Book Name:Islami Shadi

باکانہ انداز اور اِس پر خاندان کےبڑوں کا نرم رَوَیّہ دیکھ کر اِسی کو صحیح سمجھتے ہیں اور آنے والے وقت کیلئے اپنےلئے بھی اِسی کا تصوُّر قائم کرلیتے ہیں ۔ ٭دوسری خرابی یہ ہے کہ اس میل جول کا جو حقیقی مقصد ہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو سمجھ لیں وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میں وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے گُفتار و کردار میں انتہائی تکلّف برتتے ، مَصْنوعی رکھ رکھاؤ کا مُظاہَرہ کرتے ، اپنے آپ کو حقیقت سے زیادہ اچھا ظاہر کرتے اورمنگیتر کے مِزاج پر پورا اُترنے کے لئے اپنے مِزاج کو نظر انداز کرتے ہیں ، نتیجتاًوہ دونوں ایک دوسرے کو جتنا سمجھ پاتے ہیں اُس کی حیثیّت سَراب کی سی ہوتی ہے جو دیکھنے میں کچھ اور حقیقت میں کچھ اَور ہوتا ہے ، شادی کے بعد جب اِس تکلّف اور مَصْنوعی رکھ رکھاؤ کی دیوار گرتی ہے تو معاملات میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ بالفرض ایسا نہ ہو تب بھی بہرحال نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے میل جول رکھنے یا بات چیت کرنے کی شَرْعاً اجازت نہیں ۔ ٭ تیسری خرابی یہ ہے کہ یہ میل جول بسا اوقات منگنی ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے کیونکہ اِس میل جول کی وجہ سے بے تکلّفی بڑھ جاتی ہے ، ایک دوسرے کا لحاظ کم ہوجاتا ، باہمی بَحْث و مُباحَثہ بڑھ جاتا ہے ، اکثر اَن بَن ہوجاتی ہے اور نتیجہ منگنی ٹوٹنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں بلکہ آئے دن اس طرح کے واقعات ہمارے قُرب و جَوار میں پیش آتے رہتے ہیں ۔

          اب ذرا سوچئے کہ ہمارے مُعاشَرے میں منگنی ایک بار ٹوٹ جائے تو بالعموم دونوں کیلئے اور بالخصوص لڑکی کیلئے کس قدر مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اوّل تو خاندان اور جان پہچان والوں کی طرف سے رشتے نہیں آتے اور اگر کوئی رشتہ آہی جائے تو منگنی ٹوٹنے کا پتا چلنے پر دل میں طرح طرح کے اندیشے پیدا ہوجاتے ہیں جس کی بناء پر کھوج لگائی جاتی ہے کہ لڑکی کی منگنی آخر کس وجہ سے ٹوٹی تھی ، اب اگر نیا رشتہ لانے والے ، لڑکے والوں کے پاس جاکر پوچھیں کہ آپ نے اپنے لڑکے کی منگنی اُن کی لڑکی سے کیوں ختم کی تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارا لڑکا یا ہم اچھے نہیں تھے ، وہ تو لڑکی اور اُس کے گھر والوں ہی کی بُرائی بیان کریں گے اور بالفرض واضح طور پر کسی قسم کی بُرائی بیان نہ کریں بلکہ ڈھکے چُھپے لفظوں میں صرف اتنا کہہ دیں کہ “ ہم آپ کو کیا بتائیں ، بس یوں سمجھیں کہ اللہ نے ہمیں بچالیا “ تو شاید اتنا سُن کر بھی وہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ اُن کے ہاں رشتہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ یونہی اگر کوئی ان لوگوں کو یہ حقیقت بتا دے کہ اس لڑکی کی تو منگنی ہو چکی تھی اور یہ تو اپنے منگیتر کے ساتھ بڑی بے تکلّف تھی ، ہنسی مذاق کرتی تھی ، گھومنے پھرنے جاتی تھی وغیرہ وغیرہ  تو ایسی صورت میں بھی غالباً وہ لوگ لڑکی والوں سے رشتہ کرنا پسند نہ کریں ۔ الغرض منگنی کے بعد لڑکے لڑکیکے میل جول رکھنے کی صورت میں خُدانخواستہ منگنی ٹوٹ جائے تو اس کا خَمیازہ زیادہ تَر لڑکی اور اس کے گھر والوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بہرحال منگنی ٹوٹے یا برقرار رہے ہر صورت میں یہ میل جول شریعت کی خِلاف ورزی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ناراضی کا سبب تو ہے ہی لہٰذا اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پسند کی شادی اور رشتے کے

انتخاب سے متعلق مدنی پھول

بڑوں کے فیصلوں کو اپنی پسند پر فوقیت دیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل بدقسمتی سے تعلیم و مُلازَمت اور دیگر بہت سے معاملات میں مرد و عورت کے مخلوط نظام ، پردے کے فُقدان ، بے شرمی و بے حیائی کے فَروغ  نیز موبائل اور انٹر نیٹ کے غلط استعمال وغیرہ کی وجہ سے دوسری بہت سی بُرائیوں کے علاوہ ایک اور بُرائی ہمارے مُعاشَرے میں بہت عام ہوتی جارہی ہے اور وہ ہے لڑکے اور لڑکی کا باہم دوستی کرنا اور ایک دوسرے کو رفیقۂ حیات (Life Partner) کے طور پر پسند کرنا ۔ اِس کی وجہ سے بعض اوقات وہ دونوں اپنے والدین اور بُزرگوں کے فیصلوں کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ یاد رکھئے!اسلام میں نکاح مرد و عورت کے درمیان قائم ہونے والا ایک مُقَدَّس رشتہ ہے ، جس دین نے اس مُقَدَّس رشتے کو قائم کرنے میں عاقل بالغ مرد و عورت کو اختیار دیا ہے اسی نے والدین کے ادب و احترام ، اُن کے ساتھ مہربانی و حسنِ سُلوک اور جائز معاملات میں اُن کی فرمانبرداری کا درس بھی دیا ہے ، لہٰذا شادی کے معاملے میں بھی اپنی پسند  کو ترجیح دینے کے بجائے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِین کے  نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بڑوں کے فیصلوں کو فوقیت دینا اپنے لئے باعثِ



Total Pages: 74

Go To