اَخلاق کے پیکر ولی تھے۔ حاکمِ شہر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے حسنِ اَخلاق اور کرامات سے مُتأثّر ہوکر کہنے لگا “ میری بیٹی کو اپنے نکاح میں قبول فرما لیجئے۔ “ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : میں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر یہ نکاح نہیں کروں گا۔ چنانچہ والدین کی رِضا سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا نکاح حاکمِ شہر کی صاحبزادی سے ہوگیا۔ ([2])

والدین کی رضا کے خلاف شادی کے نقصانات

لہٰذا لڑکے یا لڑکی کا اپنی مرضی سے والدین اور خاندان والوں سے چُھپ کر نکاح کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں بلکہ بعض صورتوں میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے سے نکاح مُنعَقِد ہی نہیں ہوتا([3])اور اگر کسی صورت میں نکاح شَرْعاً دُرُست ہوبھی جائے تو اس میں بہت سے نقصانات ہیں ۔ آئیے اس کےچند نقصانات مُلاحَظہ کیجئے :

٭پہلا یہ کہ شادی میں  ماں باپ بہن بھائی اور رشتے داروں کے شریک ہونے کی صورت میں جو خوشی حاصل ہوتی ہے اُس سے محرومی۔

٭دوسرا یہ کہ جس شادی میں والدین کی رِضا شامل نہیں ہوتی وہ شادیاں عموماً نا کام ہو جاتی ہیں ۔

٭تیسرا یہ کہ اپنوں سے تعلُّق ختم ہوجاتا ہے اور لڑکا لڑکی زندگی میں اکیلے ہو جاتے ہیں نہ والدین وغیرہ اُن سے مِلنا گوارا کرتے ہیں اور نہ وہ والدین وغیرہ سے مِلنا چاہتے ہیں اور چاہتے بھی ہیں تو جُرأَت نہیں کرپاتے۔

٭چوتھا یہ کہ اگر میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوجائے تو اُن کے پاس اپنے بڑوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہوتا جو صُلح کروائے۔

٭پانچواں یہ کہ میاں بیوی کو کسی ناخُوشگوار موقع پر ایک دوسرے سے اِس قسم کے طعنے سُننے کو ملتے ہیں کہ تم اپنے ماں باپ کے نہ ہوئے تو میرے کیا ہوگے وغیرہ۔

٭چھٹا یہ کہ اُن کا یہ اِقْدام اُن کے چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے مصیبت بن جاتا ہے اور اُن کے رشتوں کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔

٭ساتواں اور سب سے بڑھ کر نقصان یہ ہے کہ والدین کی مرضی کے خِلاف شادی کرنا اُن کی اَذِیّت  و ناراضی کا باعث  بنتا ہے۔

اپنی خُوشی کے لئے والدین کو رُسوا نہ کیجئے

لہٰذا اگر کوئی ایسا کرچکا ہے تو اُسے چاہئے کہ فوراً کسی سُنّی صحیحُ العقیدہ مُسْتَنَدْ عالمِ دین یا مُفتی صاحب  سے نکاح کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں شَرْعی رہنمائی  لے نیز کسی بھی طرح والدین کو راضی کرے اور اُنہیں منا لے اور اگر خُدانخواستہ کوئی لڑکا لڑکی ایسا انتہائی قدم اُٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اُنہیں بھی چاہئے کہ ایسا نہ کریں اور سنجیدگی سے اس بارے میں غور کریں کہ بچپن سے جوانی تک والدین نے ان کے ساتھ جن محبتوں ، شفقتوں ، ہمدردیوں اور قربانیوں کا



[1]   سیرتِ مصطفے ، ص۹۳ بتغیر قلیل

[2]   تذکرۂ اولیائے عرب و عجم ، ص۳۴۶مفہوما

[3]   اس کی تفصیل جاننے کیلئے شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب “ پردے کے بارے میں سوال جواب “ کے صفحہ 357 تا 384 کا مطالعہ کیجئے۔



Total Pages: 74

Go To